قومی

UP Politics: اعظم خان کے بیٹے عبداللہ اعظم کی دوسری بار جائے گی اسمبلی کی رکنیت! عدالت نے سنائی ہے 2 سال کی سزا

سماجوادی پارٹی کے سینئرلیڈراعظم خان (Azam Khan) اور ان کے بیٹے کی مشکلات کم ہونے کا نام نہیں لے رہی ہیں۔ اعظم خان کی اسمبلی کی رکنیت منسوخ ہونے کے بعد اب ان کے بیٹے عبداللہ اعظم (Abdullah Azam) کی اسمبلی کی رکنیت جانے پر خطرہ منڈلانے لگا ہے۔ دراصل، یوپی اسمبلی کے افسران کا کہنا ہے کہ وہ عبداللہ اعظم کو دو سال قید کی سزا سنانے والے مرادآباد عدالت کے فیصلے کی کاپی کا انتظار کر رہے ہیں۔ اس کے بعد یہ طے کیا جائے گا کہ سوار سیٹ خالی اعلان کی جائے گی یا نہیں، یہ فیصلے کی کاپی ملنے کے بعد طے ہوگا۔

اگرعبداللہ اعظم کی اسمبلی کی رکنیت سے نا اہل قرار دیا جاتا ہے تو وہ اپنے والد کی زمرے میں شامل ہوجائیں گے۔ اعظم خان کو اکتوبر 2022 میں ان کی رکنیت منسوخ کردی گئی تھی۔ عوامی نمائندہ ایکٹ کہتا ہے کہ اگر کسی رکن اسمبلی یا رکن پارلیمنٹ (ایم ایل اے اور ایم پی) کو دو سال یا اس سے زیادہ سال کی سزا دی جاتی ہے تو ان کی رکنیت چلی جاتی ہے۔ وہ 6 سال کے لئے نا اہل رہیں گے۔ ان کے پاس ہائی کورٹ میں اپیل کرنے کے لئے 60 دنوں کا وقت ہوگا۔

دوسری باراپنی اسمبلی کی رکنیت گنوا سکتے ہیں عبداللہ اعظم

عبداللہ اعظم ایسے رکن اسمبلی ہیں، جنہیں دوسری بار اپنی رکنیت گنوانی پڑ سکتی ہے۔ یوگی حکومت کی مدت کار میں یعنی 17ویں اسمبلی میں بھی عبداللہ اعظم کی رکنیت ختم ہوگئی تھی اور اب 18 ویں اسمبلی میں بھی ان کی رکنیت دو سال سزا ملنے کی وجہ سے منسوخ ہوسکتی ہے۔

کیا ہے پورا معاملہ؟

مرادآباد کی ایک خصوصی عدالت (ایم پی-ایم ایل اے کورٹ) نے پیر کے روز سماجوادی پارٹی کے لیڈر اعظم خان اور ان کے رکن اسمبلی بیٹے عبداللہ اعظم کو 15 سال پرانے معاملے میں دو دو سال کی سزا سنائی ہے۔ دراصل مرادآباد کے جھلیٹ پولیس نے 29 جنوری 2008 کو سماجوادی پارٹی کے لیڈر کو کار کی چیکنگ کے لئے روکا تھا۔ تب اعظم خان اس دوران ناراض ہوکر سڑک پر بیٹھ گئے تھے۔ وہیں اعظم خان اور ان کے ساتھیوں پر سڑک جام کرنے اور سرکاری کام میں رخنہ اندازی کرنے، بھیڑ کو اکسانے کا الزام لگاتے ہوئے معاملہ درج ہوا تھا۔

اس پورے معاملے میں کل 9 لوگوں کو ملزم بنایا گیا تھا، لیکن عدالت نے اب اس معاملے میں اعظم خان اور ان کے بیٹے عبداللہ اعظم کو ملزم قرار دیا ہے جبکہ باقی لوگوں کو بری کردیا گیا ہے۔ اعظم خان اورعبداللہ اعظم خان کے علاوہ امروہہ کے رکن اسمبلی محبوب علی سمیت 9 سماجوادی لیڈران ملزم تھے۔ حالانکہ عدالت نے باقی افراد کو بے قصور قرار دیا ہے اوراعظم خان اوران کے بیٹے عبداللہ اعظم کو اس معاملے میں قصور وارقرار دیا ہے۔ واضح رہے کہ اس معاملے میں امروہہ کے رکن اسمبلی محبوب علی، سابق رکن اسمبلی حاجی اکرام قریشی (اب کانگریس میں)، بجنور کے سماجوادی پارٹی کے لیڈر منوج پارس،   ڈی پی یادو، راجیش یادو اور رام کنور پرجاپتی ملزم تھے۔

Nisar Ahmad

Recent Posts

Bihar MLC Election: پی کے کی انٹری اور اننت سنگھ کی بغاوت، بہار قانون ساز کونسل کی 8 نشستوں پر انتخابات سے پہلے سیاسی ہلچل تیز

پرشانت کشور کی جن سوراج پارٹی نے تمام 8 نشستوں پر امیدوار اتارے ہیں، پٹنہ…

13 minutes ago

Congress’s Counterattack on Regime Change: ’رجیم چینج‘ پر کانگریس کا جوابی حملہ، کہا- ہم فخر سے کہتے ہیں، حکومت بدل کر رہیں گے

کانگریس کے رکن پارلیمنٹ پون کھیڑا نے وزیر دفاع راج ناتھ سنگھ کے ’رجیم چینج‘…

1 hour ago

Analysts Optimistic About Jio Platforms: جیو پلیٹ فارمز کے آئی پی او پر تجزیہ کار خوش، لسٹنگ پر 15-20فیصد اضافے کی توقع

ایمکے ریسرچ نے شرح نمو کے مقابلے میں مناسب قیمت کو دیکھتے ہوئے ’ سبسکرائب…

1 hour ago

Abhijit Dipke in Custody: ’لہرا دو ترنگا‘ مارچ سے پہلے ابھیجیت دیپکے حراست میں، کناٹ پلیس جانے کی کر رہے تھے کوشش

ترنگا مارچ سے پہلے پارٹی کے بانی ابھیجیت دیپکے کو دہلی پولیس نے حراست میں…

2 hours ago