پولیٹیکل اسٹریٹجسٹ پرشانت کشور
بہار اسمبلی انتخابات 2025 کے نتائج نیشنل ڈیموکریٹک الائنس (این ڈی اے) کے لیے 202 نشستوں کی حیران کن جیت لے کر آئے، جس نے سب کو چونکا دیا۔ اس کامیابی کے تجزیے میں اہم کردار پرشانت کشور یعنی پی کے اور ان کی نئی پارٹی جن سوراج پارٹی (JSP) کو دیا جا رہا ہے۔ اگرچہ جے ایس پی ایک بھی سیٹ جیتنے میں کامیاب نہیں ہو سکی، لیکن اعداد و شمار واضح کرتے ہیں کہ پی کے نے نادانستہ طور پر این ڈی اے کو فائدہ پہنچایا اور عظیم اتحاد کی امیدوں کو شدید نقصان پہنچایا۔ یہی وجہ ہے کہ اپوزیشن کی جانب سے ان پر بی جے پی کی بی ٹیم ہونے کے الزامات مزید مضبوط ہو گئے ہیں۔
پرشانت کشور کی پانچ مشکوک حکمت عملیاں
1۔ تیجسوی یادو پر براہ راست حملہ
پرشانت کشور نے اپنی پوری انتخابی حکمت عملی کا نشانہ وزیر اعظم مودی یا نتیش کمار کو بنانے کے بجائے، تیزسوی یادو کو بنایا۔ انہوں نے تیجسوی کو نویں فیل کہہ کر طنز کیا اور جنگل راج کی یاد دلا کر آر جے ڈی کے خلاف خوف کا ماحول تیار کیا۔ اس سے آر جے ڈی کی نوجوانوں میں جو اپیل تھی وہ کمزور پڑی اور غصے کے ووٹ عظیم اتحاد کو ملنے کے بجائے جے ایس پی کی طرف چلے گئے۔
2۔ مودی اور نتیش کے لیے نرم گوشہ
انتخابی مہم کے دوران پی کے نے وزیر اعظم مودی اور نتیش کمار پر کوئی سخت تنقید نہیں کی۔ ایک انٹرویو میں، جب ان سے نتیش یا تیجسوی میں سے کسی ایک کو چننے کو کہا گیا، تو انہوں نے نتیش کا نام لیا، جس سے عوام میں پیغام گیا کہ پی کے کا جھکاؤ این ڈی اے کی طرف ہے۔ بی جے پی کے خلاف بھی ان کا رویہ محدود اور محتاط رہا۔
4۔ 35 سیٹوں پر ووٹ کٹوا کا کردار
جے ایس پی نے 238 سیٹوں پر لڑا اور 3.5 فیصد ووٹ حاصل کیے۔ 35 سیٹوں پر جے ایس پی کا ووٹ شیئر جیت کے مارجن سے زیادہ تھا، جس میں سے این ڈی اے نے 19 نشستیں جیتیں اور عظیم اتحاد کو صرف 14 ملی۔ ماہرین کے مطابق پی کے کا ووٹ شیئر عظیم اتحاد کی 10 سے 15 سیٹیں لے ڈوبا۔
4۔ مسلم ووٹ میں دراڑ اور ذات پات کا توازن
پی کے نے مسلم آبادی کے حساب سے 42 مسلم امیدوار کھڑے کیے، جس سے مسلم ووٹ تقسیم ہو گیا اور اس کا براہ راست فائدہ بی جے پی کو ہوا۔ خود اعلیٰ ذات کی برادری سے تعلق رکھنے کے باعث وہ بی جے پی کے ووٹ کاٹ سکتے تھے، لیکن نقل مکانی اور بیروزگاری جیسے مسائل پر ان کی باتیں سن کر جو ووٹر بی جے پی سے ناراض تھے، وہ عظیم اتحاد کو جانے کے بجائے دو حصوں میں تقسیم ہو گئے ، جس نقصان عظیم اتحاد کا ہوا۔
5۔ بہار کے تارکین وطن کی موبلائزیشن
روزگار اور تارکین وطن جیسے مسائل اٹھا کر انہوں نے ناراض ووٹروں کو اپنی طرف کھینچا، لیکن یہ ووٹ عظیم اتحاد کے حق میں یکجاہونے کے بجائے تقسیم ہو گئے۔جس کا نتیجہ، نہ چاہتے ہوئے بھی پرشانت کشور کی حکمت عملی نے عظیم اتحاد کو نقصان پہنچایا اور این ڈی اے کے لیے راستہ صاف کر دیا، اسی لیے انہیں بی جے پی کی بی ٹیم کہا جا رہا ہے۔
بھارت ایکسپریس اردو۔
اتر پردیش میں پیر کی دیر رات بڑا انتظامی ردوبدل کیا گیا۔ حکومت نے 34…
دہلی کے دیش بندھو گپتا روڈ تھانہ علاقے کے کشن گنج میں 7 سالہ بچی…
صدر جمہوریہ مختلف زمروں کے فاتحین کو دیں گی قومی فلم ایوارڈ، تقریب میں بالی…
فلم ’ہنومان انش‘ کی کامیابی کے بعد پروڈیوسر انوپریا ناگر ایودھیا پہنچیں، جہاں انہوں نے…
’ہندی میری جان 2026‘ کے دوسرے ایڈیشن میں 22 ستمبر کو انڈیا اسلامک کلچرل سینٹر…
راؤز ایونیو کورٹ کے پرانے حکم کو منسوخ کرکے معاملہ دوبارہ مجسٹریٹ عدالت بھیجا گیا،…