قومی

Dharamshala College Case: ہماچل پردیش: 19 سالہ طالبہ کی موت، تین طالبات پر ریگنگ اور پروفیسر پرجنسی ہراسانی کا مقدمہ درج، متاثرہ کے والد نے انصاف کی لڑائی چھیڑ دی

ہماچل پردیش کے خوبصورت کنگڑا ضلع سے سامنے آنے والا یہ واقعہ نہ صرف دل دہلا دینے والا ہے ،بلکہ تعلیمی نظام اور سماج دونوں پر سنگین سوالات کھڑے کرتا ہے۔ دھرم شالہ کے ایک سرکاری کالج میں زیر تعلیم 19 سالہ طالبہ کی موت کے بعد اس معاملے نے پورے علاقے کو ہلا کر رکھ دیا ہے۔ طالبہ اب اس دنیا میں نہیں رہی، مگر اس کی موت کے پیچھے سامنے آنے والی کہانی ہر حساس دل کو جھنجھوڑ دینے والی ہے۔تحقیقات میں یہ بات سامنے آئی ہے کہ طالبہ کو کالج میں مسلسل اذیت کا سامنا تھا۔ الزام ہے کہ کالج کی تین سینئر طالبات نے ریگنگ کے نام پر اس کے ساتھ بدسلوکی، ذہنی دباؤ اور مارپیٹ کی۔ متاثرہ طالبہ کے والد کے مطابق 18 ستمبر 2025 کو ہرشیتا، آکرتی اور کومولیکا نامی طالبات نے اسے گھیر کر شدید تشدد کیا، جس سے وہ اندر سے ٹوٹ گئی۔

معاملہ یہیں تک محدود نہیں رہا۔ کالج کے پروفیسر اشوک کمار پر بھی طالبہ کے ساتھ جنسی ہراسانی اور نازیبا سلوک کے سنگین الزامات لگے ہیں۔ ایک طرف سینئر طالبات کی ریگنگ اور دوسری جانب پروفیسر کی مبینہ گندی نیت نے طالبہ کو شدید ذہنی اور جسمانی صدمے میں مبتلا کر دیا، جسے وہ برداشت نہ کر سکی۔مسلسل اذیت اور ذہنی دباؤ کے باعث طالبہ کی صحت بگڑتی چلی گئی اور اسے پہلے مقامی طور پر اور بعد میں علاج کے لیے لدھیانہ کے ایک بڑے اسپتال میں داخل کرایا گیا۔ وہاں وہ کئی دن تک زندگی اور موت کے درمیان جدوجہد کرتی رہی، لیکن 26 دسمبر کو اس نے دم توڑ دیا۔ والد کا کہنا ہے کہ ان کی بیٹی اس قدر خوفزدہ اور صدمے میں تھی کہ بروقت پولیس سے رجوع نہیں کیا جا سکا، کیونکہ تمام توجہ اس کی جان بچانے پر مرکوز تھی۔

بیٹی کی موت کے بعد والد نے ہمت جمع کر کے انصاف کے لیے پولیس سے رجوع کیا۔ ان کی شکایت پر پولیس نے تین طالبات اور ایک پروفیسر کے خلاف مقدمہ درج کر لیا ہے۔ ملزمان پر بھارتیہ نیائے سنہتا کی سنگین دفعات کے تحت کارروائی کی گئی ہے، جن میں جنسی ہراسانی اور جان بوجھ کر چوٹ پہنچانے کی دفعات شامل ہیں۔ اس کے ساتھ ہی ہماچل پردیش ریگنگ ممانعت قانون کے تحت بھی کیس درج کیا گیا ہے۔ دھرم شالہ پولیس کے مطابق یہ ایک انتہائی حساس معاملہ ہے اور اس کے ہر پہلو کی باریک بینی سے تفتیش کی جا رہی ہے۔ کالج انتظامیہ سے متعلقہ ریکارڈ طلب کر لیے گئے ہیں اور جلد ہی تمام ملزمان سے پوچھ گچھ شروع کی جائے گی۔ متاثرہ خاندان اب انصاف کی امید لگائے ہوئے ہے اور یہ معاملہ ریاست بھر میں تعلیمی اداروں کی سلامتی پر ایک بار پھر بحث چھیڑ رہا ہے۔

بھارت ایکسپریس اردو

Abu Danish Rehman

Recent Posts

India v Afghanistan Second T20: دوسرا ٹی20، سنجو-ابھیشیک کی 88 رن کی طوفانی شراکت، بھارت نے افغانستان کو 7 وکٹ سے دی شکست

سیریز کا آخری مقابلہ 17 ستمبر کو اسی میدان پر کھیلا جائے گا۔ ٹاس ہار…

8 hours ago

Freedom from Enslavement to Technology: ٹیکنالوجی کی غلامی سے آزادی، کیا ہے بھارت کا ’ڈی- ویپنائزنگ ٹیکنالوجی‘ منصوبہ اور ڈی پی آئی ماڈل؟

یو پی آئی، ڈیٹا پروٹیکشن قانون اور سیمی کنڈکٹر مشن کے ذریعے بھارت ڈیجیٹل خودمختاری…

10 hours ago