نئی دہلی: سینٹرل بورڈ آف سیکنڈری ایجوکیشن (سی بی ایس ای) کے آن اسکرین مارکنگ (او ایس ایم) نظام کو لے کر بڑھتے تنازعہ کے درمیان مرکزی حکومت نے بڑا انتظامی قدم اٹھاتے ہوئے بورڈ کے چیئرمین اور سیکریٹری کا تبادلہ کر دیا ہے۔ اس کے ساتھ ہی آن اسکرین مارکنگ خدمات کی خریداری، اس کے نفاذ اور مجموعی عمل کی جانچ کے لیے ایک خصوصی تحقیقاتی کمیٹی بھی تشکیل دے دی گئی ہے۔ اس فیصلے کو ملک کے تعلیمی نظام میں شفافیت اور جوابدہی کو یقینی بنانے کی سمت ایک اہم اقدام قرار دیا جا رہا ہے۔ یہ پیش رفت ایسے وقت میں سامنے آئی ہے جب گزشتہ کئی ماہ سے طلبہ، والدین اور تعلیمی ماہرین کی جانب سے آن اسکرین مارکنگ نظام کے بارے میں مسلسل سوالات اٹھائے جا رہے تھے۔ متعدد شکایات میں دعویٰ کیا گیا کہ ڈیجیٹل جانچ کے عمل میں شفافیت کی کمی ہے اور بعض طلبہ کے نتائج ان کی توقعات اور جوابی کاپیوں کے معیار سے مطابقت نہیں رکھتے۔
ذرائع کے مطابق حکومت نے معاملے کی حساسیت کو مدنظر رکھتے ہوئے او ایس ایم خدمات کی خریداری اور اس سے متعلق تمام انتظامی و تکنیکی مراحل کی تفصیلی جانچ کا فیصلہ کیا ہے۔ اسی مقصد کے تحت قائم کی گئی خصوصی کمیٹی پورے نظام کا جائزہ لے گی اور اپنی رپورٹ حکومت کو پیش کرے گی۔ کمیٹی اس بات کا بھی جائزہ لے گی کہ آیا ڈیجیٹل جانچ کے دوران کسی قسم کی تکنیکی یا انتظامی خامی تو پیش نہیں آئی جس کے باعث طلبہ کو نقصان اٹھانا پڑا ہو۔ اسی سلسلے میں 2 جون کو پارلیمنٹ کی تعلیم، خواتین، اطفال، نوجوانوں اور کھیلوں سے متعلق قائمہ کمیٹی کا ایک اہم اجلاس منعقد ہوا۔ پارلیمنٹ ہاؤس اینیکسی میں ہونے والے اس اجلاس میں سی بی ایس ای کے امتحانی نظام، زبان کی پالیسی اور آن اسکرین مارکنگ سے متعلق شکایات پر تفصیلی تبادلہ خیال کیا گیا۔ اجلاس میں طلبہ، والدین اور تعلیمی حلقوں کی جانب سے موصول ہونے والی شکایات اور تجاویز کا بھی جائزہ لیا گیا۔
اجلاس کے دوران سب سے زیادہ توجہ بارہویں جماعت کے امتحانات میں نافذ کیے گئے آن اسکرین مارکنگ نظام پر مرکوز رہی۔ اس نظام کے تحت طلبہ کی جوابی کاپیوں کو اسکین کرکے ڈیجیٹل شکل میں امتحان لینے والے اساتذہ کو بھیجا جاتا ہے، جہاں وہ کمپیوٹر اسکرین پر ہی جوابات کا جائزہ لے کر نمبرات تفویض کرتے ہیں۔ سی بی ایس ای کا مؤقف ہے کہ اس طریقہ کار سے جانچ کا عمل زیادہ تیز، یکساں اور شفاف بنایا جا سکتا ہے، جبکہ انسانی غلطیوں کے امکانات بھی کم ہو جاتے ہیں۔ تاہم متعدد طلبہ اور والدین نے اس نظام پر سنگین تحفظات کا اظہار کیا ہے۔ ان کا کہنا ہے کہ کئی طلبہ کے حاصل کردہ نمبرات ان کے جوابات کے معیار سے مطابقت نہیں رکھتے۔ بعض شکایات میں یہ دعویٰ بھی کیا گیا کہ جو جوابی کاپی انہیں دکھائی گئی وہ ان کی اصل کاپی نہیں تھی۔ ان الزامات کے بعد متاثرہ طلبہ کو پارلیمانی کمیٹی کے سامنے اپنا موقف پیش کرنے کا موقع دیا گیا۔
والدین اور طلبہ نے دوبارہ جانچ اور جوابی کاپیوں کی تصدیق کے عمل میں شفافیت کی کمی کا مسئلہ بھی اٹھایا۔ شکایات میں اسکیننگ کے معیار، ڈیجیٹل تشخیص کے دوران ممکنہ تکنیکی خرابیوں، نمبرات اپ لوڈ کرنے میں غلطیوں اور نتائج کی تصدیق کے پیچیدہ طریقہ کار کو اہم وجوہات قرار دیا گیا۔ تعلیمی ماہرین کا کہنا ہے کہ ڈیجیٹل ٹیکنالوجی کا استعمال جدید تعلیمی نظام کی ضرورت ہے، لیکن اس کے ساتھ مؤثر نگرانی اور شفاف طریقہ کار بھی ناگزیر ہے۔ ان کے مطابق اگر طلبہ کے اعتماد کو برقرار رکھنا ہے تو جانچ کے نظام میں پیدا ہونے والے تمام شکوک و شبہات کو دور کرنا ضروری ہوگا۔ حکومت کی جانب سے چیئرمین اور سیکریٹری کے تبادلے اور خصوصی تحقیقاتی کمیٹی کے قیام کو اسی سلسلے کی ایک اہم کڑی سمجھا جا رہا ہے۔ اب تمام نظریں کمیٹی کی رپورٹ پر مرکوز ہیں، جس کی بنیاد پر مستقبل میں سی بی ایس ای کے امتحانی اور جانچ کے نظام میں مزید اصلاحات متوقع ہیں۔
بھارت ایکسپریس اردو۔
جلیل اختر کو 19 جون کو پولیس نے حراست میں لیا تھا، عدالت نے سرکاری…
ٹرانسپورٹ ماہرین کا کہنا ہے کہ قوانین پر عمل یقینی بنانا ضروری ہے، لیکن ضابطے…
مرکزی وزیر کرن رجیجو نے اردو صحافت کی شاندار روایت، بدلتے دور میں اس کے…
13 ستمبر کو بھارت نے پہلا میچ 7 وکٹ سے جیتا، جب کہ دوسرے مقابلے…
’ماحولیات اور آب و ہوا کی حرکیات کا مستقبل‘ کے موضوع پر دو روزہ کانفرنس،…
زمبابوے کی جانب سے گیند بازی میں بریڈ ایونز نے سب سے زیادہ 3 وکٹیں…