قومی

Maharashtra Politics: ادھوٹھاکرے بننے کی راہ پر ہیں ایکناتھ شندے؟ شرد پوار کے ساتھ مل کر بنا رہے ہیں بڑا پلان

مہاراشٹرمیں وزیراعلیٰ چہرے سے متعلق ابھی بھی تعطل بنا ہوا ہے۔ وزیراعلیٰ کے اعلان اور حکومت کی تشکیل سے متعلق ممبئی سے دہلی تک غوروخوض جاری ہے۔ ان سب کے درمیان کارگزار وزیراعلیٰ ایکناتھ شندے نے اچانک ستارا پہنچ کران قیاس آرائیوں کو ہوا دے دی ہے، جن میں ان کے ناراض ہونے کی قیاس آرائیاں کی جارہی ہیں۔ ایسے میں سوال اٹھ رہا ہے کہ کیا ایکناتھ شندے سابق وزیراعلیٰ ادھو ٹھاکرے بننے کی راہ پر ہیں۔ ایکناتھ شندے کی ناراضگی کی قیاس آرائیوں کو تب اور ہوا مل گئی جب جمعہ کو شرد پوار کے لیڈر جتیندر اوہاڑنے ان سے ملاقات کی۔ حالانکہ جتیندر اوہاڈ نے کہا کہ ان کی یہ ملاقات ذاتی کاموں کی وجہ سے تھی۔

اچانک ستارا کیوں روانہ ہوئے شندے؟

جتیندر اوہاڈ سے ملاقات کے بعد ایکناتھ شندے ستارا ضلع میں واقع اپنے گاؤں کے لئے روانہ ہوگئے۔ یہاں وہ دو دن تک رکیں گے۔ ایسے میں حکومت تشکیل سے متعلق کوئی میٹنگ ہونے کا امکان نہیں ہے۔ دوسری جانب، شندے گروپ کے رکن اسمبلی ادے سامنت نے بتایا کہ ایکناتھ شندے ناراض نہیں ہیں، ان کی طبیعت ٹھیک نہیں ہے، اس لئے وہ ستارا گئے ہیں۔

کیا ادھو ٹھاکرے کی طرح بی جے پی کو جھٹکا دیں گے شندے؟

مہاراشٹر میں ابھی جو سیاسی حالات بنتے ہوئے نظرآرہے ہیں، اس نے بی جے پی کو ایک بار پھر 2019 والی صورتحال میں لاکرکھڑا کردیا ہے۔ تب بی جے پی اورشیو سینا (غیرمنقسم) نے ساتھ مل کرالیکشن لڑا تھا اوراس الائنس نے واضح اکثریت حاصل کی تھی۔ تب بھی بی جے پی ریاست میں سب سے بڑی پارٹی بن کر سامنے آئی تھی۔ حالانکہ نتائج کے بعد وزیراعلیٰ عہدے سے متعلق ادھو ٹھاکرے اوربی جے پی میں رسہ کشی شروع ہوگئی ہے۔ ادھو ٹھاکرے نے دعویٰ کیا کہ ان سے الیکشن سے پہلے امت شاہ نے ڈھائی ڈھائی سال وزیراعلیٰ بننے کا وعدہ کیا ہے۔ حالانکہ بی جے پی کی طرف سے اس طرح کے کسی وعدے سے انکار کردیا۔

اس کے بعد ادھو ٹھاکرے نے بی جے پی سے دوری بنالی۔ تب اسی ناراضگی کا فائدہ شرد پوار نے اٹھایا۔ انہوں نے ادھو ٹھاکرے کے سامنے تجویز رکھ دی اور کانگریس کو بھی شیوسینا کی حمایت کرنے کے لئے منالیا۔ اس کے بعد شرد پوار کی این سی پی اور کانگریس کی حمایت سے ادھو ٹھاکرے وزیراعلیٰ بنے۔ حالانکہ ڈھائی سال بعد ہی شیوسینا میں بغاوت ہوگئی اور ایکناتھ شندے بی جے پی کی حمایت سے وزیراعلیٰ بنے۔

ایکناتھ شندے کے لئے آسان نہیں ہے راہ

2019 اور 2024 کے حالات میں صرف ایک فرق نظرآرہا ہے، وہ ہے نمبرگیم۔ اس بارمہاراشٹرمیں نہ تو 2019 جیسی صورتحال ہے اور نہ ہی پارٹیوں کے پاس نمبر۔ تب این سی پی (54 سیٹیں) اور شیوسینا (56 سیٹیں) دونوں غیرمنقسم تھیں۔ کانگریس کے پاس بھی 44 سیٹیں تھیں۔ ایسے میں یہ سارے حالات ادھو ٹھاکرے کے حق میں گئے اور وہ وزیراعلیٰ بن گئے۔ تاہم اس بار بی جے پی نے زبردست جیت حاصل کی۔ مہاراشٹرمیں جہاں اکثریت کے لئے 145 سیٹیں چاہئے، ان میں سے بی جے پی کے پاس اپنے دم پر 132 سیٹیں ہیں۔ ایسے میں اگرشندے کانگریس اوراین سی پی کے دونوں گروپوں کے ساتھ مل کرحکومت بنانے کی کوشش کرتے ہیں تواس کے لئے بھی انہیں ادھو ٹھاکرے کی حمایت کی ضرورت پڑے گی۔ حالانکہ یہ ممکن نظرنہیں آرہا ہے۔

Nisar Ahmad

Recent Posts

LK Advani admitted to Apollo Hospital: لال کرشن اڈوانی اسپتال میں داخل، سینے میں انفیکشن کی شکایت، اپولو اسپتال میں علاج جاری

بھارت کے سابق نائب وزیراعظم لال کرشن اڈوانی کو جمعہ کے روز اسپتال میں داخل…

5 hours ago

SC Allows PFI Chief Abubaker Treatment: پی ایف آئی کے سربراہ ابو بکر کو میکس اسپتال میں علاج کی اجازت، سپریم کورٹ کی ہدایت

عدالت نے علاج اور پولیس سکیورٹی کا پورا خرچ خود برداشت کرنے کو کہا، طبی…

6 hours ago

Gold-Sivler Price: سونے اور چاندی کی چمک پھر لوٹ آئی! بازار کھلتے ہی قیمتوں میں زبردست اچھال، جانیے تازہ قیمتیں

سونے کی درآمد میں بھاری گراوٹ کے باوجود گھریلو اور عالمی بازار میں تیزی، ملٹی…

6 hours ago