بین الاقوامی

Iranian President Masoud Pezeshkian: ’نہ سر جھکائیں گے، نہ گھٹنے ٹیکیں گے‘، اقوام متحدہ میں ٹرمپ کی دھمکی پر مسعود پزشکیان کا دوٹوک جواب

ایران کے صدر مسعود پزشکیان نے اقوام متحدہ کی جنرل اسمبلی کے 81ویں اجلاس سے خطاب کرتے ہوئے امریکہ اور صدر ڈونالڈ ٹرمپ کی حالیہ دھمکی آمیز بیان بازی پر سخت ردعمل ظاہر کیا۔ انہوں نے کہا کہ امریکی دباؤ، پابندیوں اور دھمکیوں کے باوجود ایران اپنے موقف سے پیچھے نہیں ہٹے گا۔ پزشکیان نے کہا کہ ایران پر جتنا زیادہ دباؤ ڈالا جائے گا، ایرانی عوام کا مزاحمت کا جذبہ اتنا ہی مضبوط ہوگا۔ انہوں نے زور دیتے ہوئے کہا کہ ایران کسی بھی قیمت پر اپنا سر نہیں جھکائے گا۔

مذاکرات کے لیے تیار، لیکن دھمکیاں قبول نہیں

ایرانی صدر نے واضح کیا کہ ان کا ملک سفارت کاری اور مذاکرات کے لیے تیار ہے، تاہم بات چیت برابری کی بنیاد پر ہونی چاہیے۔ ان کے مطابق ایران مکالمہ چاہتا ہے، لیکن طاقت کے استعمال یا دھمکی کی زبان قبول نہیں کرے گا۔ پزشکیان نے کہا کہ دنیا کو دوبارہ بالادستی اور طاقت کی سیاست کی طرف نہیں لوٹنا چاہیے۔ ان کے مطابق اگر عالمی نظام کو پائیدار بنانا ہے تو اس کی بنیاد امن اور قانون پر ہونی چاہیے، نہ کہ دھمکیوں اور پابندیوں پر۔

جوہری پروگرام پر بھی ایران کا موقف واضح

اپنے خطاب میں مسعود پزشکیان نے ایران کے جوہری پروگرام کا بھی دفاع کیا۔ انہوں نے کہا کہ ایران کا جوہری پروگرام مکمل طور پر پرامن مقاصد کے لیے ہے اور ان کا ملک اپنے حقوق سے پیچھے نہیں ہٹے گا۔ ایرانی صدر نے کہا کہ جوہری ہتھیار ایران کے ایجنڈے میں شامل نہیں ہیں، لیکن پرامن جوہری ٹیکنالوجی کے استعمال کے حق پر کسی قسم کی پابندی قبول نہیں کی جائے گی۔ ان کے مطابق یہ ایران کی ترقی اور پیش رفت کا حق ہے۔ پزشکیان نے اسرائیل پر بھی تنقید کرتے ہوئے کہا کہ دنیا کی توجہ اصل مسئلے سے ہٹائی جا رہی ہے۔ انہوں نے دعویٰ کیا کہ اسرائیل کے پاس جوہری ہتھیار موجود ہیں، جبکہ بین الاقوامی نگرانی ایران کے جوہری پروگرام پر کی جا رہی ہے۔

غزہ کا مسئلہ بھی اقوام متحدہ میں اٹھایا

ایرانی صدر نے اپنے خطاب میں غزہ کی صورت حال کا بھی ذکر کیا۔ انہوں نے کہا کہ فلسطین آج بھی عالمی برادری کے ضمیر پر ایک کھلا زخم ہے اور کئی دہائیوں سے اقوام متحدہ کی جانب سے منظور کی گئی قراردادیں بھی تشدد اور تنازع کو روکنے میں کامیاب نہیں ہو سکیں۔ پزشکیان کے مطابق بمباری، محاصرے اور فوجی کارروائیوں کے ذریعے مزاحمت کے جذبے کو ختم نہیں کیا جا سکتا۔ انہوں نے کہا کہ جب تک قبضے اور تنازع کی صورت حال برقرار رہے گی، مزاحمت بھی کسی نہ کسی شکل میں جاری رہ سکتی ہے۔

مسعود پزشکیان کا یہ بیان ایسے وقت سامنے آیا ہے جب امریکہ اور ایران کے درمیان ممکنہ معاہدے کے حوالے سے پسِ پردہ سفارتی رابطوں کی خبریں بھی سامنے آ رہی ہیں۔ امریکی صدر ڈونالڈ ٹرمپ نے بھی حال ہی میں ایران سے متعلق اعلیٰ سطحی مذاکرات کا ذکر کرتے ہوئے کہا تھا کہ ملاقات اچھی رہی اور آئندہ پیش رفت کے امکانات موجود ہیں۔

بھارت ایکسپریس اردو۔

Abdul Awwal

Recent Posts

Nitin Navin seeking his own identity in the shadow of Yogi: یوگی کے سائے میں اپنی سیاسی شناخت تلاش کرتے نتن نوین

بھارتیہ جنتا پارٹی (بی جے پی) کے قومی صدر نتن نوین آج گورکھپور پہنچے، جہاں…

10 hours ago

Mumbai Airport Flights: ممبئی سے نوی ممبئی منتقل ہوں گی 14 بین الاقوامی پروازیں، غیر ملکی ایئرلائنز نے ’ڈیسٹنیشن بیسڈ‘ منصوبے کی حمایت کی

ممبئی ایئرپورٹ کے ٹرمینل-1 کی ازسرنو تعمیر کے پیش نظر 14 بین الاقوامی مقامات کے…

11 hours ago

PM Modi Critical Minerals Processing Scheme: اب بھارت میں ہی ہوگا لیتھیم اور نکل کی پروسیسنگ، مودی کابینہ نے 2,814 کروڑ روپے کی اسکیم کو دی منظوری

مرکزی حکومت نے ’اہم معدنیات کی پروسیسنگ کو فروغ دینے کے لیے سرمایہ جاتی اخراجات…

11 hours ago

PM Modi Calls Sharad Pawar Health Update: اسپتال سے ڈسچارج ہوئے شرد پوار، وزیر اعظم مودی نے آرام کرنے کا دیا مشورہ

وزیر اعظم نریندر مودی نے این سی پی (ایس پی) کے سربراہ شرد پوار کو…

12 hours ago