قومی

Congress Election Results 2026: راہل گاندھی 99ویں بار ناکام! پانچ ریاستوں میں 20 فیصد سیٹیں بھی نہیں جیت سکی کانگریس؟

نئی دہلی: بھارت کی پانچ اہم ریاستوں—مغربی بنگال، آسام، تمل ناڈو، کیرلم اور پڈوچیری—میں اسمبلی انتخابات 2026 کے ابتدائی رجحانات نے قومی سیاست میں ہلچل مچا دی ہے۔ ان نتائج میں کانگریس کی مجموعی کارکردگی کمزور دکھائی دے رہی ہے، جس کے بعد پارٹی کی حکمت عملی اور قیادت پر نئے سوالات اٹھنے لگے ہیں۔ کانگریس، جو کبھی ملک کی سب سے طاقتور سیاسی جماعت رہی ہے، اب کئی ریاستوں میں خاطر خواہ کارکردگی دکھانے میں ناکام نظر آ رہی ہے۔ ابتدائی اعداد و شمار کے مطابق کانگریس نے پانچوں ریاستوں میں مجموعی طور پر 461 امیدوار میدان میں اتارے تھے، لیکن رجحانات کے مطابق پارٹی صرف تقریباً 91 نشستوں پر آگے چل رہی ہے، جو کہ مجموعی نشستوں کا قریب 20 فیصد بنتا ہے۔ اس صورتحال نے سیاسی مبصرین کو یہ سوچنے پر مجبور کر دیا ہے کہ کیا کانگریس بتدریج اپنی قومی حیثیت کھو رہی ہے۔ بی جے پی کی جانب سے بھی دعویٰ کیا جا رہا ہے کہ راہل گاندھی کی قیادت میں پارٹی نے گزشتہ برسوں میں متعدد انتخابات میں ناکامی کا سامنا کیا ہے۔

آسام میں کانگریس کو ایک اور بڑا دھچکا اس وقت لگا جب پارٹی کے سینئر لیڈر اور ممکنہ وزیر اعلیٰ کے امیدوار گورو گوگوئی کو بھاری مارجن سے شکست کا سامنا کرنا پڑا۔ ریاست کی 126 رکنی اسمبلی میں بی جے پی کی قیادت والا اتحاد واضح برتری حاصل کرتا دکھائی دے رہا ہے، جبکہ کانگریس اور اس کے اتحادی کافی پیچھے رہ گئے ہیں۔ کانگریس کو صرف محدود نشستوں پر برتری حاصل ہے، جن میں زیادہ تر اقلیتی اکثریت والے علاقے شامل ہیں۔ مغربی بنگال میں بھی کانگریس کی صورتحال خاصی کمزور دکھائی دے رہی ہے۔ پارٹی نے 294 میں سے 284 نشستوں پر اپنے امیدوار کھڑے کیے، لیکن ابتدائی رجحانات میں اسے کسی بڑی کامیابی کی امید نظر نہیں آ رہی۔ انتخابی مہم کے دوران راہل گاندھی نے چند ریلیاں ضرور کیں، مگر اس کا کوئی خاص اثر دکھائی نہیں دے رہا۔ پارٹی کے سینئر لیڈر ادھیر رنجن چودھری بھی میدان میں تھے، تاہم تنظیمی کمزوری اور محدود مہم کے باعث نتائج متاثر ہوئے۔

اس کے برعکس کیرلم میں کانگریس کے لیے کچھ مثبت اشارے سامنے آئے ہیں، جہاں اس کی قیادت والا یو ڈی ایف اتحاد بہتر کارکردگی دکھا رہا ہے۔ 140 رکنی اسمبلی میں اکثریت کے لیے 71 نشستیں درکار ہیں اور یو ڈی ایف اس ہدف کے قریب پہنچتا دکھائی دے رہا ہے۔ یہاں مقابلہ بنیادی طور پر یو ڈی ایف اور بائیں بازو کے اتحاد کے درمیان ہے، جبکہ بی جے پی اپنی موجودگی بڑھانے کی کوشش کر رہی ہے۔ تمل ناڈو میں کانگریس کی کارکردگی گزشتہ انتخابات کے مقابلے میں کمزور رہی ہے۔ 2021 میں جہاں پارٹی نے 18 نشستیں جیتی تھیں، وہیں اس بار ابتدائی رجحانات میں وہ محض چند نشستوں پر ہی آگے ہے۔ اگرچہ حکومت سازی کے ممکنہ اتحاد میں اس کا کردار اہم ہو سکتا ہے، لیکن مجموعی طور پر اس کی پوزیشن کمزور دکھائی دے رہی ہے۔

پڈوچیری میں بھی کانگریس کو شدید نقصان اٹھانا پڑا ہے۔ 30 رکنی اسمبلی میں پارٹی نے 16 نشستوں پر مقابلہ کیا، مگر ابتدائی نتائج میں وہ صرف ایک نشست پر ہی برتری حاصل کر سکی ہے۔ اس کے برعکس بی جے پی کی قیادت والا اتحاد حکومت بنانے کے قریب دکھائی دے رہا ہے۔ مجموعی طور پر ان انتخابات نے کانگریس کے لیے خطرے کی گھنٹی بجا دی ہے۔ اگرچہ کیرلم میں کچھ امید باقی ہے، لیکن دیگر ریاستوں میں پارٹی کی کارکردگی نے اس کے مستقبل پر سنجیدہ سوالات کھڑے کر دیے ہیں۔ ماہرین کا ماننا ہے کہ اگر کانگریس نے اپنی تنظیمی ڈھانچے اور حکمت عملی میں بنیادی تبدیلیاں نہ کیں، تو آنے والے انتخابات میں اس کے لیے مشکلات مزید بڑھ سکتی ہیں۔

بھارت ایکسپریس اردو۔

Sibghatullah

Recent Posts

Congress’s Counterattack on Regime Change: ’رجیم چینج‘ پر کانگریس کا جوابی حملہ، کہا- ہم فخر سے کہتے ہیں، حکومت بدل کر رہیں گے

کانگریس کے رکن پارلیمنٹ پون کھیڑا نے وزیر دفاع راج ناتھ سنگھ کے ’رجیم چینج‘…

1 minute ago

Analysts Optimistic About Jio Platforms: جیو پلیٹ فارمز کے آئی پی او پر تجزیہ کار خوش، لسٹنگ پر 15-20فیصد اضافے کی توقع

ایمکے ریسرچ نے شرح نمو کے مقابلے میں مناسب قیمت کو دیکھتے ہوئے ’ سبسکرائب…

14 minutes ago

Abhijit Dipke in Custody: ’لہرا دو ترنگا‘ مارچ سے پہلے ابھیجیت دیپکے حراست میں، کناٹ پلیس جانے کی کر رہے تھے کوشش

ترنگا مارچ سے پہلے پارٹی کے بانی ابھیجیت دیپکے کو دہلی پولیس نے حراست میں…

36 minutes ago

Saudi Arabia Flight Alert: ایئر انڈیا کی 20 اکتوبر تک پروازیں منسوخ، انڈیگو سمیت 4 ایئرلائنز متاثر

سعودی عرب میں سکیورٹی کی بگڑتی صورتحال کے درمیان ایئر انڈیا نے ریاض، دمام اور…

1 hour ago