آسام کانگریس کے نومقررہ صدر گورو گوگوئی نے آسام کے وزیر اعلیٰ ہیمنتا بسوا سرما کی جانب سے لگائے گئے ان الزامات کی تردید کرتے ہوئے کہ ان کے پاکستانی اسٹیبلشمنٹ کے ساتھ مبینہ تعلقات تھے، گورو گوگوئی نے بدھ کے روز کہا کہ وہ 12 سال پہلے صرف ایک مرتبہ پاکستان گئے تھے۔
گوگوئی نے مزید کہا کہ بی جے پی اس معاملے کو ’’سی گریڈ بالی ووڈ فلم‘‘ کی طرح اٹھا رہی ہے جو ’’بری طرح سے فلاپ ہونے والی ہے۔‘‘ گوگوئی نے یہ بھی پوچھا کہ اگر انھوں نے کچھ غلط کیا ہے، تو بی جے پی کی قیادت والی مرکزی حکومت نے پچھلے 11 سالوں میں ان کے خلاف کوئی کارروائی کیوں نہیں کی؟ گوگوئی نے کہا کہ آسام کے وزیر اعلیٰ ہیمنتا بسوا سرما کانگریس قیادت کے ذہنوں میں ان کی ساکھ کے بارے میں شکوک پیدا کرنے کے ارادے سے یہ الزامات لگا رہے ہیں۔
گورو گوگوئی نے دہلی میں کی پریس کانفرنس
دہلی میں اکبر روڈ پر واقع کانگریس کے دفتر پر ایک پریس کانفرنس سے بات کرتے ہوئے گورو گوگوئی نے کہا کہ ’’الزامات لگائے جاتے ہیں لیکن میں واضح کرنا چاہتا ہوں کہ ریاست کے لوگوں کو گمراہ نہیں کیا جا سکتا۔ تقریباً 14-15 سال پہلے میری اہلیہ نے، جو کہ عوامی پالیسی کی ایک مشہور ماہر ہے، جنوبی ایشیا میں ایک بین الاقوامی پروجیکٹ پر کام کیا تھا، جس میں ماحولیاتی تبدیلی پر توجہ مرکوز کی گئی تھی۔ 2012-13 کے قریب ہندوستان واپس آنے سے پہلے اس نے ایک سال پاکستان میں گزارا تھا۔‘‘
گوگوئی نے مزید کہا کہ ’’اس کے بعد اس نے اپنا کام جاری رکھا اور 2015 میں ایک نئی نوکری لی۔ مجھے بھی 2013 میں ایک بار ان کے ساتھ پاکستان جانا یاد ہے۔لیکن ان کا (بی جے پی کا) کام بس لوگوں کو بدنام کرنا ہے اور وہ اس معاملے کو اٹھا کر ایک سی-گریڈ بالی ووڈ فلم کی طرح پیش کر رہے ہیں، جس کے بارے میں انھوں نے دعویٰ کیا ہے یہ 10 ستمبر کو ریلیز ہوگی۔ لیکن یہ فلاپ ہونے والی ہے۔‘‘ گوگوئی نے سوال کیا ہے کہ اگر ان کی بیوی یا ان کی طرف سے کوئی غلط کام ہوا ہے تو حکومت نے گزشتہ 11 سالوں میں کارروائی کیوں نہیں کی۔ انھوں نے مزید پوچھا کہ حکومت اور تحقیقاتی ایجنسیاں کیا کر رہی تھیں؟
ہیمنتا بسوا سرما نے بھی دیا جواب
دریں اثنا گوگوئی کے ان بیانات کا جواب دیتے ہوئے ہیمنتا بسوا سرما نے سوشل میڈیا پلیٹ فارم ’ایکس‘ پر لکھا ہے کہ ’’آخرکار کانگریس کے رکن پارلیمنٹ شری گورو گوگوئی نے اعتراف کر لیا کہ انھوں نے پاکستان کا دورہ کیا تھا۔ لیکن واضح رہے کہ یہ صرف آغاز ہے، اختتام نہیں۔ آگے جو کچھ ہے وہ اس سے کہیں زیادہ سنگین ہے۔ بہت سی ایسی معقول بنیادی موجود ہیں، جن کی معتبر معلومات اور دستاویزی معلومات سے بھی ہوتی ہے، جو اس طرف اشارہ کرتی ہے ہیں کہ شری گوگوئی کے پاکستانی حکومت سے تعلقات تھے۔‘‘
انھوں نے مزید کہا ’’آسام کی حکومت شفافیت اور جواب دہی کے لیے پرعزم ہے۔ وہ 10 ستمبر کو سب کچھ عام کر دے گی، بار جب خصوصی تفتیشی ٹیم (SIT) اپنی جامع تحقیقات مکمل کر لے گی۔ آسام کے لوگ اور قوم سچ کے مستحق ہیں اور وہ اسے مکمل طور پر حاصل کریں گے۔‘‘
بھارت ایکسپریس اردو
دھامرا پورٹ کو قابل تجدید بجلی فراہم کرنے کے لیے کیپٹیو رینیو ایبل پاور، تھرڈ…
اپنے امریکہ کے دورے کو یاد کرتے ہوئے پی ایم مودی نے کہا کہ مجھے…
انوپریا نے کہا کہ سنیل لوگوں کی محبت کو محسوس تو کر سکتے ہیں، لیکن…
بھارتی ریلوے کی جانب سے ایل این جی ڈوئل فیول ٹیکنالوجی اپنانا ایندھن کی کارکردگی…
اتوار کے روز جھارکھنڈ میں بارش کا اورنج الرٹ جاری کیا گیا ہے۔ جبکہ مدھیہ…
غلام نبی آزاد نے کہا کہ اس بار دو الیکشن کمشنروں نے چیف الیکشن کمشنر…