وقف ترمیمی بل پارلیمنٹ کے دونوں ایوانوں سے پاس ہو چکا ہے، لیکن اس کے خلاف مسلم تنظیموں اور اپوزیشن پارٹیوں کا احتجاج جاری ہے۔ اس درمیان شیوسینا یو بی ٹی رکن پارلیمنٹ سنجے راؤت نے دعویٰ کیا ہے کہ وقف بل پر ان کی پارٹی سے حمایت حاصل کرنے کے لیے بی جے پی لیڈران نے آخر وقت تک کوشش کی تھی۔
سنجے راؤت نے کہا کہ بی جے پی کے مرکزی اور مہاراشٹر کے سرکردہ لیڈران ادھو ٹھاکرے کی قیادت والی پارٹی کے رابطے میں تھے۔ شیوسینا یو بی ٹی لیڈر نے یہ بھی دعویٰ کیا کہ یہ بل قانونی ڈھانچے میں بدعنوانی کو لانے اور 2 لاکھ کروڑ روپے کی زمین بی جے پی کے قریبی صنعت کاروں کو دینے کے لیے لایا گیا ہے۔
یہ دعویٰ سنجے راؤت نے 5 اپریل کو میڈیا سے بات چیت کے دوران کیا۔ ساتھ ہی انھوں نے یہ بھی دعویٰ کیا کہ بی جے پی نے نوین پٹنایک کی قیادت والی بی جے ڈی پر بھی دباؤ بنایا تھا، اور لوک سبھا میں وقف بل پر بی جے ڈی کی حمایت طلب کی تھی۔ حالانکہ بی جے ڈی نے بل کی مخالفت کا ہی فیصلہ کیا۔ پھر بھی انھوں نے اپنی پارٹی کے اراکین پارلیمنٹ کو وہپ جاری نہیں کرتے ہوئے انھیں اپنی دانشمندی سے ووٹ کرنے کا مشورہ دیا تھا۔ سنجے راؤت کا کہنا ہے کہ بی جے ڈی کی طرح ہی بی جے پی والوں نے ہمارے ساتھ بھی کیا تھا، لیکن ہم تیار نہیں ہوئے۔
بھارت ایکسپریس اردو۔
ہماری کھیلوں کا سامان تیار کرنے والی صنعت کچھ کر دکھائے۔ جب بھی کوئی کھلاڑی،…
ہندوستان کی مجموعی کامیابی میں پیرا ایتھلیٹکس کا سب سے بڑا کردار رہا۔ اس شعبے…
پیکٹ بند غذائی اشیا خریدتے وقت سب سے پہلے ان میں موجود شکر کی مقدار…
اپنے سفر کو یاد کرتے ہوئے رونالڈو نے اعتراف کیا کہ ان کے کیریئر میں…
منڈل پریشد علاقائی حلقوں (ایم پی ٹی سی) اور ضلع پریشد علاقائی حلقوں (زیڈ پی…
سماج وادی پارٹی کے سربراہ اکھلیش یادو اور پارٹی کو لے کر ان کے کارکن…