قومی

Woman Run 1600 Meters Barefoot: بچوں کے روشن مستقبل کے لیے ساڑھی میں ننگے پاؤں دوڑی ماں، 1600 میٹر کی ریس مکمل کرکے رام گڑھ کی کویتا نے جیتا سب کا دل

جہاں معمولی سہولت نہ ملنے پر بہت سے لوگ ہمت ہار جاتے ہیں، وہیں جھارکھنڈ کے رام گڑھ ضلع کی کویتا دیوی نے مشکلات کو اپنی طاقت بنا کر جدوجہد کی نئی مثال قائم کی ہے۔ رام گڑھ کے دلومی بلاک کے سوسو گاؤں کی رہنے والی کویتا اُس وقت سب کی توجہ کا مرکز بن گئیں، جب وہ سیدو-کانہو میدان میں ہوم گارڈ بھرتی کی 1600 میٹر دوڑ میں ساری پہن کر اور ننگے پاؤں اتریں۔ میدان میں دیگر امیدوار جہاں مہنگے اسپورٹس شوز اور ٹریک سوٹ میں دوڑ کی تیاری کر رہے تھے، وہیں کویتا نے کسی خاص سہولت کے بغیر اپنی دوڑ مکمل کی۔ ان کی دوڑ کی ویڈیو اب سوشل میڈیا پر تیزی سے وائرل ہو رہی ہے اور لوگ ان کے حوصلے اور عزم کی تعریف کر رہے ہیں۔

شوہر کے وفات کے بعد دو بچوں کی ذمہ داری

کویتا کے شوہر کا تقریباً تین سال قبل انتقال ہو گیا تھا۔ اس کے بعد ان کے دو کم عمر بچوں کی پرورش اور گھر کی تمام ذمہ داریاں ان کے کندھوں پر آ گئیں۔ کویتا کے لیے ہوم گارڈ کی ملازمت محض روزگار حاصل کرنے کا ذریعہ نہیں بلکہ اپنے بچوں کو بہتر تعلیم اور محفوظ مستقبل دینے کی امید ہے۔ وہ گھر کے کام مکمل کرنے کے بعد ہر صبح اپنے گاؤں سے تقریباً 8 کلومیٹر دور سیدو-کانہو میدان پہنچتی ہیں اور دوڑ کی مشق کرتی ہیں۔ رام گڑھ میں ہوم گارڈ کی 284 آسامیوں پر بھرتی کا عمل جاری ہے، جن میں 50 فیصد نشستیں خواتین کے لیے مختص ہیں۔ وسائل کی کمی کے باوجود کویتا نے اسے اپنی راہ میں رکاوٹ نہیں بننے دیا۔ جس ساری میں وہ گھر کی ذمہ داریاں نبھاتی ہیں، اسی لباس میں انہوں نے دوڑ کی تیاری بھی کی۔

حوصلہ دیکھ کر لوگوں نے بڑھایا مدد کا ہاتھ

کویتا کو ننگے پاؤں دوڑتے دیکھ کر میدان میں موجود ٹرینرز اور مقامی لوگوں نے بھی ان کی مدد کا فیصلہ کیا۔ ان کی محنت اور عزم کو دیکھتے ہوئے لوگوں نے انہیں جرسی اور رننگ شوز فراہم کیے، تاکہ وہ آئندہ اپنی تیاری بہتر سہولت کے ساتھ جاری رکھ سکیں۔

سوشل میڈیا پر وائرل ہوئی ماں کی جدوجہد

کویتا کی ننگے پاؤں دوڑ کی ویڈیو نے انٹرنیٹ پر لوگوں کی توجہ اپنی جانب کھینچی ہے۔ متعدد افراد نے ویڈیو شیئر کرتے ہوئے ان کے جذبے کی تعریف کی اور ان کے عزم کو سلام کیا۔ ساری پہن کر 1600 میٹر کی دوڑ مکمل کرنا اس لیے بھی قابلِ ذکر ہے کہ اس لباس میں تیز دوڑنا اور مسلسل جسمانی مشقت کرنا آسان نہیں ہوتا۔ عام طور پر ساری کو روزمرہ یا تقریبات میں پہنا جانے والا لباس سمجھا جاتا ہے، جسے سنبھالتے ہوئے مشکل جسمانی سرگرمی انجام دینا خاصا دشوار ہو سکتا ہے۔ کویتا دیوی کی یہ جدوجہد بتاتی ہے کہ محدود وسائل کے باوجود مضبوط ارادہ انسان کو اپنے مقصد کی طرف آگے بڑھنے کا حوصلہ دے سکتا ہے۔ ان کی کہانی ان تمام لوگوں کے لیے مثال بن گئی ہے جو مشکلات کے باوجود اپنے اور اپنے بچوں کے بہتر مستقبل کے لیے جدوجہد جاری رکھتے ہیں۔

بھارت ایکسپریس اردو۔

Abdul Awwal

Recent Posts

Prashant Kishor In Nawada: نوادہ میں پرشانت کشور کا نتیش حکومت پر حملہ، اننت سنگھ کی حمایت پر بھی دیا ردعمل

پرشانت کشور نے بے روزگاری، نوجوانوں کی نقل مکانی اور ریاست میں سیلاب کی صورتحال…

1 hour ago

Prime Minister Narendra Modi: وزیر اعظم نریندر مودی 8 اکتوبر کو انڈیا موبائل کانگریس کے 10ویں ایڈیشن کا کریں گے افتتاح

وزیر اعظم نریندر مودی 8 اکتوبر کو صبح تقریباً 10 بجے یشوبھومی میں انڈیا موبائل…

2 hours ago

INDIA Alliance Next Move: لنچ کے بعد جنتر منتر کی طرف اپوزیشن ارکان پارلیمنٹ روانہ، راہل گاندھی بولے-FIR میرے لیے میڈل کی طرح

’ووٹ چوری‘ کے الزامات پر اپوزیشن کے احتجاج کا سلسلہ جاری، کانگریس صدر ملیکارجن کھڑگے…

2 hours ago