قومی

Iran Plans New Strategy on Strait of Hormuz: ٹرمپ کی دھمکیوں کے درمیان ایران کی نئی حکمتِ عملی، آبنائے ہرمز کو ہائی وے کی طرح بنانے کے لیے عمان سے کر رہا ہے بات چیت

نیویارک: ایران نے آبنائے ہرمز میں بحری آمد و رفت کو نئے انداز میں منظم کرنے کے لیے عمان کے ساتھ مذاکرات شروع کر دیے ہیں۔ تہران کے مطابق مقصد یہ ہے کہ اس اہم آبی گذرگاہ میں موجود مختلف بحری راستوں کی جگہ ایک مشترکہ دوطرفہ راہداری قائم کی جائے تاکہ جہازوں کی نقل و حرکت زیادہ محفوظ اور منظم ہو سکے۔ ایرانی خبر رساں ایجنسی کے مطابق وزارتِ خارجہ کے ترجمان اسماعیل بقائی نے تہران میں صحافیوں سے گفتگو کرتے ہوئے بتایا کہ مجوزہ منصوبے کے تحت موجودہ متعدد بحری راستوں کے بجائے ایک مشترکہ درمیانی راہداری قائم کی جائے گی۔

ایران اور عمان کے درمیان مذاکرات جاری

ترجمان نے کہا کہ دونوں ساحلی ممالک کے درمیان ہونے والی بات چیت کا محور ایسا مشترکہ بحری راستہ ہے جو دونوں ممالک کے مفادات اور سکیورٹی خدشات کو مدنظر رکھتے ہوئے تیار کیا جائے۔ حالانکہ، اس معاملے پر عمان کی جانب سے اب تک کوئی باضابطہ ردِعمل سامنے نہیں آیا۔ عمان کی وزارتِ خارجہ نے نہ تو مذاکرات کی تصدیق کی ہے اور نہ ہی اس کی تردید کی ہے۔

عالمی معیشت کے لیے اہم پیش رفت

اگر دونوں ممالک اس منصوبے پر متفق ہو جاتے ہیں اور آبنائے ہرمز سے جہازوں کی معمول کے مطابق آمد و رفت بحال ہو جاتی ہے تو اس سے ان ممالک اور عالمی معیشت کو بڑی راحت مل سکتی ہے جو توانائی کی ترسیل میں رکاوٹوں کے باعث متاثر ہو رہے ہیں۔ ایرانی خبر رساں ادارے تسنیم کے مطابق اسماعیل بقائی نے واضح کیا کہ ان مذاکرات میں کسی تیسرے ملک کو شامل نہیں کیا گیا، جس کا مطلب یہ ہے کہ اس عمل میں امریکہ شریک نہیں ہے۔

ٹرمپ کے دعوے کو ایران نے کیا مسترد

امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ نے دعویٰ کیا تھا کہ آبنائے ہرمز کو دوبارہ کھولنے کے حوالے سے ایران کے ساتھ مذاکرات جاری ہیں، تاہم اسماعیل بقائی نے اس دعوے کی تردید کرتے ہوئے کہا کہ امریکہ کے ساتھ اس نوعیت کی کوئی بات چیت نہیں ہو رہی۔ ایران اس سے قبل آبنائے ہرمز میں بارودی سرنگیں بچھانے اور وہاں سے گزرنے والے بعض جہازوں پر حملوں کے الزامات کا سامنا کر چکا ہے، جبکہ امریکہ نے ایرانی بندرگاہوں پر پابندیاں عائد کرتے ہوئے ان کی خلاف ورزی کرنے والے بعض جہازوں کے خلاف کارروائیاں بھی کی ہیں۔

عارضی بحری راہداری کی تجویز

ایرانی خبر رساں ایجنسی کے مطابق مجوزہ مشترکہ راہداری اس وقت تک استعمال کی جائے گی جب تک ایران اور عمان موجودہ بین الاقوامی بحری ٹریفک نظام کے مستقل متبادل پر اتفاق نہیں کر لیتے۔ اقوامِ متحدہ کے بین الاقوامی بحری ادارے نے 1968 میں ایران اور عمان کی جانب سے پیش کردہ بحری ٹریفک تقسیم کے نظام کو منظور کیا تھا، جس کا مقصد بحری جہازوں کے درمیان تصادم کے امکانات کم کرنا اور سمندری سفر کو زیادہ محفوظ بنانا تھا۔ اس نظام کے تحت دونوں سمتوں میں دو، دو میل چوڑی بحری گزرگاہیں مختص ہیں، جبکہ ان کے درمیان دو میل چوڑا حفاظتی فاصلہ رکھا گیا ہے۔ حالیہ دنوں بارودی سرنگوں کی اطلاعات کے بعد بین الاقوامی بحری ادارے نے جہازوں کو موجودہ بحری راستوں سے احتیاط برتنے کا مشورہ دیا ہے۔

شاہراہ کی طرز پر بحری ٹریفک چلانے کی تجویز

امریکی اور ایرانی حکام کے حوالے سے بعض ذرائع ابلاغ نے دعویٰ کیا ہے کہ مسقط اور تہران کے مجوزہ منصوبے کے تحت آبنائے ہرمز میں بحری ٹریفک کو شاہراہ کی طرز پر منظم کیا جائے گا، جہاں جہاز دائیں جانب کی گزرگاہ استعمال کریں گے۔ رپورٹس کے مطابق خلیجی ممالک کی طرف جانے والے جہاز ایران کے ساحلی راستے سے گزریں گے، جبکہ آبنائے سے باہر آنے والے جہاز عمان کی جانب والے راستے کا استعمال کریں گے۔

امریکہ کی تجویز پر ایران کا اعتراض

اسماعیل بقائی نے کہا کہ عمانی سمندری حدود سے گزرنے والے جنوبی راستے کی وہ تجویز، جس کی حمایت واشنگٹن کر رہا تھا، ایران اور امریکہ کے درمیان جون میں ہونے والی مفاہمت کے خلاف تھی اور اس سے ماحولیاتی اور قومی سلامتی کے خدشات پیدا ہوتے تھے۔ انہوں نے بتایا کہ امریکی بحریہ نے ابتدا میں بعض تجارتی جہازوں کو عمان کی جانب سے حفاظتی حصار فراہم کیا تھا، لیکن ان پر حملوں کے بعد یہ انتظام روک دیا گیا۔

میڈیا رپورٹس میں یہ بھی کہا گیا ہے کہ مجوزہ نظام کے تحت ایران اپنے بحری راستے سے گزرنے والے جہازوں سے خدمات کے عوض فیس وصول کر سکتا ہے۔ اس ادائیگی کو ٹول کا نام نہیں دیا جائے گا تاکہ بین الاقوامی قوانین کی خلاف ورزی نہ ہو۔ حالانکہ، اسماعیل بقائی نے اس بارے میں پوچھے گئے سوال کا براہِ راست جواب دینے سے گریز کیا۔

بھارت ایکسپریس۔

Md Hammad

Recent Posts

India v Afghanistan Second T20: دوسرا ٹی20، سنجو-ابھیشیک کی 88 رن کی طوفانی شراکت، بھارت نے افغانستان کو 7 وکٹ سے دی شکست

سیریز کا آخری مقابلہ 17 ستمبر کو اسی میدان پر کھیلا جائے گا۔ ٹاس ہار…

6 hours ago

Freedom from Enslavement to Technology: ٹیکنالوجی کی غلامی سے آزادی، کیا ہے بھارت کا ’ڈی- ویپنائزنگ ٹیکنالوجی‘ منصوبہ اور ڈی پی آئی ماڈل؟

یو پی آئی، ڈیٹا پروٹیکشن قانون اور سیمی کنڈکٹر مشن کے ذریعے بھارت ڈیجیٹل خودمختاری…

7 hours ago