نئی دہلی: دہلی ہائی کورٹ نے جامعہ ملیہ اسلامیہ کے کئی طلبا کی معطلی پر روک لگا دی ہے، یہ طلبا پیشگی اجازت کے بغیرکیمپس میں احتجاجی مظاہرہ کررہے تھے۔ عدالت نے جامعہ انتظامیہ کو معاملے کوحل کرنے کے لئے یونیورسٹی حکام اورطلبا کے نمائندوں پر مشتمل کمیٹی وائس چانسلرکی نگرانی میں بنانے کا حکم دیا ہے۔ جسٹس دنیش کمارشرما نے یونیورسٹی کواس معاملے پررپورٹ پیش کرنے کی ہدایت بھی دی۔
قابل ذکرہے کہ یہ فیصلہ جامعہ ملیہ اسلامیہ کے چارطلبا کے ذریعہ داخل کی گئی عرضی پر سماعت کے بعد آیا ہے، جس میں یونیورسٹی پراکٹرکے ذریعہ انہیں معطل کرنے اور کیمپس میں ان کے داخلہ پر روک لگانے کے حکم کوچیلنج دیا گیا تھا۔ طلبا کے وکیل نے عدالت کے سامنے دعویٰ کیا کہ وہ پُرامن احتجاج کررہے تھے، جامعہ انتظامیہ کی کارروائی غلط ہے۔ طلبا کے مستقبل سے کھلواڑ کیا جا رہا ہے، اس لئے ان کی معطلی واپس لی جانی چاہئے۔
طلبا نے احتجاج کی اجازت نہیں لی تھی: جامعہ انتظامیہ
جامعہ ملیہ اسلامیہ کی نمائندگی کررہے ایڈوکیٹ امت ساہنی اور کسلے مشرا نے ترک دیا کہ طلبا نے احتجاجی مظاہرہ کرنے کے لئے یونیورسٹی انتظامیہ سے اجازت نہیں لی تھی۔ انتظامیہ نے یہ بھی دعویٰ کیا کہ مظاہرین نے کیمپس کی جائیداد کونقصان پہنچایا۔ وکلاء نے ذکر کیا کہ طلبا کینٹین کے باہرسو رہے تھے، جس کی اجازت نہیں تھی۔
12 گھنٹے بعد طلبا کو کیا گیا تھا رہا
گزشتہ ماہ فروری میں یونیورسٹی کیمپس میں احتجاجی مظاہرہ کررہے کچھ طلبا کو دہلی پولیس نے مبینہ طور پر حراست میں لیا تھا۔ مظاہرین نے دعویٰ کیا کہ کچھ طلبا گھنٹوں تک لاپتہ رہے، جس کی وجہ سے احتجاجی مظاہرہ مزید بڑھ گیا تھا۔ حالانکہ تقریباً 12 گھنٹے کے بعد سبھی طلبا کو رہا کردیا گیا۔
واضح رہے کہ جامعہ ملیہ اسلامیہ کے کچھ طلبا طلبا کے ساتھ ہوئی نا انصافی سے متعلق احتجاج کررہے تھے، جس کے بعد انہیں انتظامیہ نے شوکاز نوٹس جاری کیا تھا اور پھر میں انہیں معطل کردیا گیا تھا، جس کے بعد طلبا اورانتظامیہ کے درمیان لڑائی مزید تیز ہوگئی تھی اور دونوں طرف سے الزام تراشی اورجوابی الزام تراشی کا سلسلہ شروع ہوگیا تھا۔ بعد میں کیمپس میں ان طلبا کے داخلے پربھی پابندی لگا دی گئی تھی اورمعاملہ مزید بڑھ گیا تھا۔ انتظامیہ کی طرف سے بھی پریس ریلیزجاری کرکے طلبا کوکیمپس کی جائیداد کو نقصان پہنچانے کا الزام لگایا گیا تھا۔