تصور کیجیے، کسی شخص نے اپنی زندگی کی سب سے بڑی جمع پونجی گھر خریدنے میں لگا دی، ہر ماہ EMI بھی ادا ہوتی رہی، لیکن برسوں گزرنے کے باوجود گھر کا خواب پورا نہ ہو سکا۔ خریدار بلڈر کے دفتر کے چکر لگاتے رہے اور ہر بار انہیں صرف نئی تاریخ ملتی رہی۔ کسی کا بچہ بڑا ہو گیا، کسی کی ملازمت بدل گئی، لیکن اپنے گھر کی چابی کا انتظار ختم نہیں ہوا۔ ایسے ہزاروں گھر خریداروں کے لیے اب صورتحال تبدیل ہوتی دکھائی دے رہی ہے۔ دیوالا اور دیوالیہ پن سے متعلق ضابطہ (IBC) کے ذریعے ایک لاکھ 40 ہزار سے زیادہ خریداروں کو رکے ہوئے رئیل اسٹیٹ پروجیکٹس سے نکلنے کا راستہ ملا ہے۔ کئی پروجیکٹس میں دوبارہ تعمیر شروع ہو چکی ہے اور متعدد خریداروں کو ان کے گھروں کا قبضہ بھی مل چکا ہے۔ اس تبدیلی میں اڈانی رئیلٹی کا کردار بھی نمایاں طور پر سامنے آیا ہے۔ کمپنی نے IBC کے تحت مالی بحران کا شکار کئی پروجیکٹس اپنے ہاتھ میں لیے اور ان میں نئی سرمایہ کاری کرکے تعمیراتی کام دوبارہ شروع کیا۔ لوڑھا سمیت کئی دیگر بڑے ڈیولپرز نے بھی ایسے رکے ہوئے پروجیکٹس سنبھالے ہیں۔
اڈانی رئیلٹی نے کیسے بدلی پروجیکٹس کی صورتحال؟
ممبئی کے باندرہ-کرلا کمپلیکس (BKC) کا ٹیک ٹین BKC اس کی ایک اہم مثال ہے۔ اصل ڈیولپرز کی مالی مشکلات کے باعث یہ پروجیکٹ 2020 میں رک گیا تھا۔ اس میں 176 اصل MHADA خاندانوں سمیت سیکڑوں گھر خریدار پھنسے ہوئے تھے۔ NCLT کی ریزولوشن کارروائی کے بعد اڈانی رئیلٹی نے اس پروجیکٹ کو اپنے ہاتھ میں لیا۔ کمپنی نے اسے مکمل کرنے کے لیے ایک ہزار کروڑ روپے سے زیادہ کی سرمایہ کاری کا عزم ظاہر کیا، جس میں 400 کروڑ روپے سے زیادہ کی نئی سرمایہ کاری شامل تھی۔ اس کے علاوہ تقریباً 1200 کروڑ روپے کی تعمیراتی فنانسنگ بھی حاصل کی گئی۔ تعمیراتی کام دوبارہ شروع ہونے کے بعد اب تک 903 خریداروں کو تیار گھروں کا قبضہ دیا جا چکا ہے۔
بھارت نگر پروجیکٹ میں بھی دوبارہ شروع ہوئی تعمیر
ممبئی کے بھارت نگر سلم ری ہیبلیٹیشن پروجیکٹ میں بھی اڈانی رئیلٹی نے HDIL کے دیوالیہ ہونے کے بعد طویل عرصے سے رکے منصوبے کو اپنے ہاتھ میں لیا۔ یہاں تعمیراتی کام دوبارہ شروع ہو چکا ہے اور تقریباً ایک ہزار خاندانوں کے لیے بازآبادکاری کے گھر تعمیر کیے جا رہے ہیں۔ راحت کی اس تصویر کے باوجود مسئلہ اب بھی بڑا ہے۔ ماہرین کے مطابق IBC کے تحت رئیل اسٹیٹ سے متعلق 553 معاملات سامنے آئے ہیں، جن سے تقریباً 2.5 لاکھ گھر خریدار وابستہ ہیں۔ ان میں سے تقریباً 17 فیصد معاملات کا حل نکالا جا چکا ہے۔ دوسری جانب 221 معاملات میں تقریباً 1.1 لاکھ خریدار اب بھی اپنے گھر اور پروجیکٹ کے حل کا انتظار کر رہے ہیں۔ جن پروجیکٹس کا حل نکالا جا چکا ہے، ان میں تقریباً 84 ہزار کروڑ روپے کی سرمایہ کاری شامل بتائی جاتی ہے۔ وہیں تقریباً 65 ہزار کروڑ روپے ایسے پروجیکٹس میں پھنسے ہوئے ہیں، جن کا حل ابھی باقی ہے۔
دوسرے شہروں کے پروجیکٹس میں بھی لوٹی رفتار
IBC کی کارروائی کے ذریعے ملک کے دوسرے شہروں میں بھی کئی رکے ہوئے پروجیکٹس دوبارہ پٹری پر آئے ہیں۔ گروگرام کے ہلز-77 پروجیکٹ کے دوبارہ شروع ہونے کے بعد 724 گھر خریداروں کو قبضہ مل سکا۔ اسی طرح سینٹر کورٹ پروجیکٹ کو ریزولوشن کے عمل کے ذریعے حاصل کیا گیا اور بعد میں اسے اوکیوپینسی سرٹیفکیٹ بھی مل گیا۔ اس سے 300 سے زیادہ گھر خریداروں کو فائدہ پہنچا۔ رئیل اسٹیٹ ماہر وشال بھارگوا نے NCLT کو رکے ہوئے پروجیکٹس میں پھنسے گھر خریداروں کے لیے ایک اہم ذریعہ قرار دیا۔ ان کے مطابق کوئی بھی ریزولوشن پلان مکمل طور پر بے عیب نہیں ہوتا، تاہم NCLT نے گھر خریداروں کا اعتماد بحال کرنے میں مدد کی ہے۔ ان کا کہنا ہے کہ اڈانی اور لوڑھا جیسے بڑے ڈیولپرز کی جانب سے مالی بحران کا شکار پروجیکٹس خریدنے، انہیں دوبارہ شروع کرنے اور خریداروں کو گھر سونپنے سے دیوالیہ پن کا عمل بعض صورتوں میں طویل قانونی جنگ کے مقابلے میں زیادہ عملی راستہ ثابت ہوا ہے۔
گھر کی چابی کے لیے اب بھی جاری ہے انتظار
2018 میں IBC کے تحت گھر خریداروں کو مالی قرض دہندہ (Financial Creditor) کا درجہ دیا گیا تھا۔ اس کے بعد رکے ہوئے ہاؤسنگ پروجیکٹس کو مکمل کرانے کے لیے IBC ایک اہم قانونی راستہ بن گیا۔ تاہم، سب سے بڑا سوال اب بھی یہی ہے کہ گھر خریداروں کو ان کے گھروں کی چابیاں آخر کتنی جلد مل سکیں گی۔ قانونی تنازعات، اپیلوں اور NCLT سے ریزولوشن پلان کی منظوری کے بعد اسے زمین پر نافذ کرنے میں لگنے والا وقت کئی مرتبہ پورے عمل کو طویل بنا دیتا ہے۔ ڈیولپرز کے سامنے بھی کم چیلنجز نہیں ہیں۔ کئی معاملات میں انہیں وہی گھر ان قیمتوں کے مطابق مکمل کرنا پڑتے ہیں جو 5 سے 10 سال پہلے طے کی گئی تھیں، جبکہ اس دوران تعمیراتی سامان، مزدوری اور قرض کی لاگت میں نمایاں اضافہ ہو چکا ہوتا ہے۔
بھارت ایکسپریس اردو۔
عدالت نے میٹا کو مبینہ قابل اعتراض تصویر ہٹانے کی ہدایت دی، کاکروچ جنتا پارٹی…
AFSPA کے تحت یکم اکتوبر سے نافذ ہوگا حکم، 5 اضلاع کے 13 پولیس تھانوں…
’ہم سیکھتے سیکھتے رہ گئے‘ کے ذریعے اداکار سنجے مشرا اپنے ذاتی تجربات، جدوجہد اور…
نیویارک میں اقوام متحدہ کی جنرل اسمبلی (UNGA) کے 81 ویں اجلاس کے دوران، وزیر…
گلیشنگ ضلع کے رمبی گاؤں میں دیر رات بڑا لینڈ سلائیڈ، 2 مکانات مکمل طور…
ایسوسی ایشن فار پروٹیکشن آف سول رائٹس نے تمام ڈسٹرکٹ مجسٹریٹس کو بیک وقت تحریری…