جماعت اسلامی ہند کی پریس کانفرنس کو خطاب کرتے ہوئے نیشنل سکریٹری شفیع مدنی، نائب امیر انجینئر سلیم اور ساتھ میں میڈیا سکریٹری محمد سلمان۔
نئی دہلی: ملک کے مختلف صوبوں میں مساجد اورکمزورطبقات کونشانہ بنا کرکی جانے والی انہدامی کارروائیوں، بڑھتی ہوئی بدعنوانی،ایس آئی آراورجمہوری اداروں کودرپیش چیلنجزپرجماعت اسلامی ہند نے گہری تشویش کا اظہارکیا ہے۔ جماعت اسلامی ہند کے مرکزی دفترمیں منعقدہ ماہانہ پریس کانفرنس میں قومی سکریٹری شفیع مدنی اور نائب امیر انجینئرمحمد سلیم نے ان تمام امور پراپنی بات رکھتے ملک کے موجودہ صورتحال سے متعلق تشویش ظاہرکی۔ انہوں نے بتایا کہ جماعت اسلامی ہند کے ایک اعلیٰ سطحی وفد نے 29 جون سے 2 جولائی تک باڑمیر، جیسلمیراورجودھ پورکا دورہ کیا تاکہ زمینی صورت حال کا جائزہ لیا جا سکے، متاثرہ خاندانوں سے ملاقات کی جائے، مقامی نمائندوں، قانونی ماہرین اورسول سوسائٹی کے افراد سے تبادلۂ خیال کیا جائے اورانتظامیہ کی کارروائیوں کی نوعیت کوسمجھا جا سکے۔
شفیع مدنی نے ملک کے مختلف حصوں میں مساجد، رہائشی بستیوں اورکمزورآبادیوں کے خلاف بڑھتی ہوئی انہدامی کارروائیوں کی سخت مذمت کی۔ انہوں نے کہا کہ راجستھان، اترپردیش، مہاراشٹر، گجرات، دہلی اور دیگر ریاستوں میں پیش آنے والے حالیہ واقعات ایک تشویشناک رجحان کی نشاندہی کرتے ہیں، جہاں غیرقانونی تعمیرات کے نام پرچلائی جانے والی کارروائیوں کا نشانہ مساجد، مکانات اورمعاشی طورپرکمزورطبقات بن رہے ہیں۔ انہوں نے کہا کہ صرف ایک ماہ کے دوران کئی مساجد کومنہدم یا جزوی طورپرمسمارکیا گیا ہے، جبکہ راجستھان کے سرحدی اضلاع باڑمیر، جیسلمیراوربیکانیرمیں سیکورٹی کے نام پرکارروائیوں کے دوران مساجد، درگاہوں اورمدارس کومنہدم کیا گیا، جس سے مقامی آبادی میں شدید بے چینی پیدا ہوئی ہے۔ مساجد کوفرقہ وارانہ بنیاد پرنشانہ بنا کران کا انہدام پورے ملک کے لئے شرمناک ہے اوراسے فوری طورپرروکا جانا چاہئے۔
جماعت اسلامی ہند نے متاثرہ افراد کو دیا مشورہ
شفیع مدنی نے مزید کہا کہ وفد نے ایسے کئی معاملات دیکھے ہیں جہاں یک طرفہ طورپرکارروائی کی گئی ہے، یہاں تک کہ نجی ملکیت کی زمین پرواقع مذہبی ڈھانچوں کو بھی منہدم کردیا گیا ہے۔ انہوں نے کہا کہ وفد نے اس بات پربھی شدید تشویش ظاہرکی ہے کہ مسلم مذہبی مقامات، خصوصاً مساجد اوردرگاہوں کوجان بوجھ کرنشانہ بنایا گیا ہے، جبکہ اسی علاقے میں موجود دیگرمذاہب کی عبادت گاہیں محفوظ رہیں۔ جماعت اسلامی ہند کے وفد نے متاثرہ افراد کومشورہ دیا ہے کہ وہ اپنی قانونی جدوجہد جاری رکھیں۔ جماعت اسلامی ہند نے انہیں مکمل قانونی اوراخلاقی تعاون کا یقین دلایا ہے۔ متاثرہ افراد کویہ بھی مشورہ دیا گیا ہے کہ وہ مسئلے کے قانونی حل کے لیے انتظامیہ اور عوامی نمائندوں سے رابطہ برقراررکھیں۔ شفیع مدنی نے کہا کہ جماعت اسلامی ہند باڑمیر، بیکانیراورجیسلمیرکے ان ہندوبھائیوں کی ستائش کرتی ہے، جنہوں نے اپنے مسلم پڑوسیوں کے ساتھ یکجہتی کا اظہارکیا اوران کے مطالبے کی حمایت کی۔ فرقہ وارانہ ہم آہنگی اور باہمی تعاون کی ایسی مثالیں ہمارے ملک کے سماجی تانے بانے کواورمضبوط بناتی ہیں۔
بدعنوانی اورمالی بے ضابطگیوں پراظہارتشویش
جماعت اسلامی ہند کے نائب امیرپروفیسرسلیم انجینئرنے ملک میں بڑھتی ہوئی بدعنوانی اورمالی بے ضابطگیوں پرگہری تشویش کا اظہارکرتے ہوئے کہا کہ وزراء، اعلیٰ سرکاری افسران اوردیگر بااثرشخصیات پربدعنوانی کے حالیہ الزامات اخلاقی اقداراورجوابدہی کے گہرے بحران کی طرف اشارہ کرتے ہیں۔ بدعنوانی اب صرف سیاست، بیوروکریسی یا کاروباری دنیا تک محدود نہیں رہی بلکہ ان اداروں تک بھی پہنچ چکی ہے جن پرلاکھوں افراد اپنی عقیدت کا اظہارکرتے ہیں۔ یہ واقعات نہ صرف احتساب اورشفافیت کے نظام کی کمزوریوں کوبے نقاب کرتے ہیں بلکہ معاشرے کودرپیش سنگین اخلاقی بحران کی بھی نشاندہی کرتے ہیں۔ اس بحران کی جڑلالچ، مادہ پرستی اور اخلاقی دیوالیہ پن پرمبنی وہ سوچ ہے، جو ذاتی مفاد کوایمان اورعوامی خدمت پرترجیح دیتی ہے۔ پروفیسرسلیم انجینئرنے کہا کہ جماعت اسلامی ہند کا ماننا ہے کہ ہندوستان کوادارہ جاتی اصلاحات کے ساتھ ساتھ ایک اخلاقی بیداری کی بھی ضرورت ہے۔ عوامی زندگی اسی وقت پاکیزہ بن سکتی ہے جب دیانت داری، جوابدہی اورخدا کا خوف ہماری انفرادی اوراجتماعی زندگی کے بنیادی اصول بن جائیں۔
ایس آئی آر سے متعلق جماعت اسلامی نے اٹھایا سوال
ایس آئی آرکے حوالے سے گفتگوکرتے ہوئے پروفیسرسلیم انجینئرنے دہلی، کرناٹک، مہاراشٹر، جھارکھنڈ اورمیگھالیہ میں اس عمل کے نفاذ پرشدید تشویش ظاہرکرتے ہوئے کہا کہ حقِ رائے دہی ہندوستانی جمہوریت کے بنیادی ستونوں میں سے ایک ہے اورانتخابی فہرستوں سے متعلق ہرعمل کوشفافیت اورانصاف اعلیٰ ترین معیارپرپورا اترنا چاہئے۔ اگرچہ درست انتخابی فہرستیں جمہوریت کے استحکام کے لیے ضروری ہیں، لیکن یہ بھی یقینی بنایا جانا چاہئے کہ کوئی بھی شہری محض انتظامی کوتاہی یا طریقۂ کار کی خامیوں کی وجہ سے اپنےحقِ رائے دہی سے محروم نہ ہو۔ اب تک کی ایس آئی آرکارروائیوں کے نتیجے میں مختلف ریاستوں میں بڑی تعداد میں ووٹروں کے نام فہرستوں سے خارج کر دئے گئے ہیں۔ بہت سے حقیقی ووٹرمقررہ مدت میں مطلوبہ دستاویزات فراہم نہ کرسکنے کی وجہ سے خارج ہوگئے ہیں۔ اس سے خدشہ پیدا ہوگیا ہے کہ یہ عمل صرف انتخابی فہرستوں کی نظرِثانی تک محدود رہنے کے بجائے آہستہ آہستہ شہریت کی جانچ کے عمل کی شکل اختیارکرسکتا ہے۔ جماعت اسلامی ہند اوردیگرسماجی تنظیموں نے کئی ریاستوں میں ایس آئی آرسہولت مراکزقائم کئے ہیں تاکہ شہریوں کواس عمل کو سمجھنے، دستاویزات مکمل کرنے اوربوتھ لیول افسران (بی ایل اوز) کے ساتھ مکمل تعاون کرنے میں مدد فراہم کی جا سکے۔ عوام کویہ مشورہ دیا جا رہا ہے کہ خوف یا افواہوں کا شکارہونے کے بجائے آئینی اورقانونی راستہ اختیار کریں۔ پروفیسرسلیم انجینئرکہا کہ جماعت اسلامی ہند الیکشن کمیشن آف انڈیا سے مطالبہ کرتی ہے کہ اس پورے عمل کوشفاف اورآسان بنایا جائے ، اس کے لئے مناسب وقت فراہم کیا جائے، شکایتی نظام قائم کیا جائے اوراس بات کو یقینی بنایا جائے کہ کوئی بھی ووٹرانتخابی فہرست سے خارج نہ ہو۔
ہندوستانی جمہوریت کو کمزور کرنے کی کوشش: انجینئرسلیم
ہندوستانی جمہوریت کو درپیش چیلنجزپرگفتگوکرتے ہوئے پروفیسرسلیم انجینئرنے کہا کہ مہاراشٹر، جھارکھنڈ اورمغربی بنگال سمیت مختلف ریاستوں میں حالیہ سیاسی واقعات نے دباؤکے ذریعہ وفاداریاں تبدیل کرانے، انتخاب کے بعد سیاسی صف بندی کی کوشش، سیاسی عدم استحکام اورمنتخب نمائندوں اوراپوزیشن کارکنوں کوہراساں کئے جانے کے حوالے سے نئی تشویش پیدا کردی ہے۔ ایسے حالات سے یہ تاثرپیدا ہوتا ہے کہ عوام کے مینڈیٹ کو جمہوری فیصلے کے بجائے دیگرذرائع سے تبدیل کیا جا سکتا ہے۔ اسی طرح اپوزیشن کے خلاف تحقیقاتی اورنفاذِ قانون کے اداروں کے استعمال کے الزامات بھی انتہائی تشویشناک ہیں۔ ایک اورخطرناک رجحان عوامی مکالمے کا مسلسل زوال ہے۔ تعمیری اورمعقول بحث کی جگہ اب غلط معلومات، ذاتی حملوں، نفرت انگیزبیانات اورسیاسی مخالفین، صحافیوں، ماہرین تعلیم اورسول سوسائٹی کی تنظیموں کو بدنام کرنے کی کوششوں نے لے لی ہے۔ انہوں نے کہا کہ سیاسی اختلاف کسی بھی صحت مند جمہوریت کی علامت ہے، لیکن دشمنی اورعدم برداشت کومعمول بنا دینا مکالمے کی روایت کوکمزورکرتا ہے اورمعاشرے میں تقسیم کوگہرا کرتا ہے۔ جماعت اسلامی ہند تمام سیاسی جماعتوں، آئینی اداروں اورعوامی اداروں سے اپیل کرتی ہے کہ وہ آئینی اخلاقیات، جمہوری اقداراورقانون کی حکمرانی کے ساتھ اپنے عزم کا ازسرِنواظہارکریں۔ ہندوستانی جمہوریت اسی وقت مضبوط رہ سکتی ہے، جب انصاف، جوابدہی، ادارہ جاتی غیرجانبداری اورآئینی اقدارحکمرانی اورسیاسی عمل دونوں کی رہنمائی کریں۔
بھارت ایکسپریس اردو-
اتر پردیش حکومت نے 20 آئی پی ایس افسران کے تبادلے کیے، کئی اضلاع میں…
وزیر اعظم نریندر مودی 8 اکتوبر کو صبح تقریباً 10 بجے یشوبھومی میں انڈیا موبائل…
مرکزی تفتینا بوررو (سی بی آئی) نے کلوزر رپورٹ داخل کر دی ہے۔ طالبہ کی…
’ووٹ چوری‘ کے الزامات پر اپوزیشن کے احتجاج کا سلسلہ جاری، کانگریس صدر ملیکارجن کھڑگے…
آچاریہ پرمود کرشنم نے عوامی زندگی میں 25 سال مکمل کرنے پر وزیراعظم نریندر مودی…
Cricket 26 کو JioGames Pro Pass کی گیم لائبریری میں شامل کیا گیا ہے۔ اس…