قومی

Bharat Tiwari Encounter Case: بھرت تیواری انکاؤنٹر معاملےمیں این ڈی اے میں اختلافات، چراغ پاسوان اور جیتن رام مانجھی کے متضاد بیانات سے سیاسی بحث تیز

نئی دہلی: بہار کے بھوجپور ضلع میں بھرت تیواری انکاؤنٹر معاملہ اب صرف ایک قانونی یا انتظامی مسئلہ نہیں رہا، بلکہ اس نے ریاست کی سیاست میں بھی ہلچل مچا دی ہے۔ اس معاملے پر این ڈی اے کے دو اہم مرکزی وزراء کے الگ الگ مؤقف سامنے آنے کے بعد اتحاد کے اندر اختلافات کی قیاس آرائیاں تیز ہو گئی ہیں۔ ایک طرف لوک جن شکتی پارٹی (رام ولاس) کے سربراہ اور مرکزی وزیر چراغ پاسوان نے بھرت تیواری کے اہل خانہ سے ملاقات کر کے انکاؤنٹر کو غلط قرار دیا، تو دوسری جانب مرکزی وزیر جیتن رام مانجھی مسلسل پولیس کارروائی کو درست ٹھہرا رہے ہیں۔

چراغ پاسوان نے بھوجپور کے بلوٹی گاؤں پہنچے، جہاں انہوں نے بھرت تیواری کو خراجِ عقیدت پیش کیا اور ان کے اہل خانہ سے ملاقات کی۔ اس موقع پر انہوں نے کہا کہ بھرت تیواری کے ساتھ ناانصافی ہوئی ہے اور ان کے خاندان کو انصاف دلانا
ان کی اولین ترجیح ہے۔ چراغ پاسوان نے یہ بھی کہا کہ معاملے کی غیر جانبدارانہ جانچ ہونی چاہیے تاکہ حقیقت عوام کے سامنے آسکے۔

اس کے برعکس مرکزی وزیر جیتن رام مانجھی نے ایک بار پھر انکاؤنٹر کو جائز قرار دیتے ہوئے کہا کہ بھرت تیواری ایک مجرم تھا اور پولیس کی کارروائی درست تھی۔ انہوں نے میڈیا سے گفتگو میں کہا، “یہ ضروری نہیں کہ چراغ پاسوان جو کریں، میں بھی وہی کروں۔” ان کے اس بیان نے این ڈی اے کے اندر مختلف رائے کو مزید نمایاں کر دیا ہے۔

سیاسی حلقوں میں اس بات پر بھی بحث جاری ہے کہ چراغ پاسوان کا بلوٹی گاؤں جانا پہلے سے طے شدہ پروگرام کا حصہ نہیں تھا۔ اطلاعات کے مطابق انہوں نے ایک روز قبل نئی دہلی میں مرکزی وزیر داخلہ امت شاہ سے ملاقات کی تھی، جس کے اگلے ہی دن وہ بھرت تیواری کے گھر پہنچ گئے۔ اس کے بعد یہ قیاس آرائیاں بھی شروع ہو گئی ہیں کہ آیا چراغ پاسوان کسی خاص سیاسی یا حکومتی پیغام کے ساتھ اہل خانہ سے ملنے گئے تھے یا نہیں۔

ادھر سیاسی مبصرین کا کہنا ہے کہ اب تک این ڈی اے یا بہار حکومت کے کسی برہمن برادری سے تعلق رکھنے والے وزیر نے بھرت تیواری کے اہل خانہ سے ملاقات نہیں کی تھی، جب کہ اس انکاؤنٹر کو لے کر برہمن سماج کے مختلف حلقوں میں ناراضی پائی جا رہی ہے۔ ملک کے کئی حصوں میں اس معاملے پر احتجاج بھی کیے گئے ہیں۔ ایسے میں چراغ پاسوان کا متاثرہ خاندان سے ملنا ایک اہم سیاسی اشارہ سمجھا جا رہا ہے، جس نے بہار حکومت اور نائب وزیر اعلیٰ سمراٹ چودھری کے کردار پر بھی سوالات کھڑے کر دیے ہیں۔

واضح رہے کہ 17 جون کو بھوجپور کے بلوٹی گاؤں میں پولیس انکاؤنٹر میں بھرت تیواری م انکاؤنٹر ہوا تھا۔ اس واقعے کے بعد جس پولیس افسر (ایس ڈی پی او) پر الزامات لگے تھے، انہیں ہٹا کر دوبارہ تعینات کیے جانے کے فیصلے پر بھی چراغ پاسوان نے اعتراض ظاہر کرتے ہوئے اسے نامناسب قرار دیا۔

فی الحال اس انکاؤنٹر کی عدالتی جانچ جاری ہے، قابل ذکر بات یہ ہےکہ  تحقیقاتی رپورٹ ابھی تک پیش نہیں کی گئی ہے۔ اس کے باوجود معاملے نے بہار کی سیاست میں ذات پات کے سوال کو ایک بار پھر نمایاں کر دیا ہے۔ اسی تناظر میں 5 جولائی کو ایک “بہوجن مہاپنچایت” کے انعقاد کا اعلان کیا گیا ہے، جس میں غیر سَورن طبقوں کے لیڈروں کو مدعو کیا گیا ہے، اگرچہ جس مقام پر یہ پروگرام ہونا ہے، وہاں انتظامیہ کی جانب سے اجازت نہیں دی گئی ہے۔ ایسے میں یہ معاملہ آئندہ دنوں میں بہار کی سیاست کا ایک اہم موضوع بن سکتا ہے۔

بھارت ایکسپریس اردو

Abu Danish Rehman

Recent Posts

SC Allows PFI Chief Abubaker Treatment: پی ایف آئی کے سربراہ ابو بکر کو میکس اسپتال میں علاج کی اجازت، سپریم کورٹ کی ہدایت

عدالت نے علاج اور پولیس سکیورٹی کا پورا خرچ خود برداشت کرنے کو کہا، طبی…

10 minutes ago

Gold-Sivler Price: سونے اور چاندی کی چمک پھر لوٹ آئی! بازار کھلتے ہی قیمتوں میں زبردست اچھال، جانیے تازہ قیمتیں

سونے کی درآمد میں بھاری گراوٹ کے باوجود گھریلو اور عالمی بازار میں تیزی، ملٹی…

36 minutes ago

Census 2027 Centre Amends Rules: مردم شماری کے قواعد میں ترمیم، پرائیویٹ اسکولوں کے عملے پر کیا پڑے گا اثر؟

مرکزی حکومت نے مردم شماری کے قواعد 1990 میں ترمیم کرکے نجی اسکولوں کے اساتذہ…

1 hour ago

India-Maldives Relations: ہندوستان نے مالدیپ کی 30 ارب روپے کی کرنسی سویپ سہولت میں توسیع کی درخواست کو دی منظوری

ہندوستان نے مالدیپ حکومت کی 30 ارب روپے کی کرنسی سویپ سہولت میں توسیع کی…

1 hour ago