نئی دہلی میں منعقدہ ’’انکم ٹیکس اپیلیٹ ٹریبونل (ITAT) کردار، چیلنجز اور مستقبل کی راہ‘‘ کے موضوع پر سیمینار اور اعزازی تقریب میں ہندوستان کے چیف جسٹس جسٹس بی آر گوئی کو اعزاز سے نوازا گیا۔ اس موقع پر انہوں نے ایک جامع اور متاثر کن خطاب کیا، جس میں ITAT کی تاریخ، خدمات، چیلنجز اور اصلاحات کی ضرورت پر تفصیل سے روشنی ڈالی۔
ITAT کی تاریخ اور اہمیت
جسٹس گوئی نے کہا کہ انکم ٹیکس اپیلیٹ ٹریبونل کی بنیاد 1941 میں رکھی گئی تھی، جب یہ محسوس کیا گیا کہ ٹیکس قوانین کی بڑھتی ہوئی پیچیدگیوں کو روایتی عدالتی نظام کے ذریعے مؤثر طور پر حل نہیں کیا جا سکتا۔ یہ ادارہ ماہرینِ قانون اور محاسبین (Accountants) کی مشترکہ مہارت کے ساتھ قائم کیا گیا تاکہ ٹیکس سے متعلق تنازعات کے منصفانہ، درست اور تیز تر فیصلے دیے جا سکیں۔ انہوں نے کہا کہ یہ بنیادی نظریہ آج بھی ITAT کے لیے رہنما اصول ہے، جو قانون اور مالیات کے پیچیدہ رشتوں کو سمجھنے اور بر وقت باخبر فیصلے دینے کی صلاحیت رکھتا ہے۔ انہوں نے مزید کہا کہ ITAT نہ صرف ٹیکس تنازعات کے حل میں مدد دیتا ہے بلکہ وسیع عدالتی نظام کی مضبوطی میں بھی اہم کردار ادا کرتا ہے۔
زیر التواء مقدمات میں بڑی کمی، مگر چیلنج برقرار
جسٹس گوئی نے اعتراف کیا کہ زیر التواء مقدمات (پینڈنسی) عدالتوں اور ٹریبونلوں کے لیے ایک سنگین مسئلہ ہے۔ انہوں نے کہا کہ گزشتہ پانچ برسوں میں ITAT میں پینڈنسی 85 ہزار سے گھٹ کر 24 ہزار تک لائی گئی ہے، جو ایک قابلِ فخر کامیابی ہے۔ انہوں نے اس کامیابی کا سہرا ITAT کے اراکین اور بار کے اشتراک کو دیا۔ تاہم، انہوں نے خبردار کیا کہ اب بھی 6.85 لاکھ کروڑ روپے کے تنازعات زیرِ غور ہیں، جو بھارت کے GDP کے تقریباً 2 فیصد کے برابر ہیں۔ انہوں نے یہ بھی کہا کہ غیر متفقہ فیصلے (Divergent Judgments) ایک اور بڑا چیلنج ہیں، جو ٹیکس دہندگان، وکلاء اور حکام کے درمیان غیر یقینی پیدا کرتے ہیں اور نظام پر اعتماد کو متاثر کرتے ہیں۔
نظام میں اصلاحات کے لیے جامع وژن کی ضرورت
جسٹس گوئی نے زور دیا کہ اصلاحات کے لیے وسیع اور مربوط نقطہ نظر (Comprehensive Approach) اپنانا ہوگا۔ انہوں نے کہا کہ تقرری، مدتِ کار، تربیت، کیس مینجمنٹ اور ٹیکنالوجی جیسے امور کو ایک دوسرے سے جڑے ہوئے عناصر کے طور پر دیکھنا چاہیے، نہ کہ الگ الگ پالیسیوں کے طور پر۔ انہوں نے تجویز دی کہ: تقرری کا عمل شفاف ہو، تاکہ عوام کا اعتماد قائم رہے۔ مدتِ کار (Tenure) ایسی ہو کہ تسلسل برقرار رہے اور ادارہ اپنی ادارہ جاتی یادداشت اور فیصلہ سازی کی صلاحیت کو محفوظ رکھ سکے۔ سینئر وکلاء کو درمیانی کیریئر میں تقرری کا موقع دیا جائے تاکہ تجربہ کار افراد ITAT سے وابستہ ہو سکیں۔
خصوصی بینچوں، تربیت اور شفافیت پر زور
جسٹس گوئی نے تربیت (Training) کو ادارہ جاتی ترقی کی کلید قرار دیتے ہوئے کہا کہ: ’’منظم انڈکشن پروگرام، مسلسل عدالتی تربیت، اور مشترکہ ورکشاپس ناگزیر ہیں، جن میں ارکان، افسران اور بار سب شریک ہوں۔‘‘ انہوں نے تجویز دی کہ: غیر متفقہ فیصلوں کے حل کے لیے خصوصی بینچیں تشکیل دی جائیں۔ شفاف داخلی حوالہ جاتی طریقہ کار (Reference Protocol) اپنایا جائے۔ انتظامی ڈھانچے میں بہتری لائی جائے، جیسے مستقل سکریٹریٹ، مؤثر رجسٹری سپورٹ اور انفراسٹرکچر پر کنٹرول تاکہ عدالتی عمل ہموار رہے۔
ٹیکس قانون صرف تکنیکی نہیں
اپنے خطاب کے اختتام پر جسٹس گوئی نے کہا کہ ٹیکس قانون محض ایک تکنیکی شعبہ نہیں، بلکہ یہ ریاستی طاقت کا وہ حصہ ہے جو افراد کی روزی، کاروبار اور عزتِ نفس سے براہِ راست تعلق رکھتا ہے۔ انہوں نے کہا کہ ITAT کا کردار صرف ریاست کے محصولات کے تحفظ تک محدود نہیں، بلکہ یہ ہر شہری کی عزت، روزگار اور اعتماد کی حفاظت بھی کرتا ہے۔ جسٹس گوی نے ITAT اور بار کے اشتراک سے منعقدہ اس تقریب کی تعریف کی اور اعزاز کے لیے سب کا شکریہ ادا کرتے ہوئے کہا کہ:’’اگر ہم انصاف میں تیزی، شفافیت اور تربیت کو ادارہ جاتی روایت بنا لیں، تو ٹیکس نظام میں عوامی اعتماد نئی بلندیوں کو چھو لے گا۔‘‘
بھارت ایکسپریس اردو۔
یکم اکتوبر سے سبسڈی والے گھریلو ایل پی جی ری فل کی بکنگ کے لیے…
وزیر اعظم نریندر مودی نے ہفتہ کو کہا کہ پائیدار ترقی (Sustainability) ہندوستان کی روایت…
اننت سنگھ نے نیرج کمار کے خلاف کھل کر محاذ کھولا، آزاد امیدوار انوج سنگھ…
لیفٹیننٹ گورنر ڈاکٹر دنیش شرما نے کہا کہ انڈمان نکوبار میں نئے سیاحتی مراکز تیار…
بھارت ایکسپریس کے اردو صحافت کانکلیو میں مرکزی وزیر کرن رجیجو نے اردو کو محبت…
وزیر اعظم نریندر مودی نے سوشل میڈیا پلیٹ فارم ’ایکس‘ پر لکھا کہ آئچی-ناگویا میں…