کرناٹک میں بھارتیہ جنتا پارٹی (بی جے پی) نے منگل کے روز کانگریس پارٹی کو شدید تنقید کا نشانہ بناتے ہوئے الزام عائد کیا کہ اس نے جرمنی کے چانسلر فریڈرک مرز کے ریاستی دورے کے دوران سفارتی آداب کو نظرانداز کیا اور لوک سبھا میں قائدِ حزبِ اختلاف راہل گاندھی کی میسور آمد کو فوقیت دی۔ بی جے پی کا کہنا ہے کہ یہ رویہ ریاست کے مفادات کے بجائے پارٹی سیاست کو ترجیح دینے کی عکاسی کرتا ہے۔ کرناٹک بی جے پی نے سوشل میڈیا پلیٹ فارم ایکس پر جاری بیان میں کہا کہ کانگریس پارٹی اس وقت بڑا ہنگامہ کھڑا کرتی ہے جب اس کے لیڈروں کو کسی غیر ملکی لیڈر کے اعزاز میں دیے گئے عشائیے میں مدعو نہ کیا جائے، لیکن جب ایک عالمی طاقت کے سربراہ خود ان کی ریاست کا دورہ کرتے ہیں تو کانگریس قیادت اسے نظرانداز کر دیتی ہے اور راہل گاندھی کے استقبال کو ترجیح دیتی ہے۔
اس معاملے پر کرناٹک اسمبلی میں قائدِ حزبِ اختلاف آر اشوک نے وزیر اعلیٰ سدارامیا اور نائب وزیر اعلیٰ و ریاستی کانگریس صدر ڈی کے شیوکمار کو آڑے ہاتھوں لیا۔ انہوں نے کہا کہ جرمن چانسلر کا کرناٹک دورہ سفارتی، معاشی اور اسٹریٹجک اعتبار سے نہایت اہم تھا۔ کسی بھی ذمہ دار وزیر اعلیٰ کو چاہیے تھا کہ وہ اس موقع کو سرمایہ کاری، صنعت، روزگار اور ریاست کی طویل مدتی ترقی کے لیے استعمال کرتا۔
آر اشوک نے مزید کہا کہ افسوسناک امر یہ ہے کہ جس وقت جرمن چانسلر بنگلورو پہنچے، وزیر اعلیٰ اور نائب وزیر اعلیٰ میسور میں راہل گاندھی کے استقبال میں مصروف تھے، جو محض اوٹی جاتے ہوئے یہاں قیام کر رہے تھے۔ ان کے مطابق دنیا کی مضبوط ترین معیشتوں میں سے ایک کے سربراہ کا استقبال پس منظر میں ڈال دیا گیا، جبکہ سیاسی وفاداری اور ’’ہائی کمان‘‘ کو خوش کرنے کو ترجیح دی گئی۔ بی جے پی لیڈر نے کہا کہ یہ صرف خراب تاثر نہیں بلکہ ریاست کے مفادات سے گہری بے اعتنائی کو ظاہر کرتا ہے۔ کرناٹک ایسی قیادت کا مستحق ہے جو پارٹی سے پہلے ریاست کو، اقتدار کی سیاست سے پہلے ترقی کو اور سیاسی خوشنودی سے پہلے عالمی مواقع کو ترجیح دے۔
ادھر جرمن چانسلر فریڈرک مرز اور ان کا وفد منگل کے روز بنگلورو پہنچا، جہاں انہوں نے شہر کے مختلف اداروں کا دورہ کیا۔ شام کے وقت وہ کیمپے گوڑا انٹرنیشنل ایئرپورٹ سے روانہ ہو گئے۔ ریاستی وزیر برائے بڑے و درمیانے درجے کی صنعت اور انفراسٹرکچر ڈیولپمنٹ ایم بی پاٹل نے ایئرپورٹ پر چانسلر اور ان کے وفد کو گرمجوشی سے رخصت کیا۔ اس سے قبل ایئرپورٹ پر جرمن چانسلر کا استقبال ایم بی پاٹل نے کیا تھا، جہاں اضافی چیف سیکریٹری گورو گپتا، محکمہ عملہ و انتظامی اصلاحات کے سیکریٹری کے جی جگدیش، بنگلورو ضلع مجسٹریٹ جی جگدیش، پولیس کمشنر سیمنت کمار سنگھ اور نئی دہلی میں جرمن قونصل خانے کے افسران بھی موجود تھے۔ بی جے پی نے اس پورے واقعے کو کانگریس کی ترجیحات پر بڑا سوال قرار دیا ہے۔
بھارت ایکسپریس اردو۔
جلیل اختر کو 19 جون کو پولیس نے حراست میں لیا تھا، عدالت نے سرکاری…
ٹرانسپورٹ ماہرین کا کہنا ہے کہ قوانین پر عمل یقینی بنانا ضروری ہے، لیکن ضابطے…
مرکزی وزیر کرن رجیجو نے اردو صحافت کی شاندار روایت، بدلتے دور میں اس کے…
13 ستمبر کو بھارت نے پہلا میچ 7 وکٹ سے جیتا، جب کہ دوسرے مقابلے…
’ماحولیات اور آب و ہوا کی حرکیات کا مستقبل‘ کے موضوع پر دو روزہ کانفرنس،…
زمبابوے کی جانب سے گیند بازی میں بریڈ ایونز نے سب سے زیادہ 3 وکٹیں…