نئی دہلی: مدھیہ پردیش کے دھار میں واقع بھوج شالہ کو لے کر جاری تنازعہ ایک بار پھر سرخیوں میں آ گیا ہے۔ مسلم فریق نے اب اس معاملے میں سپریم کورٹ آف انڈیا کا دروازہ کھٹکھٹاتے ہوئے مدھیہ پردیش ہائی کورٹ کے 16 مارچ کے حکم کو چیلنج کیا ہے۔
ہائی کورٹ کے حکم پر اعتراض
مدھیہ پردیش ہائی کورٹ نے اپنے حکم میں کہا تھا کہ متنازع مقام کی اصل مذہبی حیثیت طے کرنے کے لیے 2 اپریل سے باقاعدہ سماعت شروع کی جائے گی۔ اس کے ساتھ ہی عدالت نے خود موقع پر جا کر معائنہ کرنے کا بھی فیصلہ کیا تھا، جس پر مسلم فریق نے اعتراض ظاہر کیا ہے۔
مسلم فریق کا کہنا ہے کہ انہیں آرکیالوجیکل سروے آف انڈیا (اے ایس آئی) کی رپورٹ پر اعتراض درج کرنے کا مکمل موقع نہیں دیا گیا۔ ان کا ماننا ہے کہ ان کا مؤقف سنے بغیر آگے کی کارروائی مناسب نہیں ہے۔ اسی وجہ سے انہوں نے سپریم کورٹ میں عرضی دائر کی ہے، جس پر یکم اپریل کو سماعت ہونے والی ہے۔
ہائی کورٹ ججوں کا مقام کا دورہ
دوسری جانب مدھیہ پردیش ہائی کورٹ کے ججوں نے اس معاملے کو سنجیدگی سے لیتے ہوئے ہفتہ کو خود مقام کا معائنہ بھی کیا۔ اندور بنچ کے جسٹس وجے کمار شکلا اور جسٹس آلوک اوستھی دھار پہنچے اور تقریباً 55 منٹ تک بھوج شالہ کمپلیکس کا جائزہ لیا۔ اس معائنے کو کافی اہم قرار دیا جا رہا ہے۔
تنازعہ کی پرانی جڑیں
اس تنازعہ کی جڑیں کافی پرانی ہیں۔ ہندو برادری اس مقام کو ماں واگ دیوی یعنی سرسوتی کا مندر مانتی ہے، جبکہ مسلم برادری اسے کمال مولہ مسجد کے طور پر دیکھتی ہے۔ یہی وجہ ہے کہ یہ معاملہ برسوں سے جاری ہے اور اب تک اس کا کوئی حتمی حل سامنے نہیں آ سکا۔
یکم اور 2 اپریل کی تاریخیں اہم
اب 2 اپریل کی تاریخ کو بہت اہم سمجھا جا رہا ہے کیونکہ اسی دن سے ہائی کورٹ میں باقاعدہ سماعت شروع ہوگی۔ خاص بات یہ ہے کہ اسی دن ہنومان جینتی بھی ہے۔ اس سے قبل یکم اپریل کو سپریم کورٹ میں سماعت ہوگی، جس پر سب کی نظریں ٹکی ہوئی ہیں۔
بھارت ایکسپریس۔
پولیس رتن سنگھ کی شکایت کی بنیاد پر تحقیقات کر رہی ہے۔ اس سلسلے میں…
پیر کو قائم مقام چیف جسٹس نتن سامبرے نے دو عرضیوں کو سماعت کے لیے…
وزیر اعظم مودی نے کہا، ’’مصنوعی ذہانت (اے آئی) مختلف شعبوں میں ہمارے کام کرنے…
آر جے ڈی لیڈر تیجسوی یادو ایس آئی آر کے معاملے پر مسلسل حکومت اور…
متوفی دلجیت پیشے سے ڈرائیور تھا اور رگھوبیر نگر کا رہنے والا تھا۔ ذرائع کے…
آئی ایم ایف نے خبردار کیا ہے کہ توانائی کی درآمد پر انحصار کرنے والے…