قومی

Batla House Demolition Case: دہلی کے بٹلہ ہاؤس میں چلنے جارہا ہے بلڈوزر، لوگوں میں دہشت کا ماحول،خالی کررہے ہیں گھر اور دکانیں

دہلی کے بٹلہ ہاؤس  میں  بڑی تعداد میں رکاوٹیں (بیریکیڈنگ) لگائیں گئی ہیں، جن مکانات اور دکانوں پر دہلی ڈیولپمنٹ اتھارٹی نے نوٹس چسپاں کیا تھا، اب انہیں مکمل طور پر خالی کیا جا رہا ہے۔ دکانداروں کا کہنا تھا کہ وہ سامان پہلے ہی باندھ چکے تھے ،لیکن اب وہ اسے دکان سے ہٹا رہے ہیں۔

ذرائع کے مطابق پولیس نے بٹلہ ہاؤس کے علاقے مرادی روڈ پر بیریکیڈنگ کی تیاریاں کر لی ہیں۔ نوٹس مرادی روڈ پر چسپاں کیا گیا تھا۔ عدالت سے اسٹے کے بعد ان جائیدادوں کے علاوہ باقی جائیدادیں گرائی جا سکتی ہیں۔ دہلی پولیس سیکورٹی کے پیش نظر تیاریاں کر رہی ہے۔ بیریکیڈنگ بھی بڑے پیمانے پر کی جارہی ہے۔

پولیس نے رکاوٹیں لا کر بارات گھر کے قریب اسی گلی میں رکھا ہے، جہاں بٹلہ ہاؤس میں ڈی ڈی اے کی جانب سے مکانات گرانے کا نوٹس چسپاں کیا گیا ہے۔ تمام رکاوٹیں دیوار کے اطراف میں رکھی گئی ہیں۔ پولیس کی جانب سے رکاوٹیں لانے کے بعد سے علاقے میں بلڈوزر کی کارروائی کی باتیں ہو رہی ہیں۔ قا بل ذکر بات یہ ہے کہ  ابھی تک علاقے میں پولیس فورس تعینات نہیں کی گئی ہے۔

دہلی پولیس نے کیا کہا؟

قابل ذکر بات یہ ہے کہ  دہلی پولیس نے منگل کو جنوب مشرقی دہلی کے بٹلہ ہاؤس علاقے میں سیکورٹی سخت کر دی ہے۔ ذرائع نے بتایا کہ پولیس اہلکاروں کو شدید بارش کے درمیان کئی مقامات پر رکاوٹیں لگاتے ہوئے دیکھا گیا۔ انہوں نے کہا، “ہم نے علاقے میں رکاوٹیں کھڑی کر دی ہیں اور امن و امان برقرار رکھنے کے لیے مخبروں اور ذرائع کو متحرک کر دیا ہے۔”

یہ پیشرفت ایسے وقت میں ہوئی ہے جب دہلی ہائی کورٹ نے بٹلہ ہاؤس علاقے میں ڈی ڈی اے کی طرف سے مجوزہ انہدام پر 10 جولائی تک جمود برقرار رکھنے کی ہدایت دی ہے۔ جسٹس تیجس کریا نے 16 جون کو جاری ایک حکم میں ڈی ڈی اے اور دیگر فریقوں سے چار ہفتوں کے اندر جواب طلب کیا ہے۔ عدالت نے کیس کی اگلی سماعت 10 جولائی کو مقرر کرتے ہوئے کہا کہ اس دوران فریقین کی جانب سے جمود برقرار رکھا جائے گا۔

بھارت ایکسپریس اردو

Abu Danish Rehman

Recent Posts

India v Afghanistan Second T20: دوسرا ٹی20، سنجو-ابھیشیک کی 88 رن کی طوفانی شراکت، بھارت نے افغانستان کو 7 وکٹ سے دی شکست

سیریز کا آخری مقابلہ 17 ستمبر کو اسی میدان پر کھیلا جائے گا۔ ٹاس ہار…

7 hours ago

Freedom from Enslavement to Technology: ٹیکنالوجی کی غلامی سے آزادی، کیا ہے بھارت کا ’ڈی- ویپنائزنگ ٹیکنالوجی‘ منصوبہ اور ڈی پی آئی ماڈل؟

یو پی آئی، ڈیٹا پروٹیکشن قانون اور سیمی کنڈکٹر مشن کے ذریعے بھارت ڈیجیٹل خودمختاری…

8 hours ago