قومی

Bihar news: بیٹے کو کرسی، ہمیں صرف ضیافت؟ اُپیندر کشواہا سے ناراض تین اراکین اسمبلی کے باغی تیور، بہار میں سیاسی بھونچال کی آہٹ

بہار کی سیاست میں ایک بار پھر سیاسی بھونچال آنے کے امکانات گہرے ہو گئے ہیں۔ اس بار یہ طوفان راشٹریہ لوک مورچہ (آر ایل ایم) کے دروازے پر دستک دیتا دکھائی دے رہا ہے۔ آر ایل ایم کے صدر اُپیندر کشواہا نے اپنے رہائش گاہ پر لِٹّی–چوکّا ضیافت کا اہتمام کیا تھا۔ امید کی جا رہی تھی کہ اس ضیافت کے بہانے پارٹی کے تمام لیڈروں سے رسمی ملاقات ہو گی اور تنظیم کو مزید مضبوط کرنے پر بات چیت کی جائے گی، لیکن نتیجہ بالکل اس کے برعکس نکلا۔ اُپیندر کشواہا کے اس ضیافت میں انہی کی پارٹی کے تین اراکین اسمبلی—رامیشور مہتو، آلوک سنگھ اور مادھو آنند—شامل نہیں ہوئے، حالانکہ اس دوران وہ پٹنہ میں ہی موجود تھے۔اُپیندر کشواہا کی ضیافت میں ان کی ہی پارٹی کے تین اراکین اسمبلی کے غیر حاضر رہنے کی خبر سیاسی حلقوں میں جنگل کی آگ کی طرح پھیل گئی۔ یہ تینوں اراکینِ اسمبلی اُپیندر کشواہا سے ملنے کے بجائے دہلی روانہ ہو گئے، جہاں انہوں نے بی جے پی کے قومی ورکنگ صدر نتن نبین سے ملاقات کی۔ آر ایل ایم کے تینوں اراکینِ اسمبلی اور نتن نبین کے درمیان ہوئی یہ ملاقات بہار کی سیاست میں بحث کا مرکز بن گئی ہے۔ سیاسی تجزیہ کاروں کے درمیان بار بار یہی سوال اٹھ رہا ہے کہ کیا آر ایل ایم ٹوٹنے جا رہی ہے؟

یہ نوبت کیوں آئی؟

پارٹی کے اندر اس رسہ کشی کی جڑیں بہار میں نئی حکومت کی تشکیل کے بعد ہی مضبوط ہونے لگیں تھیں۔ پارٹی کے کئی اراکینِ اسمبلی اس امید میں تھے کہ انہیں وزیر بنایا جائے گا، جن میں رامیشور مہتو کا نام سب سے زیادہ زیرِ بحث تھا۔ لیکن اُپیندر کشواہا نے انہیں نظرانداز کرتے ہوئے اپنے بیٹے دیپک پرکاش کو وزارت کا عہدہ دے دیا۔ اس فیصلے نے پارٹی کے اندر شدید ناراضگی کو جنم دیا۔

رکن اسمبلی مہتو نے ٹویٹ کے ذریعے ظاہر کی ناراضگی

رکن اسمبلی رامیشور مہتو نے حال ہی میں پارٹی سے متعلق ایک ایسا ٹویٹ کیا، جس نے اندرونی کشمکش کو کھل کر سامنے لا دیا۔ انہوں نے سوشل میڈیا پر لکھا کہ جب قیادت کی نیت دھندلی ہو جائے اور پالیسیاں عوامی مفاد کے بجائے ذاتی مفاد کی طرف مڑنے لگیں، تو عوام کو زیادہ دیر تک گمراہ نہیں کیا جا سکتا۔

سیاسی بھنور میں اُپیندر کشواہا

اگرچہ بی جے پی نے اس ملاقات کو محض ایک رسمی کارروائی قرار دیا ہے، لیکن سیاسی مبصرین اسے ایک مختلف زاویے سے دیکھ رہے ہیں۔ ان کے مطابق تینوں اراکین اسمبلی کا ایک ساتھ اُپیندر کشواہا کی ضیافت کو مسترد کرنا اور دہلی جا کر نتن نبین سے ملاقات کرنا ایک بڑا سیاسی اشارہ ہے۔ ذرائع کے مطابق تینوں لیڈر اُپیندر کشواہا کے ساتھ اب آر یا پار کے موڈ میں ہیں۔

بھارت ایکسپریس اردو۔

Abul Kalam

Recent Posts

Join BJP Ahead of 2027 Assembly Polls: پنجاب میں اسمبلی انتخابات سے پہلے عام آدمی پارٹی کو بڑا جھٹکا، تین ارکانِ اسمبلی بی جے پی میں شامل

امرتسر نارتھ کے رکنِ اسمبلی کنور وجے پرتاپ سنگھ نے پنجاب اسمبلی کے اسپیکر کلتار…

10 minutes ago

Azam Khan: اعظم خان نے ای ڈی کی گرفتاری کو سپریم کورٹ میں کیا چیلنج، فوری سماعت کی درخواست

انفورسمنٹ ڈائریکٹوریٹ (ای ڈی) کا یہ مقدمہ رام پور میں ’مولانا محمد علی جوہر ٹرسٹ‘…

52 minutes ago

We have to get the Senate: سینیٹ پر قبضہ برقرار رکھنے کے لیے ٹرمپ نے جھونکی پوری طاقت، بولے ’ہمیں ہر حال میں جیتنا ہوگا‘

کینیڈا کے ساتھ تجارتی مذاکرات کے حوالے سے ٹرمپ نے کہا کہ دونوں ممالک کے…

2 hours ago

Cyclone Murasu: سائیکلون ’موراسو‘ مچائے گا تباہی، تیز ہواؤں اور سیلاب کا خطرہ، ماہی گیروں کو الرٹ

سمندری طوفان موراسو کے پیش نظر چنئی کے تمام اسکولوں میں پیر کے روز تعطیل…

3 hours ago

Florida Plane Crash Video: فلوریڈا میں طیارہ حادثہ، پائلٹ سمیت 9 افراد ہلاک، سڑک سے ٹکراتے ہی طیارہ آگ کے گولے میں تبدیل

حادثے کی ایک خوفناک ویڈیو بھی سامنے آئی ہے۔ کاروں میں بیٹھے لوگوں نے طیارے…

3 hours ago