قومی

ای وی ایم کے بجائے بیلٹ پیپرپرجانا ہوگا… سی ڈبلیو سی کی میٹنگ میں پرینکا گاندھی کا بڑا بیان

نئی دہلی: کانگریس پارٹی نے مہاراشٹر کی بڑی ہارکے بعد کانگریس ورکنگ کمیٹی (سی ڈبلیو سی) کی میٹنگ بلائی۔ اس میں پارٹی جنرل سکریٹری پرینکا گاندھی نے کہا کہ ہندوستان کوالیکٹرانک ووٹنگ مشین (ای وی ایم) کے بجائے روایتی بیلٹ پیپرپرلوٹنا چاہئے۔ اس کے ساتھ ہی انہوں نے واضح کیا کہ اس معاملے میں کوئی بیچ کا راستہ نہیں ہوسکتا، یا تو ای وی ایم ہویا پھربیلٹ پیر۔

ذرائع کے مطابق پارٹی لیڈر راہل گاندھی نے کہا کہ الیکشن کمیشن پراب سوال کھڑے کرنے ہوں گے، کیونکہ پورا انتخابی عمل شفاف نہیں ہے۔ انتخابی عمل میں شفافیت کویقینی بنانا بے حد ضروری ہے۔ انہوں نے کہا کہ جس طرح کانگریس نے جہاں ذات پات کی مردم شماری اور ریزرویشن کی حد کو50 فیصد سے بڑھانے پرواضح موقف اختیارکیا ہے، اسی طرح سنبھل کے معاملے جیسے دیگرمسائل پربھی مضبوط موقف اختیارکرنے کی ضرورت ہے۔

میٹنگ کے بعد وینوگوپال نے کہی یہ بڑی بات

میٹنگ کے بارے میں کسی وینوگوپال نے کہا کہ حل ہی میں ہوئے اسمبلی انتخابات پرتفصیل سے تبادلہ خیال کیا گیا۔ سی ڈبلیو سی نے پارٹی میں انتخابی کارکردگی سے اورتنظیمی موضوعات سے متعلق داخلی کمیٹیوں کی تشکیل کا فیصلہ لیا ہے، جو بلاک اور ضلع سطح پر پارٹی کی صورتحال کا جائزہ لیں گے۔ اس کے ساتھ ہی وینوگوپال نے کہا کہ سی ڈبلیوسی نے میٹنگ میں پارٹی کی حکمت عملی اورآئندہ انتخابات کے لئے تنظیمی تیاری کومضبوط کرنے کے لئے ضروری قدم اٹھانے کا عزم لیا گیا ہے۔

الیکشن کمیشن پر دباؤ ضروری

کانگریس نے فیصلہ کیا ہے کہ سیکورٹیزاینڈ ایکسچینج بورڈ آف انڈیا (سیبی) کی طرزپرالیکشن کمیشن کی جوابدہی کویقینی بنانے پرتوجہ دی جائے گی۔ پارٹی کا خیال ہے کہ منصفانہ انتخابات کویقینی بنانے کے لیے الیکشن کمیشن پردباؤ ڈالنا ضروری ہے۔ اس کے ساتھ ہی، سی ڈبلیو سی نے 1991 کے ‘پلیسیزآف ورشپ ایکٹ’ کے تحت اپنی وابستگی کا اعادہ کیا، جس کی بی جے پی کھلے عام خلاف ورزی کررہی ہے۔  اس کے علاوہ کانگریس نے مہاتما گاندھی کے صدر بننے کی 100ویں سالگرہ منانے کا فیصلہ کیا ہے۔ اس تقریب کا انعقاد دسمبرمیں بیلگاوی میں کیا جائے گا۔ یہاں پارٹی گاندھی جی کے تعاون کویاد رکھے گی۔ اس کے بعد بیلگاوی میں ایک توسیعی ایگزیکٹوکمیٹی کی میٹنگ اورایک بڑی ریلی کا بھی اہتمام کیا جائے گا، جس کا مقصد پارٹی کارکنوں اورعام لوگوں میں جوش پیدا کرنا ہے۔

جموں وکشمیرکے نتائج پرظاہرکی خوشی

جموں وکشمیر میں نیشنل کانفرنس-کانگریس اتحاد کو عوام کا بھروسہ ملنے پر بھی سی ڈبلیوسی نے خوشی کا اظہارکیا۔ حالانکہ پارٹی نے مانا کہ اپنی امیدوں کے مقابلے کارکردگی بہتر ہوسکتی تھی۔ وہیں، ہریانہ اور مہاراشٹر میں پارٹی کی کارکردگی سے متعلق بھی تشویش کا اظہارکیا گیا۔ ہریانہ میں کانگریس کوواضح جیت کی امید تھی، لیکن انتخابی بدعنوانیوں نے نتائج کومتاثرکیا۔ مہاراشٹرمیں پارٹی اورمہاوکاس اگھاڑی (ایم وی اے) اتحادیوں کی کارکردگی غیریقینی اورحیران کن رہی، جسے گہری سیاسی سازش کے طورپردیکھا گیا۔

Nisar Ahmad

Recent Posts

LK Advani admitted to Apollo Hospital: لال کرشن اڈوانی اسپتال میں داخل، سینے میں انفیکشن کی شکایت، اپولو اسپتال میں علاج جاری

بھارت کے سابق نائب وزیراعظم لال کرشن اڈوانی کو جمعہ کے روز اسپتال میں داخل…

4 hours ago

SC Allows PFI Chief Abubaker Treatment: پی ایف آئی کے سربراہ ابو بکر کو میکس اسپتال میں علاج کی اجازت، سپریم کورٹ کی ہدایت

عدالت نے علاج اور پولیس سکیورٹی کا پورا خرچ خود برداشت کرنے کو کہا، طبی…

5 hours ago

Gold-Sivler Price: سونے اور چاندی کی چمک پھر لوٹ آئی! بازار کھلتے ہی قیمتوں میں زبردست اچھال، جانیے تازہ قیمتیں

سونے کی درآمد میں بھاری گراوٹ کے باوجود گھریلو اور عالمی بازار میں تیزی، ملٹی…

6 hours ago