نئی دہلی: دہلی ہائی کورٹ نے پیر کے روز بڑے پیمانے پر سائبر فراڈ اور منی لانڈرنگ سے جڑے ایک سنسنی خیز معاملے میں دو چارٹرڈ اکاؤنٹنٹس کی پیشگی ضمانت (Anticipatory Bail) کی درخواست مسترد کر دی۔ عدالت نے کہا کہ ملزمان سے حراستی تفتیش نہایت ضروری ہے تاکہ اس سنگین جرم کی پوری تہہ تک پہنچا جا سکے۔ یہ معاملہ 100 کروڑ روپے سے زائد کے مشتبہ لین دین سے متعلق ہے۔ جسٹس گریش کتھپالیا نے ملزمان بھاسکر یادو اور اشوک کمار شرما کی درخواستیں خارج کرتے ہوئے کہا کہ وہ پریوینشن آف منی لانڈرنگ ایکٹ (PMLA) کی دفعہ 45 کے تحت طے شدہ لازمی ’’دوہری شرائط‘‘ (Twin Conditions) کو پورا کرنے میں ناکام رہے ہیں۔ عدالت نے کہا کہ موجودہ شواہد کی بنیاد پر یہ ماننے کی کوئی معقول وجہ نہیں کہ ملزمان بے قصور ہیں یا یہ کہ ضمانت ملنے کی صورت میں وہ مزید جرائم نہیں کریں گے۔ عدالت کے مطابق کیس کی نوعیت، رقم کی بھاری مقدار اور مبینہ نیٹ ورک کی پیچیدگی کو دیکھتے ہوئے حراستی تفتیش ناگزیر ہے۔ عدالت نے واضح کیا کہ اس معاملے میں منی لانڈرنگ کے الزامات انتہائی سنجیدہ اور منظم نوعیت کے ہیں، جن کی مکمل جانچ کے لیے ملزمان کا پولیس تحویل میں ہونا ضروری ہے۔
کیس کا پس منظر
یہ کیس انفورسمنٹ ڈائریکٹوریٹ (ED) کی جانب سے دائر کی گئی استغاثہ شکایت پر مبنی ہے، جس کی بنیاد ملک کے مختلف حصوں میں درج متعدد ایف آئی آرز ہیں۔ ان مقدمات میں سرمایہ کاری کے فراڈ، نوکری دلانے کے نام پر دھوکہ دہی اور دیگر سائبر جرائم شامل ہیں۔ ای ڈی کے مطابق ایک منظم بین الاقوامی مجرمانہ گینگ نے ہزاروں معصوم افراد کو دھوکہ دے کر بھاری رقم ہتھائی اور پھر اسے ہزاروں فرضی اور مِیول بینک اکاؤنٹس (Mule Accounts) کے ذریعے گھما پھرا کر بیرون ملک منتقل کیا، جہاں اس رقم کو ڈیجیٹل اور ورچوئل اثاثوں میں تبدیل کر دیا گیا۔ دہلی ہائی کورٹ نے اپنی آبزرویشن میں کہا کہ تفتیش کے دوران ملک کے مختلف بینکوں میں ہزاروں مشتبہ اکاؤنٹس کی نشاندہی کی گئی، جن کے ذریعے ڈیبٹ کارڈز، بیرون ملک نقد نکاسی اور ڈیجیٹل پلیٹ فارمز کے ذریعہ کالے دھن کو سفید کرنے کا منظم نیٹ ورک چلایا جا رہا تھا۔ عدالت نے اس پورے نظام کو ’’منی لانڈرنگ کا ایک وسیع اور پیچیدہ جال‘‘ قرار دیا، جس میں کئی سطحوں پر رقم کو گھمایا گیا تاکہ اصل ماخذ کو چھپایا جا سکے۔ عدالت کے مطابق جانچ سے یہ بات سامنے آئی ہے کہ چند موبائل نمبروں سے منسلک درجنوں بینک اکاؤنٹس کے ذریعے تقریباً 100 کروڑ روپے بیرون ملک منتقل کیے گئے، جن میں سے 65 کروڑ روپے سے زائد رقم براہ راست یا بالواسطہ طور پر ان دونوں ملزمان سے جڑی ہوئی ہے۔ الزام ہے کہ ملزمان دہلی میں قائم ایک ایسے گروہ کا حصہ تھے جو متعدد بینک اکاؤنٹس اور فرضی کمپنیوں کو کنٹرول کرتا تھا اور ان کے ذریعے ناجائز رقوم کو چھپانے اور منتقل کرنے کا کام کرتا تھا۔
دفاع کے دلائل اور عدالت کا رد
ملزمان کی جانب سے یہ مؤقف اختیار کیا گیا کہ یہ تمام لین دین قانونی ڈیجیٹل اثاثوں کی تجارت سے متعلق تھے، تاہم عدالت نے اس دلیل کو مسترد کرتے ہوئے کہا کہ شواہد واضح طور پر دھوکہ دہی سے حاصل کی گئی رقم کی منی لانڈرنگ کی طرف اشارہ کرتے ہیں۔ عدالت نے کہا کہ یہ معاملہ محض ڈیجیٹل لین دین تک محدود نہیں بلکہ اس کے پیچھے منظم مجرمانہ سرگرمیوں کا ایک وسیع نیٹ ورک کارفرما ہے۔
ای ڈی کے سنگین الزامات
ای ڈی کے وکلا انوراگ جین، وویک گرنانی، کنشک موریہ اور ستیہ پرکاش نے عدالت کو بتایا کہ ملزمان نے الیکٹرانک شواہد ضائع کیے، ڈیجیٹل ڈیوائسز کا ڈیٹا مٹایا، چھاپوں کے دوران ای ڈی افسران پر حملہ کیا اور یہاں تک کہ مقامی پولیس کو رشوت دے کر شکایات نمٹانے کی کوشش کی۔ ای ڈی نے مؤقف اختیار کیا کہ اگر ملزمان کو پیشگی ضمانت دی گئی تو وہ تفتیش کو شدید نقصان پہنچا سکتے ہیں۔ ملزمان نے شریکِ ملزموں کو ملنے والی ضمانت کی بنیاد پر برابری (Parity) کا مطالبہ کیا، تاہم عدالت نے اسے بھی مسترد کرتے ہوئے کہا کہ ان معاملات کے حقائق مختلف ہیں اور وہاں حراستی تفتیش کی ضرورت نہیں تھی۔ دہلی ہائی کورٹ کے اس فیصلے کے بعد اب انفورسمنٹ ڈائریکٹوریٹ کو ملزمان کی گرفتاری اور حراستی تفتیش کا راستہ صاف ہو گیا ہے۔ یہ فیصلہ ملک میں بڑھتے ہوئے سائبر جرائم اور منی لانڈرنگ کے خلاف سخت عدالتی مؤقف کی عکاسی کرتا ہے اور ایسے عناصر کے لیے واضح پیغام ہے کہ قانون کے شکنجے سے بچنا آسان نہیں۔
تقریباً 16 سال بعد اس مقابلے میں ہندوستان کو ملا تمغہ، سیما کماری نے 32:50.05…
معروف اداکار مشتاق خان 24 ستمبر کو ممبئی میں انتقال کر گئے۔ ممبئی کے ناناوتی…
کم عمری کی شادی جیسے سماجی مسئلے پر بننے والے مقبول ٹی وی سیریل نے…
بی جے پی کی 4 یاترائیں 117 اسمبلی حلقوں سے گزرتے ہوئے جالندھر میں ہوں…
بہار قانون ساز کونسل انتخابات کے لیے جن سوراج نے 3 امیدواروں کے ناموں کا…
نئی دہلی کے تین مورتی حائفہ چوک پر حائفہ فتح کی 108ویں سالانہ یادگاری تقریب…