قومی

Court slams police officer: عدالت نے POCSO کیس میں چھ سال تاخیر سے چارج شیٹ داخل کرنے پر پولیس افسر کو لگائی پھٹکار

دہلی کی ایک عدالت نے POCSO کیس میں چھ سال کی تاخیر کے بعد چارج شیٹ داخل کرنے پر ایک تفتیشی افسر (IO) کو پھٹکار لگائی ہے۔ ایڈیشنل سیشن جج انو اگروال افسر کے ذریعہ چارج شیٹ داخل کرنے میں تاخیر کے لیے معافی کی درخواست کی سماعت کر رہے تھے۔ عدالت نے دہلی پولیس کمشنر سے کہا کہ وہ تاخیر کا سبب بننے والے ذمہ داروں کے خلاف انکوائری کریں اور یہ بتائیں کہ کیا اس لاپروائی کو روکنے کا کوئی طریقۂ کار موجود ہے۔

25 جنوری کے اپنے حکم میں عدالت نے کہا کہ اس کیس کی ایف آئی آر اپریل 2017 میں آئی پی سی سیکشن 377 (غیر فطری جرم) اور 506 (مجرمانہ دھمکی) اور POCSO ایکٹ کی دفعہ 6 کے تحت درج کی گئی تھی۔ تاہم عدالت نے نوٹ کیا کہ چارج شیٹ 24 دسمبر 2024 کو داخل کی گئی۔

تاخیر کی وجوہات میں کہا گیا ہے کہ آئی او کو منتقل کر دیا گیا تھا، اس پر کام کا بھاری بوجھ تھا۔ کچھ ذاتی مسائل تھے اور کیس فائل کا ریکارڈ غائب ہو گیا تھا۔ تاہم یہ کہتے ہوئے کہ یہ ’’مناسب وجوہات‘‘ نہیں ہیں، عدالت نے نشان دہی کی کہ درخواست کے ساتھ کوئی دستاویز منسلک نہیں کی گئی ہے، جس سے یہ ظاہر ہو کے تبادلے کے بعد آئی اونے کوئی حتمی رپورٹ جمع کی تھی۔ عدالت نے کہا ’’یہ واضح ہے کہ چارج شیٹ تحقیقی افسر کے پاس رہی۔ درخواست میں بیان کردہ بنیادیں محض چشم کشا ہیں۔ IO نے اتنے سنگین جرم میں چھ سال تک چارج شیٹ اپنے پاس رکھی اور اسے فائل نہیں کیا۔‘‘

عدالت نے اس معاملے میں ضابطہ فوجداری کی دفعات کی خلاف ورزی پر زور دیا۔ جج نے کہا ’’جرم کے وقت بچے کی عمر تقریباً سات سال تھی اور اب اس کی عمر 13-14 سال کے لگ بھگ ہو گی۔ میں حیران ہوں کہ اسے چھ سال کے بعد اس واقعے کے بارے میں کتنا یاد ہو گا کیوں کہ عمر کے ساتھ یادداشت ختم ہو جاتی ہے اور بہت چھوٹے بچوں کے معاملے میں یادداشت زیادہ تیزی سے محو ہوتی ہے۔‘‘

اے ایس جے اگروال نے مزید کہا کہ چارج شیٹ داخل نہ کر کے ’’آئی او نے ملزم کی حمایت کی‘‘ اور متاثرہ کے حق میں تیز ٹرائل میں بھی تاخیر کی۔ جج نے کہا ’’یہ واضح ہے کہ پولیس اسٹیشن میں چیک اینڈ بیلنس کا کوئی طریقۂ کار نہیں ہے تاکہ اس بات کو یقینی بنایا جا سکے کہ جو چارج شیٹ عدالت کو بھیجی گئی ہیں وہ فوری طور پر عدالت میں داخل کی جائیں۔ اور یہ بھی دیکھا گیا ہے کہ بہت سے معاملات میں آئی او کسی کو نوٹس کیے بغیر کئی سالوں تک فائل اپنے پاس رکھتا ہے۔‘‘ دریں اثنا عدالت نے ملزم کو طلب کرتے ہوئے کہا کہ وہ اپنے سامنے موجود شواہد کی بنیاد پر ملزم کے خلاف جرم کا نوٹس لے رہی ہے۔

بھارت ایکسپریس اردو

Bharat Express

Recent Posts

Minor gang-raped near Kalkaji Temple: کالکاجی مندر کے قریب نابالغ لڑکی سے اجتماعی زیادتی، انکاؤنٹر کے بعد ایک ملزم گرفتار

ملزمان کی شناخت اور گرفتاری کے لیے دہلی پولیس پارک اور اس کے آس پاس…

1 hour ago

Jain Acharya Lokesh Ji: سکندرآباد میں وکست بھارت 2047 سیمینار، آچاریہ لوکیش بولے- سناتن روایت کا اقدار ہی ترقی یافتہ بھارت کی فکری بنیاد

آچاریہ لوکیش کے خطاب نے سیمینار میں موجود سیکڑوں نوجوانوں، فوجیوں اور دانشوروں میں نیا…

2 hours ago

UP 34 IAS Officers Transfer: اتر پردیش میں بڑا انتظامی ردوبدل، 34 آئی اے ایس افسران کے تبادلے، 14 اضلاع کو ملے نئے ڈی ایم

اتر پردیش میں پیر کی دیر رات بڑا انتظامی ردوبدل کیا گیا۔ حکومت نے 34…

11 hours ago