سوشل میڈیا پر محض ایک ہفتہ قبل شروع ہونے والی ‘کاکروچ جنتا پارٹی’ (سی جے پی) اس وقت ملک کی سیاست اور انٹرنیٹ مباحثے کا مرکز بنی ہوئی ہے۔ انسٹاگرام پر ریکارڈ توڑ 20 ملین (2 کروڑ) سے زائد فالوورز حاصل کر کے سرخیوں میں آنے والی اس پارٹی کے بانی ابھیجیت دیپکے پر اب پاکستان اور خفیہ ایجنسی آئی ایس آئی سے تعلق رکھنے کے سنگین الزامات لگائے جا رہے ہیں۔ بی جے پی یوا مورچہ کے جنرل سکریٹری تجیندر بگّا اور لیڈر پریتی گاندھی سمیت کئی ترجمانوں نے دعویٰ کیا ہے کہ اس پارٹی کو بھارت سے زیادہ پاکستان کی حمایت حاصل ہو رہی ہے۔ بگّا کی جانب سے شیئر کیے گئے تھرڈ پارٹی اعداد و شمار کے مطابق، سی جے پی کے 77 فیصد فالوورز غیر ملکی ہیں، جن میں سے 49 فیصد صرف پاکستان سے ہیں، جبکہ بھارت کے فالوورز محض 9 فیصد بتائے گئے ہیں۔ان الزامات پر جوابی حملہ کرتے ہوئے بوسٹن یونیورسٹی سے گریجویٹ اور پونے کے رہائشی ابھیجیت دیپکے نے انسٹاگرام کے اصل اِن سائٹس (اعداد و شمار) شیئر کیے۔ دیپکے کے مطابق، ان کے 94 فیصد فالوورز بھارتی نوجوان ہیں۔ انہوں نے سوال اٹھایا کہ بھارتی نوجوانوں کو پاکستانی کیوں کہا جا رہا ہے؟ فی الحال میٹا یا انسٹاگرام کی جانب سے اس معاملے پر کوئی سرکاری ڈیٹا جاری نہیں کیا گیا ہے۔
کیا X (ٹوئٹر) اکاؤنٹ بند کر دیا گیا؟
تنازعات کے درمیان، انٹیلی جنس بیورو (IB) کی ‘قومی سلامتی سے متعلق خدشات’ پر مبنی معلومات کے بعد مرکزی حکومت کی ہدایت پر سی جے پی کے سرکاری X ہینڈل کو بھارت میں بلاک کر دیا گیا ہے۔ تاہم، دیپکے نے “Cockroach Is Back” کے نام سے نیا ہینڈل بنا لیا ہے، جسے مہوا موئترا اور پرشانت بھوشن جیسی بڑی شخصیات کی حمایت بھی حاصل ہوئی ہے۔
کیا واقعی ابھیجیت دیپکے آئی ایس آئی ایجنٹ ہیں؟
ابھیجیت دیپکے کو’ISI ایجنٹ‘ قرار دینے والے دعوؤں کے پیچھے سال 2019 کی ایک پرانی شکایت بتائی جا رہی ہے۔ آرٹیکل 370 ہٹائے جانے کے بعد ‘لیگل رائٹس آبزرویٹری’ (LRO) نے دیپکے کے خلاف پونے پولیس میں یو اے پی اے (UAPA) کے تحت شکایت درج کرائی تھی، جس میں ان پر علیحدگی پسند نظریات کو فروغ دینے کا الزام لگایا گیا تھا۔ تاہم، اس شکایت پر بعد میں کوئی تعزیری کارروائی نہیں ہوئی تھی۔ جانچ ایجنسیوں کی جانب سے دیپکے کے ‘ISI ایجنٹ’ ہونے کی کوئی سرکاری تصدیق نہیں کی گئی، اس لیے یہ دعویٰ محض ایک سیاسی الزام مانا جا رہا ہے۔
اس انوکھی پارٹی کی شروعات کیسے ہوئی؟
بتا دیں کہ چیف جسٹس سوریہ کانت کی جانب سے ایک سماعت کے دوران بے روزگار نوجوانوں کا موازنہ مبینہ طور پر ’کاکروچ‘ سے کیے جانے کے بعد احتجاجاً اس پیروڈی (طنزیہ) پارٹی کی شروعات ہوئی تھی۔ جو معاملہ محض ایک مذاق کے طور پر شروع ہوا تھا، وہ اب ملک کی سب سے بڑی آن لائن سیاسی تحریک کی شکل اختیار کر چکا ہے۔
بھارت ایکسپریس اردو۔
راہل گاندھی نے سپریم کورٹ سے درخواست کی ہے کہ جب تک عرضی میں اٹھائے…
دہلی ٹریفک پولیس نے واضح کیا ہے کہ یہ وہ مقامات ہیں جہاں ٹریفک متاثر…
ٹرسٹ کے سکریٹری عاصم رضا کے مطابق ایوارڈ آئندہ یکم نومبر کو دوپہر ڈھائی بجے…
اڈانی گروپ نے ممبئی کے ماٹونگا میں دھاراوی بازآبادکاری منصوبے کے تحت 10,432 بازآبادکاری مکانات…
سفارت خانے کے مطابق، اس کے افسران نے ان اسپتالوں کا دورہ کیا ہے جہاں…
دسمبر کے پہلے ہفتے میں دہلی میں بڑی ریلی منعقد کرنے کی تیاری، ملک بھر…