نئی دہلی – ایک طرف جہاں ترکیہ نے حالیہ دنوں میں بھارت کے خلاف پاکستان کا ساتھ دیا اور ڈرون و آپریٹر بھیجے، وہیں نیتی آیوگ نے ترکیہ کے کاروباری ماڈل اور چھوٹے و درمیانے درجے کے اداروں (MSMEs) کی تربیت کے طریقوں کی تعریف کرتے ہوئے کہا ہے کہ بھارت کو ترکیہ سے سیکھنا چاہیے۔
نیتی آیوگ نے اپنی حالیہ رپورٹ “درمیانے درجے کے اداروں کے لیے پالیسی سازی” میں ترکی کے KOSGEB ادارے اور اس کے ای-اکیڈمک پروگرام کا ذکر کرتے ہوئے کہا کہ جیسے ترکی آن لائن کاروباری تربیت فراہم کرتا ہے، ویسے ہی بھارت کو بھی آن لائن اور فاصلاتی تربیت کے ماڈلز پر کام کرنا چاہیے۔
عوام ترکیہ سے ناراض، حکومت سخت، لیکن نیتی آیوگ متاثر
پاکستان کی حمایت کرنے اور بھارت کے خلاف کھل کر میدان میں آنے والے ترکیہ کے خلاف عوام میں شدید ناراضگی ہے، اور حکومت نے بھی ترکیہ کے خلاف سخت اقدامات کیے ہیں۔
22 اپریل کے پہلگام دہشت گردانہ حملے کے بعد ہندوستان نے 6-7 مئی کی درمیانی شب پاکستان میں دہشت گرد ٹھکانوں پر اسٹرائیک کی تھی، جس کے جواب میں پاکستان نے ترکی، چین اور آذربائیجان کی مدد سے جوابی حملے کی کوشش کی، جس میں ترک ڈرونز اور آپریٹرز بھی شامل تھے۔ ترکی کے صدر رجب طیب اردگان نے بھی کئی بار کہا کہ وہ پاکستان کے ساتھ کھڑے ہیں۔
نیتی آیوگ کی رپورٹ میں کیا کہا گیا؟
ان سب کے باوجود نیتی آیوگ نے اپنی رپورٹ میں ترکیہ کی مثال دیتے ہوئے کہا: “ترکیہ اُن ممالک میں سے ہے جن سے بھارت یہ سیکھ سکتا ہے کہ چھوٹے اور درمیانے درجے کے اداروں میں مہارت کی کمی کو کس طرح پورا کیا جا سکتا ہے۔” رپورٹ میں ترکیہ، کینیڈا، سنگاپور اور ملیشیا کے تربیتی ماڈلز کو بھی سراہا گیا ہے۔ خاص طور پر KOSGEB کے ای-اکیڈمک پروگرام کو قابل تقلید قرار دیا گیا، جو خواتین، نوجوانوں اور معذور کاروباری افراد کو ترجیحی بنیاد پر تربیت دیتا ہے، وہ بھی وقت اور جگہ کی قید کے بغیر۔
رپورٹ میں دیگر کون سی تجاویز پیش کی گئیں
نیتی آیوگ کی رپورٹ میں MSMEs کے لیے متعدد تجاویز دی گئی ہیں:
* مارکیٹ ریٹس پر پانچ کروڑ روپے تک کے کریڈٹ کارڈز کی سہولت
* کام کرنے کی سرمایہ کاری کے لیے تیز مالی فراہمی کا نظام
* ایم ایس ایم ای وزارت کے تحت تحقیق و ترقی کا خصوصی یونٹ
* خود انحصار بھارت فنڈ سے کلستر پر مبنی قومی منصوبوں کو فروغ
رپورٹ میں کہا گیا کہ MSME شعبہ ملک کی جی ڈی پی میں 29 فیصد، برآمدات میں 40 فیصد حصہ دیتا ہے، اور 60 فیصد سے زائد ورک فورس کو روزگار فراہم کرتا ہے۔
جہاں ایک طرف ترکیہ کا رویہ بھارت کے لیے خطرناک اور مخالفانہ رہا ہے، وہیں نیتی آیوگ کی اس رپورٹ پر سیاسی اور عوامی حلقوں میں حیرت اور تنقید کی لہر دوڑ گئی ہے۔ کئی مبصرین نے سوال اٹھایا ہے کہ کیا ایک دشمن رویہ رکھنے والے ملک کی پالیسیوں کو مثال بنا کر پیش کرنا درست ہے؟ یہ رپورٹ ایک تکنیکی اور پالیسیاتی سفارش کے طور پر آئی ہے، لیکن اس کے سیاسی مضمرات کو نظرانداز نہیں کیا جا سکتا۔
بھارت ایکسپریس اردو۔
مرکزی وزیر داخلہ امت شاہ کی طویل عمر اور صحت مند زندگی کے لیے نیک…
آل انڈیا اسٹوڈنٹس ایسوسی ایشن (AISA) کی صدر نیہا بورا کی عرضی پر دہلی ہائی…
پولیس نے حضرت گنج تھانے میں شردھا دوبے سے تقریباً 6 گھنٹے تک پوچھ گچھ…
دوارکا میں 8,941 کروڑ روپے کے یمنا پروجیکٹس کا افتتاح کرتے ہوئے مرکزی وزیر داخلہ…
اسرائیلی وزیر اعظم نے کیپٹن اسمت مچھار کو ’بھارت کا بہادر پائلٹ‘ قرار دیا۔ دونوں…
کانگریس لیڈر عمران پرتاپ گڑھی نے کہا کہ ہم سب جامعہ ملیہ اسلامیہ میں بھوک…