قومی

Delhi HC Order: پی ایم مودی کے ساتھ اپنی مبینہ ڈیپ فیک تصویر سوشل میڈیا پر نشر ہونے والے معاملے میں دہلی ہائی کورٹ نے دیا یہ حکم

وزیر اعظم نریندر مودی کے ساتھ اپنی مبینہ ڈیپ فیک تصویر سوشل میڈیا پر پوسٹ اور شیئر کیے جانے کے بعد دھمکیاں ملنے کا الزام لگانے والی ایک خاتون کو دہلی ہائی کورٹ نے پولیس سکیورٹی فراہم کرنے کی ہدایت دی ہے۔ جسٹس گریش کٹھپالیا نے جمعہ کو اس معاملے کی سماعت کرتے ہوئے یہ حکم دیا۔ عدالت نے کاکروچ جنتا پارٹی سے وابستہ سورو داس، ابھیجیت ڈِپکے، آشو توش رنکا اور رتنا سنگھ کو بھی نوٹس جاری کرتے ہوئے جواب طلب کیا ہے۔ خاتون کی جانب سے عدالت میں الزام لگایا گیا کہ ایک احتجاج کے دوران ان کی تصویر کو وزیر اعظم نریندر مودی کے ساتھ قابل اعتراض انداز میں تبدیل کرکے سوشل میڈیا پلیٹ فارمز پر پھیلایا گیا۔ خاتون کا دعویٰ ہے کہ اس کے بعد سے انہیں مسلسل دھمکیاں مل رہی ہیں۔

میٹا کو 24 گھنٹے کے اندر مواد ہٹانے کی ہدایت

سماعت کے دوران دہلی ہائی کورٹ نے میٹا کے زیر انتظام سوشل میڈیا پلیٹ فارمز سے متعلقہ قابل اعتراض مواد ہٹانے کی ہدایت دی۔ عدالت نے کہا کہ معاملہ صرف ایک خاتون تک محدود نہیں ہے بلکہ اس میں ملک کے وزیر اعظم سے متعلق مواد بھی شامل ہے۔ عدالت نے پولیس سے بھی معاملے میں حساسیت کے ساتھ کارروائی کرنے کو کہا ہے۔ خاتون کے وکیل نے عدالت کو بتایا کہ شکایت درج کرانے کے باوجود پولیس کی جانب سے خاطر خواہ کارروائی نہیں کی گئی اور خاتون کو دھمکیاں مل رہی ہیں۔عدالت نے کاکروچ جنتا پارٹی سے وابستہ 4 افراد کو نوٹس جاری کرکے 2 ہفتے میں جواب طلب کیا ہے۔ تاہم عدالت کے سامنے لگائے گئے الزامات پر ان افراد کا حتمی موقف اس کارروائی کے دوران سامنے آنا باقی ہے۔

دہلی پولیس سے ایکشن ٹیکن رپورٹ طلب

عدالت نے دہلی پولیس کو ہدایت دی کہ درج ایف آئی آر کے سلسلے میں اب تک کی گئی کارروائی کی ایکشن ٹیکن رپورٹ ایک ہفتے کے اندر داخل کی جائے۔ اس کے علاوہ خاتون کو فراہم کی گئی سکیورٹی سے متعلق رپورٹ 2 ہفتے کے اندر عدالت میں پیش کرنے کو کہا گیا ہے۔ عدالت نے یہ بھی نوٹ کیا کہ درخواست گزار خاتون نے فی الحال اپنا پتہ ظاہر نہیں کیا ہے اور موجودہ حالات میں اسے عدالت نے مناسب قدم قرار دیا۔

احتجاج کے دوران تصویر شیئر کرنے کا الزام

سماعت کے دوران خاتون کی جانب سے الزام لگایا گیا کہ کاکروچ جنتا پارٹی کے احتجاج کے دوران بعض کارکنوں نے وزیر اعظم کے ساتھ ان کی تصویر کو مبینہ طور پر تبدیل کرکے سوشل میڈیا پر شیئر کیا۔ خاتون کا کہنا ہے کہ اسی کے بعد انہیں دھمکیاں ملنا شروع ہوئیں۔ واضح رہے کہ دہلی ہائی کورٹ اس سے قبل بھی جعلی اور مصنوعی ذہانت سے تیار کیے گئے قابل اعتراض مواد کو سوشل میڈیا سے ہٹانے سے متعلق معاملات میں احکامات جاری کر چکی ہے۔ اس معاملے میں فی الحال عدالت نے خاتون کی سکیورٹی، مبینہ قابل اعتراض مواد کو ہٹانے اور پولیس کی کارروائی سے متعلق ہدایات دی ہیں۔ معاملے میں نامزد افراد کو جواب دینے کا موقع دیا گیا ہے، اس لیے ان پر لگائے گئے الزامات کو حتمی طور پر ثابت شدہ حقائق کے طور پر نہیں دیکھا جا سکتا۔

بھارت ایکسپریس اردو۔

Abul Kalam

Recent Posts

Sanjay Mishra Autobiography: ’میں زیادہ پڑھا لکھا نہیں، پھر بھی لکھوں گا…‘ نیشنل ایوارڈ یافتہ سنجے مشرا لا رہے ہیں اپنی خودنوشت

’ہم سیکھتے سیکھتے رہ گئے‘ کے ذریعے اداکار سنجے مشرا اپنے ذاتی تجربات، جدوجہد اور…

1 hour ago

Sikkim Rimbi Landslide: سکّم میں بارش کا قہر، ملبے کی زد میں گھر اور سڑکیں، 32 مکانات اب بھی خطرے میں

گلیشنگ ضلع کے رمبی گاؤں میں دیر رات بڑا لینڈ سلائیڈ، 2 مکانات مکمل طور…

2 hours ago