قومی

Indo-Islamic Synthesis history conference: جامعہ ہمدرد میں 20 اپریل کو منعقد ہوگا یک روزہ قومی ہند اسلامی سنتھیسس ہسٹری کانفرنس

جامعہ ہمدرد یونیورسٹی کے شعبۂ اسلامک اسٹڈیز اور انسٹی ٹیوٹ آف اسٹڈی اینڈ ریسرچ (آئی ایس آر ڈی) کے اشتراک سے اتوار 20 اپریل، 2025 کو ’’دہلی: قرون وسطیٰ میں ہند اسلامی سنتھیسسس (تال میل) کا مصداق‘‘ کے موضوع پر یک روزہ قومی ہسٹری کانفرنس کا انعقاد کیا جا رہا ہے۔ جامعہ ہمدرد یونیورسٹی کے ہمدرد کنونشن سینٹر میں منعقد ہونے والی اس کانفرنس کا مقصد قرون وسطیٰ کی ہندوستانی ثقافت، معاشرے اور حکمرانی کی تشکیل پر اسلامی ورثے کے گہرے اثرات کی تلاش ہے، جس میں خاص طور پر ثقافتی تبادلے کے مرکز کے طور پر دہلی پر توجہ دی گئی ہے۔اس کانفرنس میں درج ذیل عنوانات پر تحقیقی مقالے پیش کیے جائیں گے:

۔ شمالی ہندوستان میں اسلام کی آمد

۔ تعلیمی ادارے اور علمی تخلیقات

۔ انڈو اسلامک فن تعمیر

۔ صوفی روایات اور مقدس مقامات

۔ زبان اور ادب

۔ موسیقی اور پرفارمنگ آرٹس

۔ آزادی کی جدوجہد میں کردار

۔ خطاطی اور آرائشی فنون

۔ ثقافتی ورثہ اور کھانوں کی ثقافت

۔ خواتین کی شراکتیں

۔ سائنس اور ٹیکنالوجی

۔ مغل باغات

۔ اقتصادی اور انتظامی اختراعات

ہندوستان کی تہذیب و ثقافت پر اسلام اور مسلمانوں کے ناقابل تردید اثر و رسوخ پر زور دیتے ہوئے کانفرنس کے منتظم محمد آصف اقبال نے کہا کہ جب دو یا دو سے زیادہ تہذیبیں آپس میں ملتی ہیں تو متنوع خیالات، عقائد، روایات اور ثقافتی طریقوں کا تبادلہ قدرتی طور پر مثبت نتائج کے ظہور کا باعث بنتا ہے۔انھوں نے زور دے کر کہا کہ مسلمان اس اصول سے مستثنیٰ نہیں ہیں، کیوں کہ انھوں نے تہذیبی اور ثقافتی ورثے اور رسوم و رواج کا ایسا ایک بھرپور خزانہ متعارف کرایا ہے جس سے برصغیر پاک و ہند میں لوگ پہلے ناواقف تھے۔

انھوں نے مزید کہا ’’دوسری طرف مسلمانوں نے ملک کے مثبت سماجی اور ثقافتی پہلوؤں کو قبول کیا اور اسی طرح اسلام سے متاثر ہونے کے بعد ہندوستانی عوام بھی اس تبدیلی سے لاتعلق نہیں رہ سکی۔ دنیا کے بہت سے حصوں کی طرح، ہندوستانی معاشرہ، ثقافت اور زندگی کے مختلف شعبے اسلام اور مسلمانوں سے نمایاں طور پر متاثر ہوئے ہیں۔ شروع سے ہی مسلمانوں نے پورے ملک کی تعمیر و ترقی میں اہم کردار ادا کیا ہے۔‘‘ کانفرنس کے منتظم نے اس بات پر زور دیا کہ موجودہ حالات میں یہ کانفرنس اس بات پر روشنی ڈالنے کے مقصد سے منعقد کی جا رہی ہے کہ کس طرح مسلمانوں نے مختلف صلاحیتوں اور زندگی کے مختلف پہلوؤں میں ہندوستان کو متاثر کیا ہے اور اس کی تشکیل کی ہے۔

کانفرنس میں جامعہ ہمدرد کے چانسلر جناب حماد احمد، وائس چانسلر پروفیسر محمد افشار عالم، جماعت اسلامی ہند (جے آئی ایچ) کے صدر سید سعادت اللہ حسینی، خسرو فاؤنڈیشن کے کنوینر ڈاکٹر حفیظ الرحمن، جامعہ ہمدرد کے شعبہ اسلامک اسٹڈیز کے صدر ڈاکٹر ارشد حسین، آئی ایس آر ڈی کے صدر سلیم اللہ خان کے علاوہ جامعہ ملیہ اسلامیہ، دہلی یونیورسٹی، جامعہ ہمدرد یونیورسٹی، علی گڑھ مسلم یونیورسٹی، کیرالہ یونیورسٹی سمیت معروف اداروں کے ماہرین تعلیم شریک ہوں گے۔ کانفرنس کے آرگنائزر نے شعبۂ تاریخ کے پی ایچ ڈی اسکالرز کے ساتھ ساتھ تاریخ میں گہری دلچسپی رکھنے والے دیگر شعبوں سے تعلق رکھنے والے افراد کو بھی اس اہم کانفرنس میں شرکت کے لیے خصوصی دعوت دی ہے۔

بھارت ایکسپریس اردو

Bharat Express

Recent Posts

Minor gang-raped near Kalkaji Temple: کالکاجی مندر کے قریب نابالغ لڑکی سے اجتماعی زیادتی، انکاؤنٹر کے بعد ایک ملزم گرفتار

ملزمان کی شناخت اور گرفتاری کے لیے دہلی پولیس پارک اور اس کے آس پاس…

2 hours ago

Jain Acharya Lokesh Ji: سکندرآباد میں وکست بھارت 2047 سیمینار، آچاریہ لوکیش بولے- سناتن روایت کا اقدار ہی ترقی یافتہ بھارت کی فکری بنیاد

آچاریہ لوکیش کے خطاب نے سیمینار میں موجود سیکڑوں نوجوانوں، فوجیوں اور دانشوروں میں نیا…

3 hours ago

UP 34 IAS Officers Transfer: اتر پردیش میں بڑا انتظامی ردوبدل، 34 آئی اے ایس افسران کے تبادلے، 14 اضلاع کو ملے نئے ڈی ایم

اتر پردیش میں پیر کی دیر رات بڑا انتظامی ردوبدل کیا گیا۔ حکومت نے 34…

11 hours ago