بنگلورو: کرناٹک میں قیادت کی تبدیلی سے متعلق قیاس آرائیوں کے درمیان نائب وزیر اعلیٰ اور کرناٹک پردیش کانگریس کمیٹی کے صدر ڈی کے شیوکمار جمعرات کے روز وزیر اعلیٰ سدارمیا کے ساتھ ناشتے پر اہم ملاقات کریں گے، جس کے بعد ریاستی سیاست میں ہلچل مزید تیز ہو گئی ہے۔ شیوکمار کے دفتر نے بدھ کے روز اس ملاقات کی تصدیق کرتے ہوئے بتایا کہ یہ میٹنگ جمعرات 28 مئی کو بنگلورو میں وزیر اعلیٰ کی سرکاری رہائش گاہ ’کاویری‘ میں ہوگی۔
مشترکہ پریس کانفرنس کا ہے امکان
دفتری بیان کے مطابق ڈی کے شیوکمار صبح 5 بجے نئی دہلی کے اندرا گاندھی بین الاقوامی ہوائی اڈے سے روانہ ہوں گے اور صبح 8:30 بجے بنگلورو پہنچنے کے بعد سیدھے وزیر اعلیٰ کی رہائش گاہ جائیں گے، جہاں صبح 9 بجے ملاقات طے ہے۔ ذرائع کے مطابق ملاقات کے بعد دونوں رہنما مشترکہ پریس کانفرنس بھی کر سکتے ہیں، جس میں قیادت کی تبدیلی سے متعلق جاری قیاس آرائیوں پر وضاحت دی جا سکتی ہے۔
سرخیوں میں ’بریک فاسٹ ڈپلومیسی
یاد رہے کہ دسمبر 2025 میں بھی سدارمیا اور شیوکمار کے درمیان ایک مشہور ’بریک فاسٹ ڈپلومیسی‘ میٹنگ ہوئی تھی، جو شیوکمار کی رہائش گاہ پر منعقد کی گئی تھی۔ اس موقع پر روایتی ’ناٹی کولی‘ (دیسی چکن) کے ساتھ اڈلی، ڈوسہ اور کافی پیش کی گئی تھی۔ اس وقت کانگریس قیادت اقتدار کی شراکت داری اور ممکنہ وزارتِ اعلیٰ کی تبدیلی سے متعلق خبروں کے درمیان اتحاد کا پیغام دینا چاہتی تھی۔
سرجے والا بھی پہنچیں گے بنگلورو
اس دوران کانگریس کے جنرل سکریٹری اور کرناٹک انچارج رندیپ سنگھ سرجے والا بھی بدھ کے روز بنگلورو پہنچ رہے ہیں۔ اگرچہ دفتری طور پر کہا جا رہا ہے کہ ان کا دورہ گریٹر بنگلورو اتھارٹی انتخابات کے سلسلے میں ہے، لیکن اندرونی ذرائع کے مطابق وہ اقتدار کی منتقلی کے عمل کو ہموار بنانے کے مقصد سے آرہے ہیں۔
راہل گاندھی کے کردار کی بھی چرچا
ذرائع کا کہنا ہے کہ راہل گاندھی نے سدارمیا سے عہدہ چھوڑنے کے لیے کہا ہے تاکہ ڈی کے شیوکمار کو وزیر اعلیٰ بنایا جا سکے۔ سدارمیا کے قریبی حلقوں کا کہنا ہے کہ وہ استعفیٰ دینے کے لیے تیار ہیں کیونکہ راہل گاندھی نے انہیں دوسری بار وزیر اعلیٰ بنانے میں اہم کردار ادا کیا تھا۔ حالانکہ، ان کے حامی وزراء اور قریبی لیڈر اس فیصلے کی مخالفت کر رہے ہیں اور چاہتے ہیں کہ وہ کسی بھی صورت میں عہدہ نہ چھوڑیں۔
نئے سیاسی فارمولے پر غور
اطلاعات کے مطابق کانگریس قیادت نے سدارمیا کو قومی سیاست میں بڑا کردار دینے اور ان کے بیٹے یتندرا سدارمیا کو نائب وزیر اعلیٰ بنانے کی پیشکش کی ہے۔ اس کے علاوہ مختلف برادریوں کو نمائندگی دینے کے لیے تین یا چار نائب وزرائے اعلیٰ مقرر کرنے پر بھی غور کیا جا رہا ہے تاکہ سیاسی اور سماجی توازن برقرار رکھا جا سکے۔
شیوکمار کے حامیوں میں جوش
ادھر ڈی کے شیوکمار کے حامیوں نے انہیں آئندہ وزیر اعلیٰ قرار دیتے ہوئے پوسٹرز لگانا اور سوشل میڈیا پر مبارکبادی پیغامات شیئر کرنا شروع کر دیے ہیں۔ حالانکہ، کانگریس پارٹی کی جانب سے اب تک قیادت کی تبدیلی کے حوالے سے کوئی دففتری اعلان نہیں کیا گیا ہے۔
بھارت ایکسپریس۔
گجرات سے شروع ہونے والا بالاجی ہے، جس نے محدود وسائل سے سفر شروع کیا…
راہل گاندھی کی موجودگی میں ’چھاتروں کی گونج‘ پروگرام کے دوران وزیراعظم نریندر مودی کی…
پنجاب کے بٹالہ میں اچل بائی پاس واقع سچکھنڈ نانک دھام درشن دربار میں اتوار،…
بھارت میں اکتوبر سے ملک کی پہلی کاربن مارکیٹ شروع ہونے جا رہی ہے۔ اس…
سی بی ایس ای کے مطابق وزیراعظم نریندر مودی نے 2 اگست 2026 کو ملک…
یمن کے جنگ زدہ علاقوں میں ٹویوٹا پک اَپ ٹرکوں کی اچانک بڑھتی ہوئی تعداد…