جموں و کشمیر کے کٹھوعہ ضلع میں موسلادھار بارش کے درمیان بادل پھٹ گئے ہیں۔ وادی کے علاقے میں بادل پھٹنے کی وجہ سے کئی مکانات ملبے اور سیلابی پانی کے نیچے دب گئے۔ جموں-پٹھانکوٹ قومی شاہراہ کو بھی نقصان پہنچنے کی اطلاعات ہیں۔ ریسکیو ٹیمیں راحت اور بچاؤ کے کام کے لیے موقع پر موجود ہیں اور صورتحال کو سنبھالنے کی کوششیں جاری ہیں۔حکام نے بتایا کہ ہفتہ اور اتوار کی درمیانی رات کٹھوعہ ضلع کے راجباغ علاقے کے جوڈ ویلی گاؤں میں بادل پھٹنے کی واردات ہوئی۔
اس واقعہ کی وجہ سے گاؤں کا باقی علاقوں سے رابطہ منقطع ہوگیا ہے اور زمین و املاک کو نقصان پہنچا ہے۔ اگرچہ ابتدائی طور پر کسی جانی نقصان کی کوئی اطلاع نہیں تھی لیکن بعد میں چار افراد کے ہلاک اور چھ افراد کے زخمی ہونے کی اطلاعات سامنے آئیں۔پولیس اور ایس ڈی آر ایف کی ایک مشترکہ ٹیم کو فوری طور پر گاؤں بھیجا گیا۔ حکام کا کہنا ہے کہ صورتحال پر نظر رکھی جا رہی ہے۔ خبر ہے کہ لوگوں کے گھروں میں ملبہ جمع ہوگیا ہے اور قریبی گاڑیاں بھی ملبے تلے دب گئی ہیں۔
ان کے علاوہ کٹھوعہ پولیس اسٹیشن کے تحت آنے والے باگارڈ اور چانگرا گاؤں اور لکھن پور تھانہ کے تحت دلوان ہٹلی علاقے میں بھی شدید بارش کی وجہ سے لینڈ سلائیڈنگ ہوئی ہے۔ تاہم یہاں کسی بڑے نقصان کی کوئی خبر نہیں ہے۔شدید بارشوں کی وجہ سے بیشتر آبی ذرائع کی سطح آب میں اچانک اضافہ ہوا ہے۔ دریائے اُجھ بھی خطرے کے نشان کے قریب بہہ رہا ہے۔ ضلعی انتظامیہ نے لوگوں سے اپیل کی ہے کہ وہ حفاظت کے لیے پانی کے ذرائع سے دور رہیں اور انتظامیہ کی ہدایات پر عمل کریں۔ غور طلب ہے کہ اس سے قبل کشتواڑ ضلع کے چسوتی میں بادل پھٹنے کا ایک واقعہ پیش آیا تھا جس میں کم و بیش 65 لوگوں کی موت ہو گئی تھی۔
بھارت ایکسپریس۔
ایرانی بحریہ نے تیل بردار جہاز کو ’خلاف ورزی کرنے والا‘ جہاز قرار دیا۔ بیان…
صدر جمہوریہ نے کہا کہ حب الوطنی کے جذبے سے سرشار نوجوان ہندوستانی اقدار کو…
بھارت ایکسپریس کے سی ایم ڈی اور ایڈیٹر اِن چیف اپیندر رائے کی میزبانی میں…
الیکشن کمیشن آف انڈیا (ای سی آئی) نے ووٹر لسٹ کی خصوصی گہری نظرثانی (ایس…
ممبئی کے وکرولی ریلوے اسٹیشن پر ایک نوجوان کی بہادری کا ویڈیو سوشل میڈیا پر…
اندریش کمار نے سونیا گاندھی کی کتاب پر اٹھائے سوالات، راہل گاندھی پر بھی تنقید،…