قومی

Vijay Shah’s name in Republic Day ceremony: سپریم کورٹ کا مقدمہ چلانے کا حکم، لیکن وجے شاہ کا نام 26 جنوری کے پروگرام میں شامل، کیا یہی ہے بی جے پی کی حب الوطنی؟

مدھیہ پردیش کے وزیر وجے شاہ سے متعلق ایک نیا تنازعہ کھڑا ہو گیا ہے۔ جس وزیر نے کرنل صوفیہ قریشی کے بارے میں متنازعہ تبصرہ کیا تھا، اس کے خلاف سپریم کورٹ کے حکم پر مقدمہ چلایا جانا ہے، لیکن اس کے بجائے اسی وزیر کو 26 جنوری کے یوم جمہوریہ کی تقریبات کی فہرست میں شامل کرنے سے تنازعہ کھڑا ہو گیا ہے۔ رتلام ضلع میں یوم جمہوریہ کی تقریب میں وجے شاہ کو مہمان خصوصی بنائے جانے پر کانگریس نے سخت اعتراض جتایا ہے۔ عدالت کے حکم کے مطابق بی جے پی حکومت کو وجے شاہ پر مقدمہ چلانا تھا لیکن یہاں کچھ اور ہی ہو رہا ہے۔

کیا یہی ہے بی جے پی کی حب الوطنی؟: کانگریس

کانگریس کا کہنا ہے کہ آپریشن سندور کے دوران کرنل صوفیہ قریشی کے بارے میں نازیبا الفاظ کا استعمال کرنے والا وزیر اب رتلام میں ترنگا لہرائے گا۔ یہ ملک کی بیٹی اور ملک کی فوج کی توہین ہے۔ اس بارے میں راجیہ سبھا ایم پی رینوکا چودھری نے اپنے سوشل میڈیا اکاؤنٹ پر ایک اخبار کی خبر شیئر کرتے ہوئے کہا،’’یقینا بی جے پی 26 جنوری کے پروگرام میں خواتین کی بے عزتی کرنے والوں کو مدعو کرے گی! یاد رہے، بی جے پی کے مدھیہ پردیش کے وزیر، وجے شاہ نے کرنل صوفیہ قریشی کے بارے میں انتہائی تضحیک آمیز اور گھٹیا تبصرہ کیا تھا، کیا یہ بی جے پی کی حب الوطنی ہے؟‘‘ دریں اثنا، بی جے پی 15 دنوں کے اندر وزیر وجے شاہ کے خلاف مقدمہ چلانے کے سپریم کورٹ کے حکم کو لے کر مخمصے میں ہے۔ سپریم کورٹ کے حکم کے بعد سے، پارٹی لیڈر ایک ہی بیان جاری کر رہے ہیں۔ وہ وزیر اعلیٰ موہن یادو کے اپنے غیر ملکی دورے سے واپس آنے کا انتظار کر رہے ہیں اور یہ کہ پارٹی ہائی کمان جلد ہی وجے شاہ کے معاملے پر کوئی فیصلہ کرے گی۔ تاہم، 26 جنوری کے پروگرام میں وجے شاہ کی شمولیت کے بارے میں، بی جے پی نے یہ بھی کہا کہ ان کا نام فہرست میں اس لیے شامل کیا گیا ہے کیونکہ ضلع کے انچارج وزیر پرچم کشائی کرتے ہیں۔

ایس آئی ٹی کی رپورٹ کے بعد آیا سپریم کورٹ کا یہ فیصلہ

کرنل صوفیہ قریشی کے خلاف متنازعہ ریمارکس سے متعلق ایس آئی ٹی نے سپریم کورٹ میں اپنی رپورٹ پیش کی۔ تاہم اس معاملے میں وجے شاہ کے خلاف کوئی ایف آئی آر درج نہیں کی گئی ہے۔ سماعت کے دوران وزیر وجے شاہ کے وکیل نے دلیل دی کہ انہوں نے عوامی طور پر معافی مانگی تھی، جس پر عدالت نے معافی کو مسترد کر دیا۔ سپریم کورٹ نے ایم پی حکومت کو ہدایت دی ہے کہ وہ آئندہ دو ہفتوں کے اندر وجے شاہ کے خلاف مقدمہ چلانے کا فیصلہ کرے۔

کیا وجے شاہ اپنا وزارتی عہدہ کھو سکتے ہیں؟

سیاسی تجزیہ کاروں کا خیال ہے کہ وجے شاہ کیس میں بی جے پی حکومت کی مشکلات اب بڑھ جائیں گی۔ شاید وزیر اعلیٰ کی واپسی کے بعد کابینہ میں ردوبدل کے دوران وجے شاہ کو ان کے عہدے سے ہٹایا جا سکتا ہے، کیونکہ حکومت اب شدید دباؤ میں ہے۔

بھارت ایکسپریس اردو۔

Abul Kalam

Recent Posts

Modi’s Focus on Water Education: پانی کے تحفظ پر مودی حکومت کا بڑا زور، اسکولوں کے نصاب میں شامل ہوں گے آبی انتظام سے متعلق موضوعات

نئی دہلی میں ایمپاورڈ ٹاسک فورس (ETF) کے 20ویں اجلاس کی صدارت کرتے ہوئے سی…

3 hours ago

UDMA Day 2026: جامعہ ملیہ اسلامیہ میں اُڈما ڈے 2026 کا انعقاد 10 اکتوبر سے، یونانی طب، ادویہ سازی، تحقیق، تعلیم اور صحت سے وابستہ نمائندگان کی شرکت

میلے میں ڈسٹری بیوٹرز اور ایجنسیوں کو کمپنی مالکان اور سینئر نمائندگان سے براہِ راست…

3 hours ago

INDIA Alliance Protest: ایس آئی آر کے خلاف اپوزیشن کا ملک گیر احتجاج، پٹنہ میں تیجسوی کا مارچ، لکھنؤ اور بنگلورو میں بھی مظاہرے

بہار کے دارالحکومت پٹنہ میں اپوزیشن کے ’انڈیا‘ اتحاد کے لیڈروں نے سڑکوں پر اتر…

3 hours ago