قومی

اے پی سی آر کی حمایت سے الہ آباد ہائی کورٹ میں کامیابی، سنبھل انتظامیہ کو آزاد جنت نشا اسکول کی زمین سے بے دخل کرنے کی کوشش سے روکا گیا

 ایسو سی ایشن فارپروٹیکشن آف سول رائٹس (اے پی سی آر) کوایک بڑی قانونی کامیابی ملی ہے، جب الہ آباد ہائی کورٹ نے آزاد جنت نشا اسکول کواس کی زمین سے بے دخلی کے معاملے میں بڑی راحت دی۔ یہ اسکول سنبھل کے علاقے عالم سرائے میں واقع ہے اورایک دیرینہ تعلیمی ادارہ ہے، جوکئی دہائیوں سے بلا رکاوٹ تعلیمی خدمات انجام دے رہا ہے۔

درخواست گزارمحمد شاویزعالم جوآزاد جنت نشا اسکول کے مینیجرہیں، انہوں نے سول جج (جونئیر ڈویژن) کی عدالت میں سول مقدمہ نمبر 363/2025 دائر کیا تھا۔ درخواست گزارنے عدالت میں یہ موقف اختیار کیا کہ وہ 1979 سے اس زمین کے جائز مالک اور قابض ہیں۔ یہ زمین ان کے والد نے ناتھوا عرف گنگا پرساد اورہرپرساد سے 8جنوری 1979 کو ایک رجسٹرڈ سیل ڈیڈ کے ذریعے خریدی تھی۔ اب ان فروخت کنندگان کے قانونی وارثین اس زمین پر دعویٰ کر رہے ہیں۔ اسکول، جو اتر پردیش بورڈ سے منظور شدہ ہے، نرسری سے جماعت 10 تک کی تعلیم فراہم کرتا ہے۔

یہ تنازعہ 13 جنوری 2025 کو اس وقت شروع ہوا جب ضلع مجسٹریٹ (ڈی ایم)، سب ڈویژنل مجسٹریٹ (ایس ڈی ایم)، پولیس اہلکار، تحصیلدار، لکھپال، نائب لکھپال اورچند افراد، جوزمین پردعویٰ کررہے ہیں، اسکول میں داخل ہوئے اورمالکان کوسنگین نتائج کی دھمکیاں دیں۔ جنوری سے جون 2025 تک، مقامی لیڈروں اورحکام نے وقفے وقفے سے اسکول کا دورہ کیا اور بغیر کسی قانونی حکم نامے کے اسکول مالکان کو ڈرایا دھمکایا۔ 15 مئی 2025 کوانتظامیہ نے اسکول کا گیٹ اورکئی کمروں کو منہدم کر دیا، جس سے تقریباً 30 لاکھ روپے کا نقصان ہوا۔ مدعا علیہان نے اسکول کے راستے سمیت کچھ زمین پرناجائزقبضہ بھی کر لیا، جو درخواست گزار کی ملکیت ہے۔ مقامی پولیس اورانتظامیہ نے کوئی مدد فراہم نہیں کی بلکہ الٹا ناجائز دعویداروں کا ساتھ دیا۔

یہ تنازعہ نومبر2024 کے سنبھل فسادات کے بعد کے ماحول میں شدت اختیار کر گیا، جس وقت مسلمانوں کو ‘ہندو فسادی متاثرین کی زمین پر قابض’ قرار دینے کی مہم زوروں پر تھی۔ مختلف میڈیا رپورٹس کے مطابق، یہ بیانیہ ہندوتوا گروپوں اور بی جے پی لیڈروں نے مقامی انتظامیہ کی پشت پناہی سے پروان چڑھایا۔ بالآخرجون 2025 میں، جناب شاویز نے اے پی سی آر (اتر پردیش) سے رابطہ کیا اور الہ آباد ہائی کورٹ میں ایک رٹ پٹیشن دائر کی۔ انہوں نے عدالت سے استدعا کی کہ مدعا علیہان کو اسکول کی پرامن ملکیت میں مداخلت سے روکا جائے اور کسی بھی بے دخلی کی کوشش سے تحفظ فراہم کیا جائے۔

اس کیس میں اے پی سی آر کی طرف سے وکلاء غزالہ بانواورمسیح الدین نے محمد شاویز نے اچھے انداز سے مظبوط دلائل سے کیس کی پیروی کی۔ ریاستی حکومت نے عدالت میں واضح کیا کہ فی الوقت اسکول کو منہدم کرنے کا کوئی منصوبہ نہیں ہے، اور اگر مستقبل میں کوئی کارروائی کی گئی تو وہ مکمل قانونی عمل کے تحت کی جائے گی۔ جسٹس سدھارتھ ورما اور جسٹس ہرویر سنگھ پر مشتمل معزز بنچ نے ریاست کی اس یقین دہانی کوریکارڈ کرتے ہوئے 12 جون 2025 کو مقدمہ نمٹا دیا۔

بھارت ایکسپریس اردو۔

Nisar Ahmad

Recent Posts

Balaji Wafers Destroyed Lays: غریب لڑکے سے 4 ہزار کروڑ کی کمپنی تک، بالاجی نے Lay’s کو دی ٹکر

گجرات سے شروع ہونے والا بالاجی ہے، جس نے محدود وسائل سے سفر شروع کیا…

38 minutes ago

Rahul Gandhi Event Row: ’چھاتروں کی گونج‘ میں پی ایم مودی کی مِمی کری پر ہنگامہ، این ڈی اے کا حملہ، اپوزیشن نے کہا- اصل مسائل سے توجہ ہٹانے کی کوشش

راہل گاندھی کی موجودگی میں ’چھاتروں کی گونج‘ پروگرام کے دوران وزیراعظم نریندر مودی کی…

1 hour ago

Sachkhand Nanak Dham Satsang: سچکھنڈ نانک دھام میں گونجے ’واہے گرو‘ کے جے کارے، سنت لوچن درشن داس جی نے دیا بے لوث خدمت کا پیغام

پنجاب کے بٹالہ میں اچل بائی پاس واقع سچکھنڈ نانک دھام درشن دربار میں اتوار،…

1 hour ago

Pricing Carbon To Defend Exports: یورپی ٹیکس کا توڑ بنا بھارت کا ’کاربن کریڈٹ ٹریڈنگ سسٹم‘، برآمد کنندگان کو ملے گی بڑی راحت

بھارت میں اکتوبر سے ملک کی پہلی کاربن مارکیٹ شروع ہونے جا رہی ہے۔ اس…

2 hours ago

Yemen Houthis Toyota Pickup Trucks: راکٹ نہیں، میزائل نہیں… یمن میں 38,000 سے زائد ٹویوٹا ٹرکوں کی آمد، دنیا بھر میں تشویش

یمن کے جنگ زدہ علاقوں میں ٹویوٹا پک اَپ ٹرکوں کی اچانک بڑھتی ہوئی تعداد…

2 hours ago