اے آئی ایم آئی ایم کے سربراہ اسدالدین اویسی۔ (فائل فوٹو)
تروپتی مندرتنازعہ کےبعد اب آل انڈیا مجلس اتحاد المسلمین (اے آئی ایم آئی ایم) کے سربراہ اسدالدین اویسی اجمیرمیں خواجہ معین الدین چشتی درگاہ کے خلاف چل رہے مقدمے سے متعلق بڑا بیان دیا ہے۔ انہوں نے اس معاملے سے متعلق مرکزی وزیربرائے اقلیتی امورکرن رجیجوپرتنقید کی۔ ساتھ ہی کرن رجیجو سے کئی سوال بھی پوچھے۔ اسدالدین اویسی نے سوشل میڈیا پلیٹ فارم ایکس پرلکھا کہ اجمیرمیں خواجہ معین الدین چشتی کی درگاہ کے خلاف اب مقدمہ چل رہا ہے، جس میں دعویٰ کیا گیا ہے کہ یہ ایک مندر ہے۔
مسلمانوں کے لئے مشعل راہ ہیں خواجہ معین الدین چشتی: اویسی
اسدالدین اوسی نے کہا کہ خواجہ معین الدین چشتی ہندوستانی مسلمانوں کے لئے مشعل راہ رہے ہیں۔ ان کی درگاہ بلاشبہ مسلمانوں کے لیے سب سے زیادہ دیکھے جانے والے مذہبی مقامات میں سے ایک ہے۔ انہوں نے درگاہ کومندرکہنے پرکرن رجیجوسے پوچھا کہ اس معاملے پر اقلیتی امورکی وزارت کا کیا موقف ہے؟
وقف بل کے بارے میں بھی کہی یہ بڑی بات
اسدالدین اویسی نے پوچھا کہ کی آپ 1955 کے درگاہ خواجہ صاحب ایکٹ اور1991 کے عبادت گاہوں سے متعلق ایکٹ (پلیس آف ورشپ ایکٹ) کی حمایت کریں گے؟ کیا آپ قوانین کونافذ کریں گے؟ 1955 کے ایکٹ کے تحت ایک سرکاری ملازم مودی حکومت کے وقف بل کی تعریف کررہا ہے۔ اس مقدمے پران کا کیا رخ ہے؟ وقف بل ہماری عبادت گاہوں کوتجاوزات اوربے حرمتی کا شکاربنا دے گا۔
بہار قانون ساز کونسل کی 4 گریجویٹ اور 4 ٹیچر حلقوں سمیت کل 8 نشستوں…
آل انڈیا یونانی طبی کانگریس کے سکریٹری جنرل ڈاکٹر سید احمد خاں نے کہا کہ…
اس حساب سے اگر تقریباً 5 سیکنڈ کی اے آئی ویڈیو تیار کی جائے تو…
تمل ناڈو حکومت نے پیروُنتھلایور کامراج ناشتہ اسکیم کے بہتر نفاذ کے لیے حکام کو…
ساحل کے والد نے صرف استاد کے خلاف ہی نہیں بلکہ فیکلٹی کے سینئر افسران…
اویسی نے حال ہی میں بھوپال میں منعقد اپنے پروگرام کا بھی ذکر کیا۔ وہاں…