قومی

West Bengal Election Results: بنگال انتخابات 2026 میں مرکزی فورسز کا کلیدی کردار، سی آر پی ایف کی تعیناتی سے تشدد اور مبینہ دھاندلی پر قابو پانے کے دعوے

کولکاتا: مغربی بنگال اسمبلی انتخابات 2026 کے دوران مرکزی سکیورٹی فورسز، خصوصاً سنٹرل ریزرو پولیس فورس (سی آر پی ایف) کی وسیع پیمانے پر تعیناتی کو انتخابی عمل میں اہم اور فیصلہ کن عنصر قرار دیا جا رہا ہے۔ حکام اور مبصرین کے مطابق اس بار سخت نگرانی اور سکیورٹی انتظامات کے باعث تشدد اور مبینہ فرضی ووٹنگ کے واقعات میں نمایاں کمی دیکھنے میں آئی، جس سے انتخابات کے زیادہ شفاف ہونے کا تاثر ابھرا ہے۔ ماضی میں مغربی بنگال کے انتخابات اکثر تشدد، بوتھ کیپچرنگ اور ’چھپا ووٹ‘ جیسے الزامات کی وجہ سے خبروں میں رہتے تھے۔ 2021 کے اسمبلی انتخابات اور 2023 کے پنچایت انتخابات کے بعد سامنے آنے والی پرتشدد تصاویر نے اس تاثر کو مزید مضبوط کیا تھا کہ ریاست میں آزادانہ ووٹنگ ایک بڑا چیلنج ہے۔ تاہم 2026 کے انتخابات میں صورتحال مختلف نظر آئی، جہاں مرکزی فورسز کی موجودگی نے انتخابی ماحول کو نسبتاً پُرامن بنانے میں کردار ادا کیا۔

اطلاعات کے مطابق اس بار تقریباً ڈھائی لاکھ مرکزی سکیورٹی اہلکار مختلف اضلاع میں تعینات کیے گئے، جنہوں نے ’ایریا ڈومیننس‘ کے تحت حساس علاقوں میں مسلسل گشت کیا۔ اس حکمت عملی کے نتیجے میں مبینہ طور پر شرپسند عناصر کو محدود رکھا گیا اور ووٹروں کو نسبتاً محفوظ ماحول میں پولنگ اسٹیشن تک پہنچنے کا موقع ملا۔ کئی ووٹرز نے بھی اس بات کا اعتراف کیا کہ اس بار وہ بغیر خوف و دباؤ کے ووٹ ڈالنے میں کامیاب رہے۔ انتخابی عمل کے دوران بعض مقامات پر بے ضابطگیوں کی شکایات بھی سامنے آئیں۔ جنوبی 24 پرگنہ کے فالٹا علاقے میں چند پولنگ بوتھس پر مبینہ طور پر ووٹنگ مشین کے بٹن کے ساتھ چھیڑ چھاڑ کی گئی۔ تاہم اس بار صورتحال ماضی کے برعکس رہی، جہاں سکیورٹی فورسز کی رپورٹ پر الیکشن کمیشن آف انڈیا نے فوری کارروائی کرتے ہوئے متاثرہ بوتھس پر دوبارہ ووٹنگ کا حکم دیا۔ اس فوری ردعمل کو انتخابی شفافیت کے لیے ایک مثبت قدم کے طور پر دیکھا جا رہا ہے۔

مرکزی حکومت نے ممکنہ بعد از انتخاب تشدد کے خدشات کے پیش نظر غیر معمولی فیصلہ کرتے ہوئے بڑی تعداد میں فورسز کو نتائج کے بعد بھی ریاست میں تعینات رکھنے کا اعلان کیا ہے۔ اطلاعات کے مطابق تقریباً 500 کمپنیوں پر مشتمل فورس، جن میں سی آر پی ایف، بی ایس ایف، آئی ٹی بی پی، سی آئی ایس ایف اور ایس ایس بی شامل ہیں، کو اگلے 60 دنوں تک بنگال میں ہی تعینات رکھا جائے گا۔ ماہرین کا کہنا ہے کہ یہ اقدام ریاست میں امن و امان برقرار رکھنے کے لیے اہم ثابت ہو سکتا ہے۔

سیاسی حلقوں میں اس بات پر بھی بحث جاری ہے کہ مرکزی فورسز کی موجودگی نے ووٹروں کے اعتماد کو بحال کیا۔ اپوزیشن رہنماؤں کا ماننا ہے کہ سخت سکیورٹی نے خاص طور پر ان طبقات کو حوصلہ دیا جو ماضی میں خوف کے باعث ووٹنگ سے گریز کرتے تھے۔ تاہم حکمراں جماعت کے بعض حلقوں نے اس تعیناتی پر سوالات بھی اٹھائے ہیں اور اسے سیاسی اثراندازی سے جوڑنے کی کوشش کی ہے۔ مجموعی طور پر دیکھا جائے تو 2026 کے بنگال انتخابات میں سکیورٹی انتظامات ایک نمایاں پہلو بن کر سامنے آئے ہیں۔ سی آر پی ایف اور دیگر مرکزی فورسز کی سرگرم موجودگی نے انتخابی عمل کو زیادہ منظم اور کنٹرولڈ بنانے میں کردار ادا کیا، جبکہ انتخابی اداروں کی بروقت کارروائی نے شفافیت کے دعووں کو تقویت دی ہے۔ آنے والے دنوں میں نتائج کے ساتھ ساتھ یہ بھی واضح ہوگا کہ یہ سکیورٹی حکمت عملی کس حد تک دیرپا اثرات مرتب کرتی ہے۔

بھارت ایکسپریس اردو۔

Sibghatullah

Recent Posts

LPU Student Protest: ایل پی یو میں طلبہ کا احتجاج بے قابو، پولیس کے ساتھ جھڑپ، فگواڑا-جالندھر ہائی وے جام، کئی گاڑیاں میں لگائی آگ

لولی پروفیشنل یونیورسٹی کے باہر احتجاج نے اختیار کی پُرتشدد شکل، طلبہ نے نعرے بازی…

3 hours ago

Ashok Singhal Birth Centenary: اشوک سنگھل کی جنم صدی پر گونجا ’رام نام‘، مرکزی وزیر داخلہ امت شاہ نے نوجوانوں سے کیا اپیل

بھارت منڈپم میں منعقدہ افتتاحی تقریب میں مرکزی وزیر داخلہ امت شاہ نے اشوک سنگھل…

4 hours ago

Virat Kohli Century: ترواننت پورم میں ’کنگ کوہلی‘ کا طوفان! سنچری جڑ کر ویسٹ انڈیز کو کیا بے حال، ہندوستان نے 8 وکٹ سے ہرایا

 ہندوستان نے وراٹ کوہلی اور کپتان شبھمن گل کی شاندار سنچریوں کی بدولت اتوار کو…

4 hours ago

Amit Shah Congress Challenge: امت شاہ کی کانگریس کو دوٹوک للکار، کہا- بے بنیاد دعوؤں کے بجائے اعداد و شمار کے ساتھ کریں بات

مرکزی وزیر داخلہ امت شاہ نے اتوار کو کانگریس پر حملہ تیز کرتے ہوئے سابق…

4 hours ago