قومی

RBI Policy Update: ریزرو بینک آف انڈیا کا اربن کوآپریٹو بینکوں کے نئے لائسنس پر عائد پابندی ختم کرنے پر غور، 300 کروڑ روپے سرمایہ کی تجویز

ریزرو بینک آف انڈیا (آر بی آئی) نے منگل کے روز ایک اہم ڈسکشن پیپر جاری کرتے ہوئے اربن کوآپریٹو بینکوں (UCBs) کے لیے نئے لائسنس جاری کرنے پر 2004 سے جاری پابندی ختم کرنے کی تجویز پیش کی ہے۔ یہ قدم ریگولیٹری نظام میں نمایاں بہتری اور کوآپریٹو بینکنگ شعبے کی مجموعی مالی حالت میں بہتری کے پیش نظر اٹھایا گیا ہے۔ آر بی آئی نے اپنے بیان میں کہا کہ گزشتہ دو دہائیوں کے دوران اس شعبے میں مثبت تبدیلیاں آئی ہیں اور مختلف اسٹیک ہولڈرز کی جانب سے بڑھتی ہوئی مانگ کو دیکھتے ہوئے نئے اربن کوآپریٹو بینکوں کے لائسنس سے متعلق بحث کے لیے یہ پیپر جاری کیا جا رہا ہے۔

سخت اہلیتی شرائط کی تجویز

’’لائسنسنگ آف اربن کوآپریٹو بینکس‘‘ کے عنوان سے جاری ڈسکشن پیپر میں آربی آئی نے واضح کیا ہے کہ ماضی میں 1990 کی دہائی کے آزادانہ دور میں لائسنس پانے والے کئی اربن کوآپریٹو بینک بعد میں مالی طور پر کمزور ثابت ہوئے، تاہم اب حالات بدل چکے ہیں۔ مرکزی بینک نے تجویز دی ہے کہ صرف بڑے، مستحکم اور بہتر طور پر چلنے والے کوآپریٹو کریڈٹ سوسائٹیز کو ہی درخواست دینے کی اجازت دی جائے۔ مجوزہ شرائط کے مطابق کم از کم سرمایہ 300 کروڑ روپے ہونا چاہیے، سوسائٹی کو کم از کم 10 سال سے فعال ہونا چاہیے اور گزشتہ پانچ برسوں میں اس کا مالی ریکارڈ مستحکم ہونا ضروری ہوگا۔ اس کے علاوہ ملٹی اسٹیٹ کوآپریٹو کریڈٹ سوسائٹیز کو ترجیح دی جا سکتی ہے تاکہ جغرافیائی توسیع اور رسک کی بہتر تقسیم ممکن ہو سکے۔

شعبے کی صورتحال میں بہتری

آر بی آئی کے مطابق ملک میں اربن کوآپریٹو بینکوں کی تعداد 2003 میں 2100 سے زائد تھی، جو 31 مارچ 2025 تک گھٹ کر 1457 رہ گئی ہے۔ اس کمی کی بڑی وجہ کمزور اداروں کا بند ہونا اور انضمام ہے۔ تاہم اسی دوران شعبے کے مالی اشاریے بہتر ہوئے ہیں، جہاں اوسط کیپیٹل ایڈی کویسی 18 فیصد تک پہنچ گئی ہے اور نیٹ نان پرفارمنگ اثاثوں میں نمایاں کمی آئی ہے۔

حمایت اور خدشات، عوامی رائے طلب

ڈسکشن پیپر میں نئے لائسنس جاری کرنے کے حق اور مخالفت میں دلائل بھی پیش کیے گئے ہیں۔ حامیوں کا کہنا ہے کہ اربن کوآپریٹو بینک چھوٹے شہروں اور نیم شہری علاقوں میں مالی شمولیت کے لیے اہم کردار ادا کرتے ہیں۔ اس کے علاوہ فروری 2024 سے فعال نیشنل اربن کوآپریٹو فنانس اینڈ ڈیولپمنٹ کارپوریشن سے بھی اس شعبے کو تقویت ملنے کی امید ہے۔ آر بی آئی نے عوام اور متعلقہ فریقین سے رائے طلب کی ہے کہ آیا اس وقت نئے اربن کوآپریٹو بینکوں کو لائسنس دینا مناسب ہے یا نہیں اور مجوزہ اہلیتی شرائط پر بھی تبصرے مانگے گئے ہیں۔ یہ رائے آر بی آئی کے ’’کنیکٹ ٹو ریگولیٹ‘‘ پلیٹ فارم کے ذریعے دی جا سکتی ہے۔ موصول ہونے والے تاثرات کی بنیاد پر مستقبل میں مسودۂ رہنما خطوط جاری کیے جا سکتے ہیں۔

بھارت ایکسپریس اردو۔

Habiburrahman

Recent Posts

JMI Student Union Elections Will Held In 2027: جامعہ ملیہ اسلامیہ میں 2027 میں ہوں گے طلبہ یونین کے انتخابات، یونیورسٹی کا بڑا فیصلہ

طلبہ کی تحریک کے درمیان انتظامیہ نے جاری کیا حکم، 15 مئی 2027 تک طلبہ…

41 minutes ago

Indian Shooter Asian Games Gold Medal: راہی سرنوبت: این سی سی سے آغاز، عالمی سطح پر کی تاریخ رقم، ہندوستان کی بنیں گولڈن گرل

36ویں سالگرہ پر ہندوستان کی اسٹار نشانے باز کی متاثر کن کہانی، کامن ویلتھ گیمز،…

1 hour ago

Cuba US Sanctions: کیوبا کے حق میں بھارت کا اہم موقف، امریکی پابندیاں ختم کرنے کی قرارداد کی حمایت میں 130 ممالک نےدیا  ووٹ

اقوام متحدہ کی جنرل اسمبلی میں امریکہ کی اقتصادی اور تجارتی پابندیاں ختم کرنے کی…

2 hours ago

Diljit Dosanjh Concert: دلجیت دوسانجھ کے کنسرٹ کے لیے دہلی میٹرو کی خصوصی تیاری، 30 اکتوبر کو رات 12 بجے تک چلیں گی ٹرینیں

جواہر لعل نہرو اسٹیڈیم میں ’اورا انڈیا ٹور 2026‘ کے دوران 70 ہزار سے زائد…

2 hours ago

Saharanpur Lighting: سہارنپور میں آسمانی بجلی گرنے سے مسجد کے مینار کا گنبد تباہ، جل گئے کئی الیکٹرانک آلات

اتر پردیش کے گنگوہ علاقے کے گاؤں گجران میں واقع مسجد پر آسمانی بجلی گرنے…

4 hours ago