قومی

Akal Takht and SGPC will oppose waqf Bill: اکال تخت اور شرومنی گرودوارہ پربندھک کمیٹی نے وقف ترمیمی بل کی مخالفت کا اعلان کیا، بل کو اقلیتوں کے حقوق کے لیے خطرہ قرار دیا

وقف ترمیمی بل کو لے جاری احتجاج کے دوران ایک بڑی پیش رفت میں اکال تخت اور شرومنی گرودوارہ پربندھک کمیٹی (ایس جی پی سی)، جسے سکھوں کی منی پارلیمنٹ کہا جاتا ہے، نے وقف ترمیمی بل 2025 کی مخالفت کرنے کے لیے مسلم تنظیموں کے ساتھ مل کر احتجج کا اعلان کیا ہے اور اس بل کو اقلیتی برادریوں کے معاملات میں برارہ راست مداخلت قرار دیا ہے۔ مسلم برادری کے رہنماؤں نے بھی فرقہ وارانہ ہم آہنگی کو مضبوط کرنے اور مشترکہ چیلنجوں کا مقابلہ کرنے کے عزم کا اظہار کرتے ہوئے ان کی حمایت کی ہے۔

حکومت اقلیتوں کو اپنے حساب سے چلانا چاہتی ہے: ہرجیندر سنگھ دھامی

ایس جی پی سی نے کہا کہ یہ بل اقلیتوں سے متعلق معاملات میں مرکزی حکومت کی براہ راست مداخلت کی نمائندگی کرتا ہے۔ ایس جی پی سی کے صدر ہرجیندر سنگھ دھامی نے کہا ’’یہ اقلیتوں سے متعلق معاملات میں مرکز کی حکومت کی براہ راست مداخلت ہے۔‘‘ انھوں نے زور دے کر کہا کہ یہ بل متعلقہ فریقوں سے مشاورت کے بغیر پیش کیا گیا، جس کی وجہ سے اہم تنازعہ کھڑا ہو گیا ہے۔ دھامی نے کہا کہ ایسا لگتا ہے کہ حکومت اقلیتوں کے حقوق کو کم کرنے اور ان کے معاملات کو اپنے ایجنڈے کے مطابق چلانے کا ارادہ رکھتی ہے۔

انھوں نے اس بات پر زور دیا کہ ایس جی پی سی اقلیتوں کے حقوق کے تحفظ کے لیے ہمیشہ پرعزم رہی ہے اور کسی بھی ایسے فیصلے کی مخالفت کرتی ہے جو اقلیتی برادریوں کے خلاف ہو۔ دھامی نے یہ بھی کہا کہ مرکزی حکومت نے پہلے بھی یکساں سول کوڈ کو متعارف کرانے جیسے اقدامات کے ذریعے اقلیتوں کو دبانے کی کوشش کی ہے، جو مختلف برادریوں کے ذاتی قوانین اور مذہبی عقائد میں براہ راست مداخلت ہے۔ انھوں نے کہا کہ حکومت اقلیتوں کے معاملات میں ان سے مشاورت کے بغیر مداخلت سے گریز کرے۔ اقلیتی برادریوں کو اپنے ورثے اور مذہبی اداروں کو محفوظ رکھنے کا پورا حق حاصل ہے اور وقف (ترمیمی) بل جیسے قوانین ان حقوق کو کمزور کرنے کی کوشش ہیں۔

اکال تخت نے پوچھا کہ اقلیتوں کا تحفظ کرنے والے بل کیوں نہیں لائے جاتے؟

وہیں اکال تخت کے قائم مقام جتھےدار کلدیپ سنگھ گرگج نے کہا ’’یہ ملک سب کا ہے اور ہر برادری کو یہاں خوشی کے ساتھ رہنے کا حق ہے۔‘‘ انھوں نے سوال کیا کہ ’’جب اقلیتوں کے حقوق کو دبانے کی بات آتی ہے تو بل بڑی تیزی سے منظور کر لیے جاتے ہیں، لیکن اقلیتوں کے حقوق کے تحفظ کے بل کہاں ہیں؟‘‘ انھوں نے کہا کہ تمام برادریوں کی عزت و آبرو کا تحفظ ہونا چاہیے اور کسی کو حق نہیں کہ کسی کو ان کے حقوق سے محروم رکھا جائے۔ انھوں نے اس بات پر بھی زور دیا کہ کسی بھی اقدام سے کسی کمیونٹی کو یہ محسوس نہیں ہونا چاہیے کہ ان کے حقوق چھینے جا رہے ہیں۔

جمعیۃ علماء ہند نے اکال تخت کے جتھے دار سے کی ملاقات

اس دوران جمعیۃ علماء ہند کے ایک وفد نے جمعہ کے روز امرتسر میں اکال تخت کے جتھےدار گیانی کلدیپ سنگھ گرگج سے ملاقات کی تاکہ وقف بل سے متعلق معاملات پر تبادلۂ خیال کیا جا سکے، جسے پارلیمنٹ سے منظور کر لیا گیا ہے۔ انھوں نے دونوں برادریوں کو درپیش مشترکہ چیلنجز، بین المذاہب تعاون کو گہرا کرنے اور سکھ اور مسلم کمیونٹیز کے درمیان فرقہ وارانہ ہم آہنگی کو تقویت دینے پر تبادلۂ خیال کیا۔ جمعیت کے وفد کے ایک رکن جاوید صدیقی نے کہا ’’برسوں سے ہم نے اکال تخت صاحب کے ساتھ قریبی روابط برقرار رکھے ہیں تاکہ یہ یقینی بنایا جا سکے کہ ابھرتے ہوئے مسائل کو اجتماعی اور پرامن طریقے سے حل کیا جائے۔ ہمارا مقصد تمام برادریوں کے حقوق کا تحفظ ہے۔‘‘

بھارت ایکسپریس اردو

Ghulam Mohammad

Recent Posts

Hasan Mahmud Makes History: حسن محمود نے رقم کی تاریخ، ٹیسٹ کرکٹ میں ہیٹ ٹرک لینے والے بنت بنگلہ دیش کے پہلے تیز گیندباز

افغانستان نے اپنے آخری چھ وکٹیں صرف 29 رنز کے اضافے پر گنوا دیں۔ افغانستان…

2 hours ago

Jantar Mantar Protest: سی جے پی کے احتجاج پر اقوام متحدہ نے ظاہر کی تشویش، کس معاملے پر کیا گیا تھا احتجاج؟

اقوام متحدہ کے دفتر برائے انسانی حقوق کے ترجمان تھامین الخیتان نے دہلی میں احتجاج…

4 hours ago