قومی

AMU Vice Chancellor: علی گڑھ مسلم یونیورسٹی کی وائس چانسلر پروفیسر نعیمہ خاتون کو سپریم کورٹ سے ملی راحت، تقرری کے خلاف دائر عرضی خارج

سپریم کورٹ نے علی گڑھ مسلم یونیورسٹی کی پہلی خاتون وائس چانسلر پروفیسر نعیمہ خاتون کی تقرری میں مداخلت کرنے سے انکار کر دیا۔ جسٹس جے کے مہیشوری اور جسٹس وجے بشنوی پر مشتمل بنچ نے پروفیسر مظفر عروج ربانی اور پروفیسر فیضان مصطفیٰ کی خصوصی اجازت درخواست مسترد کرتے ہوئے الٰہ آباد ہائی کورٹ کے حکم کو برقرار رکھا، جس میں پروفیسر نعیمہ خاتون کی تقرری کو قانونی قرار دیا گیا تھا۔

عدالت نے اس معاملے میں اعتراضات کو مسترد کر دیا جن میں یہ کہا گیا تھا کہ پروفیسر نعیمہ خاتون کے شوہر، پروفیسر محمد گل ریز، جو اس وقت عارضی وائس چانسلر تھے، نے ایگزیکٹو کونسل کے اجلاس کی صدارت کی تھی جس میں ان کا نام سفارش کے لیے شامل کیا گیا تھا اور اس بنیاد پر تقرری کو غیر قانونی قرار دیا گیا تھا۔ تاہم عدالت نے فیصلہ دیا کہ اس سے تقرری متاثر نہیں ہوئی۔ ابتدائی سماعت میں چیف جسٹس آف انڈیا بی آر گوئی، جسٹس کے ونود چندرن اور جسٹس این وی انجاریا پر مشتمل بنچ نے پروفیسر گل ریز کی موجودگی پر سوال اٹھائے تھے، تاہم انھوں نے اس تقرری کو درست قرار دیتے ہوئے اس کی مخالف میں دائر درخواست خارج کر دی۔

یہ فیصلہ علی گڑھ مسلم یونیورسٹی کی تاریخ میں نہایت اہم ہے، کیوں کہ پروفیسر نعیمہ خاتون کی تقرری یونیورسٹی کی تاریخ میں پہلی خاتون وائس چانسلر کے طور پر ہوئی ہے، جو کہ تعلیمی اور سماجی اعتبار سے ایک اہم پیش رفت تصور کی جا رہی ہے۔ سینئر ایڈوکیٹ کپل سبل اور ایڈوکیٹ نظام پاشا نے، جو درخواست گزاروں کی طرف سے پیش ہوئے، دلیل دی کہ جب ان کے شوہر کونسل میں تھے تو انھیں تقرری کے لیے زیر غور فہرست میں بھی نہیں ہونا چاہیے تھا۔ وہیں مرکزی حکومت کی طرف سے ایڈیشنل سالیسٹر جنرل ایشوریہ بھٹی نے کہا کہ پروفیسر خاتون ایک ماہر تعلیم ہیں اور ان کا شاندار ریکارڈ ہے، لہٰذا یہ تقرری قابلیت کی بنا پر کی گئی اور درست کی گئی۔

بھارت ایکسپریس اردو

Bharat Express

Recent Posts

India v Afghanistan Second T20: دوسرا ٹی20، سنجو-ابھیشیک کی 88 رن کی طوفانی شراکت، بھارت نے افغانستان کو 7 وکٹ سے دی شکست

سیریز کا آخری مقابلہ 17 ستمبر کو اسی میدان پر کھیلا جائے گا۔ ٹاس ہار…

9 hours ago

Freedom from Enslavement to Technology: ٹیکنالوجی کی غلامی سے آزادی، کیا ہے بھارت کا ’ڈی- ویپنائزنگ ٹیکنالوجی‘ منصوبہ اور ڈی پی آئی ماڈل؟

یو پی آئی، ڈیٹا پروٹیکشن قانون اور سیمی کنڈکٹر مشن کے ذریعے بھارت ڈیجیٹل خودمختاری…

10 hours ago