نئی دہلی: بہار کے بھوجپور ضلع میں بھرت تیواری انکاؤنٹر معاملہ اب صرف ایک قانونی یا انتظامی مسئلہ نہیں رہا، بلکہ اس نے ریاست کی سیاست میں بھی ہلچل مچا دی ہے۔ اس معاملے پر این ڈی اے کے دو اہم مرکزی وزراء کے الگ الگ مؤقف سامنے آنے کے بعد اتحاد کے اندر اختلافات کی قیاس آرائیاں تیز ہو گئی ہیں۔ ایک طرف لوک جن شکتی پارٹی (رام ولاس) کے سربراہ اور مرکزی وزیر چراغ پاسوان نے بھرت تیواری کے اہل خانہ سے ملاقات کر کے انکاؤنٹر کو غلط قرار دیا، تو دوسری جانب مرکزی وزیر جیتن رام مانجھی مسلسل پولیس کارروائی کو درست ٹھہرا رہے ہیں۔
چراغ پاسوان نے بھوجپور کے بلوٹی گاؤں پہنچے، جہاں انہوں نے بھرت تیواری کو خراجِ عقیدت پیش کیا اور ان کے اہل خانہ سے ملاقات کی۔ اس موقع پر انہوں نے کہا کہ بھرت تیواری کے ساتھ ناانصافی ہوئی ہے اور ان کے خاندان کو انصاف دلانا
ان کی اولین ترجیح ہے۔ چراغ پاسوان نے یہ بھی کہا کہ معاملے کی غیر جانبدارانہ جانچ ہونی چاہیے تاکہ حقیقت عوام کے سامنے آسکے۔
कानून का राज तभी मजबूत होगा, जब कानून के रक्षक स्वयं कानून का सम्मान करेंगे। भारत तिवारी जी की जिस तरह से हत्या हुई, वह किसी भी सभ्य समाज और लोकतांत्रिक व्यवस्था में स्वीकार्य नहीं हो सकती।
मैं स्पष्ट कहना चाहता हूँ कि यदि कानून-व्यवस्था बनाए रखने वाले अधिकारी ही कानून को अपने… pic.twitter.com/GJdkiJgpjy
— Lok Janshakti Party (Ramvilas) (@LJP4India) July 3, 2026
اس کے برعکس مرکزی وزیر جیتن رام مانجھی نے ایک بار پھر انکاؤنٹر کو جائز قرار دیتے ہوئے کہا کہ بھرت تیواری ایک مجرم تھا اور پولیس کی کارروائی درست تھی۔ انہوں نے میڈیا سے گفتگو میں کہا، “یہ ضروری نہیں کہ چراغ پاسوان جو کریں، میں بھی وہی کروں۔” ان کے اس بیان نے این ڈی اے کے اندر مختلف رائے کو مزید نمایاں کر دیا ہے۔
سیاسی حلقوں میں اس بات پر بھی بحث جاری ہے کہ چراغ پاسوان کا بلوٹی گاؤں جانا پہلے سے طے شدہ پروگرام کا حصہ نہیں تھا۔ اطلاعات کے مطابق انہوں نے ایک روز قبل نئی دہلی میں مرکزی وزیر داخلہ امت شاہ سے ملاقات کی تھی، جس کے اگلے ہی دن وہ بھرت تیواری کے گھر پہنچ گئے۔ اس کے بعد یہ قیاس آرائیاں بھی شروع ہو گئی ہیں کہ آیا چراغ پاسوان کسی خاص سیاسی یا حکومتی پیغام کے ساتھ اہل خانہ سے ملنے گئے تھے یا نہیں۔
ادھر سیاسی مبصرین کا کہنا ہے کہ اب تک این ڈی اے یا بہار حکومت کے کسی برہمن برادری سے تعلق رکھنے والے وزیر نے بھرت تیواری کے اہل خانہ سے ملاقات نہیں کی تھی، جب کہ اس انکاؤنٹر کو لے کر برہمن سماج کے مختلف حلقوں میں ناراضی پائی جا رہی ہے۔ ملک کے کئی حصوں میں اس معاملے پر احتجاج بھی کیے گئے ہیں۔ ایسے میں چراغ پاسوان کا متاثرہ خاندان سے ملنا ایک اہم سیاسی اشارہ سمجھا جا رہا ہے، جس نے بہار حکومت اور نائب وزیر اعلیٰ سمراٹ چودھری کے کردار پر بھی سوالات کھڑے کر دیے ہیں۔
واضح رہے کہ 17 جون کو بھوجپور کے بلوٹی گاؤں میں پولیس انکاؤنٹر میں بھرت تیواری م انکاؤنٹر ہوا تھا۔ اس واقعے کے بعد جس پولیس افسر (ایس ڈی پی او) پر الزامات لگے تھے، انہیں ہٹا کر دوبارہ تعینات کیے جانے کے فیصلے پر بھی چراغ پاسوان نے اعتراض ظاہر کرتے ہوئے اسے نامناسب قرار دیا۔
فی الحال اس انکاؤنٹر کی عدالتی جانچ جاری ہے، قابل ذکر بات یہ ہےکہ تحقیقاتی رپورٹ ابھی تک پیش نہیں کی گئی ہے۔ اس کے باوجود معاملے نے بہار کی سیاست میں ذات پات کے سوال کو ایک بار پھر نمایاں کر دیا ہے۔ اسی تناظر میں 5 جولائی کو ایک “بہوجن مہاپنچایت” کے انعقاد کا اعلان کیا گیا ہے، جس میں غیر سَورن طبقوں کے لیڈروں کو مدعو کیا گیا ہے، اگرچہ جس مقام پر یہ پروگرام ہونا ہے، وہاں انتظامیہ کی جانب سے اجازت نہیں دی گئی ہے۔ ایسے میں یہ معاملہ آئندہ دنوں میں بہار کی سیاست کا ایک اہم موضوع بن سکتا ہے۔
بھارت ایکسپریس اردو
راشٹریہ جنتا دل (آر جے ڈی) کے راجیہ سبھا رکن منوج جھا نے کہا کہ…
کوہلی ورلڈ کپ کی تاریخ کے کامیاب ترین بلے بازوں میں شامل رہے ہیں۔ انہوں…
چراغ پاسوان کی ایل جے پی (رام ولاس)، اپیندر کشواہا کی آر ایل ایم اور…
مرکزی وزیر داخلہ امت شاہ نے سکھ مذہب کے تیسرے گرو، شری گرو امرداس جی…
مرکزی وزیر داخلہ امت شاہ نے بنگال نشاۃ ثانیہ کے عظیم ستون اور معروف سماجی…
وراٹ کوہلی کو نمبر 3 سے ہٹانا اگرچہ ایک بڑا فیصلہ ہوگا۔ وراٹ کوہلی نے…