منی پور میں ایک بار پھر تشدد کے واقعات کے درمیان مرکزی حکومت نے پورے ریاستی علاقے کو مزید چھ ماہ کے لیے ’بدامنی زدہ علاقہ‘ قرار دے دیا ہے۔ آرمڈ فورسز (اسپیشل پاورز) ایکٹ، 1958 یعنی AFSPA کی دفعہ 3 کے تحت جاری نوٹیفکیشن کے مطابق یہ حکم یکم اکتوبر 2026 سے اگلے چھ ماہ تک نافذ رہے گا، جب تک اسے اس سے پہلے واپس نہ لے لیا جائے۔ تاہم، ریاست کے پانچ اضلاع میں 13 پولیس تھانوں کے دائرہ اختیار میں آنے والے علاقوں کو اس اعلان سے مستثنیٰ رکھا گیا ہے۔ مرکزی حکومت نے منی پور میں قانون و نظم کی صورت حال کا دوبارہ جائزہ لینے کے بعد یہ فیصلہ کیا ہے۔
منی پور کے ان علاقوں کو AFSPA سے مستثنیٰ رکھا گیا
نوٹیفکیشن کے مطابق امپھال ویسٹ، لیمپھیل، سٹی، سنگجامئی، پٹسوئی اور وانگوئی کے علاقوں کو اس حکم سے باہر رکھا گیا ہے۔ اس کے علاوہ امپھال ایسٹ کے پورومپٹ، ہیئنگانگ اور ایرل بانگ پولیس تھانوں، تھوبل ضلع کے تھوبل پولیس اسٹیشن، بشنوپور ضلع کے بشنوپور اور نمبول پولیس اسٹیشنوں اور کاکچنگ ضلع کے کاکچنگ پولیس اسٹیشن کے دائرہ اختیار والے علاقے بھی ’بدامنی زدہ علاقہ‘ قرار دینے کے حکم سے مستثنیٰ رہیں گے۔ مرکزی حکومت نے اس سے قبل بھی 23 مارچ 2026 کو نوٹیفکیشن جاری کرتے ہوئے یکم اپریل 2026 سے چھ ماہ کے لیے ان علاقوں کو چھوڑ کر پورے منی پور کو ’بدامنی زدہ علاقہ‘ قرار دیا تھا۔ اب ریاست میں قانون و نظم کی صورت حال کا دوبارہ جائزہ لینے کے بعد اس حکم میں مزید چھ ماہ کی توسیع کی گئی ہے۔
ناگالینڈ اور اروناچل پردیش میں بھی AFSPA کی توسیع
مرکزی حکومت نے منی پور کے علاوہ ناگالینڈ اور اروناچل پردیش کے بعض علاقوں میں بھی AFSPA کو یکم اکتوبر سے مزید چھ ماہ کے لیے بڑھا دیا ہے۔ ناگالینڈ کے دیماپور، نیولینڈ، چوموکیدیما، مون، کیفائرے، نوکلاک، فیک، پیرین اور میلوری اضلاع میں AFSPA نافذ رہے گا۔ اس کے علاوہ کوہیما، موکوکچونگ، لونگلینگ، ووکھا اور ژونہیبوٹو اضلاع کے 21 پولیس تھانوں کے دائرہ اختیار والے علاقے بھی نوٹیفکیشن میں شامل ہیں۔ اروناچل پردیش میں تیرپ، چانگلانگ اور لونگ ڈنگ اضلاع میں AFSPA کی مدت بڑھائی گئی ہے۔ آسام کی سرحد سے متصل نامسائی ضلع کے نامسائی، مہادیوپور اور چوکخم پولیس تھانوں کے دائرہ اختیار والے علاقے بھی اس کے دائرے میں رہیں گے۔
کامجونگ میں چار افراد کے قتل کے بعد پھر کشیدگی
تشدد اور تنازع سے طویل عرصے سے متاثر منی پور میں حال ہی میں ایک بار پھر تشدد کا واقعہ پیش آیا۔ جمعہ کو کامجونگ ضلع میں مشتبہ شدت پسندوں نے مبینہ طور پر چار افراد کو گولی مار کر ہلاک کر دیا۔ میانمار کی سرحد کے قریب واقع دور دراز پیلونگ گاؤں میں ایک سنسان مقام سے چاروں افراد کی لاشیں برآمد ہوئیں۔ لاشوں پر گولی لگنے کے نشانات پائے گئے۔ منی پور کے وزیر اعلیٰ وائی کھیم چند سنگھ نے واقعے کی مذمت کرتے ہوئے کہا کہ معاشرے میں تشدد کی ایسی کارروائیوں کے لیے کوئی جگہ نہیں ہے اور انہیں برداشت نہیں کیا جائے گا۔ انہوں نے متاثرہ خاندانوں سے گہری تعزیت کا اظہار بھی کیا۔
بھارت ایکسپریس اردو۔
آئی بی سی کے ذریعے ممبئی کے ٹیک ٹین بی کے سی اور بھارت نگر…
عدالت نے میٹا کو مبینہ قابل اعتراض تصویر ہٹانے کی ہدایت دی، کاکروچ جنتا پارٹی…
’ہم سیکھتے سیکھتے رہ گئے‘ کے ذریعے اداکار سنجے مشرا اپنے ذاتی تجربات، جدوجہد اور…
نیویارک میں اقوام متحدہ کی جنرل اسمبلی (UNGA) کے 81 ویں اجلاس کے دوران، وزیر…
گلیشنگ ضلع کے رمبی گاؤں میں دیر رات بڑا لینڈ سلائیڈ، 2 مکانات مکمل طور…
ایسوسی ایشن فار پروٹیکشن آف سول رائٹس نے تمام ڈسٹرکٹ مجسٹریٹس کو بیک وقت تحریری…