قومی

سی آرپی ایف کیمپ رامپور حملہ مقدمہ: پھانسی اورعمرقید کی سزائیں ختم کرنے والے الہ آباد ہائی کورٹ کے فیصلے کو یوپی حکومت نے سپریم کورٹ میں چیلنج کردیا

نئی دہلی: سی آرپی ایف رامپورمقدمہ میں نچلی عدالت سے چارملزمین کو ملنے والی پھانسی کی سزا کوگزشتہ ماہ الہ آباد ہائی کورٹ کی دورکنی بینچ نے ختم کردیا تھا۔ عدالت نے ایک ملزم کو ملنے والی عمرقید کی سزا کوبھی تبدیل کردیا تھا۔ الہ آباد ہائی کورٹ کے فیصلے کواترپردیش حکومت نے سپریم کورٹ میں چیلنج کردیا ہے۔ یوپی سرکارکی جانب سے داخل پٹیشن پرآج سپریم کورٹ آف انڈیا کی دورکنی بینچ کے جسٹس وکرم ناتھ اورجسٹس سندیپ کی بینچ نے سماعت کی اوردوران سماعت عدالت نے زبانی طورپرکہا کہ الہ آباد ہائی کورٹ کا فیصلہ درست معلوم ہوتا ہے۔

اتر پردیش سرکارکی نمائندگی کرتے ہوئے ایڈیشنل سالیسٹرجنرل نے سپریم کورٹ سے گزارش کی کہ وہ ان کی پٹیشن کی سماعت کے لیئے قبول کرے۔ وہ عدالت کے سامنے اس مقدمہ متعلق اہم دستاویزات پیش کرنا چاہتے ہیں، جسے الہ آباد ہائی کورٹ نے قبول نہیں کیا ہے، یہ ایک غیرمعمولی دہشت گردانہ واقعہ ہے، لہٰذا مقدمہ کی سنگینی کے مد نظرریاستی سرکارکی اپیل کوسماعت کے لئے قبول کیا جائے۔

جمعیۃ علماء مہاراشٹر(ارشد مدنی) قانونی امداد کمیٹی کی جانب سے ملزمین کے مقدمہ کی پیروی کرتے ہوئے ایڈوکیٹ ایم ایس خان نے عدالت کوبتایا کہ الہ آباد ہائی کورٹ نے فریقین کے دلائل کی کئی ماہ تک سماعت اورپھراس کے بعد فیصلہ صادرکیا، اس مقدمہ میں کوئی بھی عینی گواہ نہیں ہے، استغاثہ کے گواہان کے بیانات میں کھلا تضاد ہے، جس کا فائدہ الہ آباد ہائی کورٹ نے ملزمین کودیا ہے۔ اسی درمیان فریقین کے دلائل کی سماعت کے بعد دورکنی بینچ نے ریاستی حکومت کی پٹیشن کوسماعت کے لئے قبول کرلیا اورملزمین کوحکم دیا کہ وہ مقدمہ کی اگلی سماعت سے قبل ریاستی سرکارکی پٹیشن پراپنا اعتراض داخل کریں۔ اس مقدمہ کی اگلی سماعت عدالت 3 مارچ2026 کوکرے گی۔

الہ آباد ہائی کورٹ نے نچلی عدالت سے پھانسی کی سزا پانے والے ملزمین عمران شہزاد، محمد فاروق صباح الدین اورمحمد شریف کوسزائے موت کوختم کردیا تھا جبکہ جنگ بہادرکوملنے والی عمرقید کی سزا کوبھی ہائی کورٹ نے ختم کردیا تھا۔ الہ آباد ہائی کورٹ کے فیصلے کو ریاستی حکومت نے سپریم کورٹ میں چیلنج کردیا ہے۔ ملزمین نے بھی الہ آباد ہائی کورٹ کی جانب سے آرمس ایکٹ کے تحت انہیں دی جانے والی دس سالوں کی سزا کو سپریم کورٹ میں چیلنج کیا ہے، ملزمین کی اپیل پرجلد سماعت متوقع ہے۔ جمعیۃ علماء قانونی امداد کمیٹی کے توسط سے ملزمین نے سپریم کورٹ آف انڈیا میں پٹیشن داخل کی ہے۔

بھارت ایکسپریس اردو۔

Nisar Ahmad

Recent Posts

UPSC CSE Mains Results 2026: یو پی ایس سی سول سروسز مین امتحان 2026 کا نتیجہ جاری، انٹرویو کا مرحلہ جلد ہوگا شروع

یو پی ایس سی نے واضح کیا ہے کہ انٹرویو کی تاریخ یا وقت میں…

12 minutes ago

12 ماہ میں 119 بچوں کو گھرپہنچایا، دہلی پولیس کی خاتون ہیڈ کانسٹبل چنچل بنیں انسانیت کی بہترین مثال، جانئے پوری تفصیل

دہلی پولیس کی ہیڈ کانسٹبل چنچل نے ایک سال کے اندر119 لاپتہ بچوں اور16 دیگرگمشدہ…

2 hours ago

1st ODI shifted from Delhi to Visakhapatnam: دہلی کی زہریلی ہوا کے آگے جھکا بی سی سی آئی، ہندوستان-سری لنکا ونڈے کا مقام تبدیل

 بی سی سی آئی نے دہلی کی آلودگی اوراسٹیڈیم میں چل رہی تجدید کاری کے…

2 hours ago

Drone Attacks on Protesters in PoK: پی او کے میں مظاہرین پر فائرنگ اور ڈرون حملوں کا الزام، 7 افراد ہلاک، 18 زخمی

پاکستانی سکیورٹی فورسز پر راولاکوٹ میں پُرامن مظاہرین اور رہائشی علاقوں کو نشانہ بنانے کا…

2 hours ago