آسام حکومت نے آج ایک بڑا فیصلہ لیتے ہوئے مسلم میرج ایکٹ کو منسوخ کر دیا ہے۔ ریاست کے وزیر اعلی ہمانتا بسواسرما نے سوشل میڈیا پلیٹ فارم ایکس پر یہ معلومات دی ہے۔ انہوں نے ایک پوسٹ میں لکھا، “ہم نے بچپن کی شادی (چائلڈ میرج)کے خلاف اضافی تحفظات متعارف کروا کر اپنی بیٹیوں اور بہنوں کے لیے انصاف کو یقینی بنانے کے لیے ایک اہم قدم اٹھایا ہے۔آج آسام کابینہ کی میٹنگ میں، ہم نے آسام ریپیلنگ بل 2024 کے ذریعے آسام مسلم شادی اور طلاق رجسٹریشن ایکٹ اور قواعد 1935 کو منسوخ کرنے کا فیصلہ کیا ہے۔
آج کابینہ سے منظوری کے بعد اب اس بل کو آسام قانون ساز اسمبلی کے اگلے مانسون اجلاس کے دوران اسمبلی میں غور کرنے کے لیے رکھا جائے گا۔ آسام کابینہ نے یہ بھی ہدایت دی ہے کہ ریاست میں مسلم شادیوں کے رجسٹریشن کے لیے مناسب قانون سازی کی جائے، جس پر اسمبلی کے اگلے اجلاس میں غور کیا جائے گا۔
بھارت ایکسپریس۔
نئی دہلی میں منعقدہ 11ویں سنت ایشور سمان میں خدمات انجام دینے والی شخصیات اور…
مرکزی وزیر داخلہ امت شاہ نے بھی ہندوستان کی بیٹیوں کو گولڈ میڈل جیتنے پر…
راجہ وڈنگ کے استعفے کے چند گھنٹے بعد کانگریس نے پرگٹ سنگھ کو پنجاب پردیش…
ارادھنا مشرا پرتاپ گڑھ کی رام پور خاص اسمبلی نشست سے کانگریس کی رکن اسمبلی…
نیرو ڈھانڈا کی کارکردگی کے اعتراف میں انہیں اختتامی تقریب میں ہندوستانی دستے کی قیادت…
گاندھی جینتی پر دہلی سمیت کئی شہروں میں SIR اور مبینہ ’ووٹ چوری‘ کے خلاف…