قومی

Celebi Aviation moves court: سیلبی ایوی ایشن نے سیکورٹی کلیئرنس کی منسوخی کے خلاف کھٹکھٹایا عدالت کا دروازہ، کہا-ہمارا ترکیہ کی حکومت سے کوئی تعلق نہیں

قومی سلامتی کا حوالہ دیتے ہوئے مرکز کے ذریعہ سیکورٹی کلیئرنس کو منسوخ کرنے کے ایک دن بعد ترکی میں مقیم ایوی ایشن فرم Celebi (سیلبی) نے دہلی ہائی کورٹ سے رجوع کیا ہے اور حکومت کے اس فیصلے کو چیلنج کیا ہے۔ واضح رہے کہ مرکز کا یہ حکم آپریشن سندور کے بعد ہندوستان کے ساتھ دشمنی کے دوران ترکی کی طرف سے پاکستان کی حمایت کے تناظر میں سامنے آیا ہے۔

حکومت کہا قومی سلامتی کے مفاد میں اٹھایا گیا ہے قدم

جمعرات کو بیورو آف سول ایوی ایشن سیکورٹی نے گراؤنڈ ہینڈلنگ اور کارگو خدمات فراہم کرنے والی ترکی فرم سیلبی کا سیکورٹی کلیئرنس منسوخ کر دیا تھا، جو ہندوستان کے نو بڑے ہوائی اڈوں پر کام کر رہی تھی۔ آرڈر میں کہا گیا ہے کہ سیکیورٹی کلیئرنس کو ’’قومی سلامتی کے مفاد میں‘‘ منسوخ کیا جا رہا ہے۔

وہیں شہری ہوابازی کے وزیر مملکت مرلی دھر مہول نے کہا تھا کہ ’’سیلبی ایئرپورٹ سروسز انڈیا پرائیویٹ لمیٹیڈ ایک ترکی میں قائم کمپنی ہے جو ملک کے بہت سے ہوائی اڈوں پر گراؤنڈ ہینڈلنگ کی خدمات فراہم کرتی ہے۔ ترکی نے کھل کر پاکستان کی حمایت کی تھی۔ موجودہ صورت حال کے پیش نظر یہ قومی سلامتی کا مسئلہ بن گیا ہے۔ لہٰذا سیکورٹی کو مدنظر رکھتے ہوئے سیلبی پر ملک میں پابندی لگا دی گئی ہے۔‘‘

ہمارا کسی غیرملکی حکومت سے کوئی تعلق نہیں: سیلبی

حکومت کے اس فیصلے کے خلاف جمعہ کے روز سیلبی ایئرپورٹ سروسز انڈیا نے دہلی ہائی کورٹ سے رجوع کیا ہے اور دعویٰ کیا ہے کہ ’’مبہم‘‘ قومی سلامتی کے خدشات بغیر کسی دلیل کے پیش کیے گئے ہیں۔ حکومت کو اس فیصلے کو واپس کروانے کی کوشش کرتے ہوئے کمپنی نے دلیل دی ہے کہ اس فیصلے سے3,791 ملازمتوں اور سرمایہ کاروں کے اعتماد پر اثر پڑے گا۔ اس نے یہ بھی دعویٰ کیا کہ یہ حکم بغیر کسی ابتدائی وارننگ کے جاری کیا گیا ہے۔

اس سے قبل جمعرات کو مرکز کے اعلان پر ردعمل دیتے ہوئے کمپنی نے کہا تھا کہ وہ ترکی کی فرم نہیں ہے اور اس کا کسی غیرملکی حکومت سے کوئی تعلق نہیں ہے۔ کمپنی نے اپنے بیان میں کہا تھا کہ ’’ہندوستان میں سیلبی کا کاروبار ایک ہندوستانی انٹرپرائز ہے، جس کی قیادت اور انتظام ہندوستانی پیشہ ور افراد کرتے ہیں، جو ملک میں گہری سرمایہ کاری کرتے ہیں اور اس کی ترقی کے لیے پرعزم ہیں۔ ہم کسی بھی معیار کے مطابق ترکی کی تنظیم نہیں ہیں اور کارپوریٹ گورننس، شفافیت اور غیر جانبداری کے عالمی سطح پر قبول شدہ طریقوں پر پوری طرح عمل کرتے ہیں، جس میں کسی بھی سیاسی وابستگی یا انفرادی کمپنی کا حکومت سے کوئی تعلق نہیں ہوتا۔‘‘

بھارت ایکسپریس اردو

Ghulam Mohammad

Recent Posts

Water crisis in Delhi or the tanker business? دہلی میں پانی کا بحران یا ٹینکروں کا کاروبار؟ بھارت ایکسپریس کی تحقیقاتی رپورٹ میں چونکا دینے والے انکشافات

کیشوپور، جنک پوری، روہنی، سونیا وہار اور منگول پوری سمیت کئی علاقوں میں خفیہ کیمرے…

6 hours ago

PM Modi speaks with Canada PM Mark Carney: ’’ہندوستان اور کینیڈا کے تعلقات میں مثبت پیش رفت کو آگے بڑھانے پر اتفاق‘‘ وزیراعظم مودی کی مارک کارنی سے گفتگو

تجارت، توانائی، ٹیکنالوجی، سلامتی اور عوامی روابط سمیت اہم شعبوں میں ٹھوس نتائج حاصل کرنے…

7 hours ago

Rahul Gandhi Defamation Case: ’چوکیدار چور ہے‘ ہتک عزت معاملے میں راہل گاندھی کو سپریم کورٹ سے بڑی راحت، نچلی عدالت کی کارروائی پر روک

وزیر اعظم نریندر مودی کے خلاف مبینہ ’چوکیدار چور ہے‘ تبصرے سے متعلق فوجداری ہتک…

7 hours ago