قومی

ED Files Chargesheet Against Al Falah University Chancellor: الفلاح یونیورسٹی پر ای ڈی کی بڑی کارروائی، چیئرمین کے خلاف چارج شیٹ داخل، تقریباً 140 کروڑ کی جائیداد ضبط

تنازعات میں گھری الفلاح یونیورسٹی اور الفلاح چیریٹیبل ٹرسٹ کی مشکلات میں مزید اضافہ ہو گیا ہے۔ انفورسمنٹ ڈائریکٹوریٹ (ای ڈی) نے منی لانڈرنگ کے ایک بڑے معاملے میں سخت کارروائی کرتے ہوئے ٹرسٹ کے چیئرمین، چانسلر اور منیجنگ ٹرسٹی جواد احمد صدیقی کے خلاف خصوصی پی ایم ایل اے عدالت میں چارج شیٹ داخل کر دی ہے۔ ای ڈی نے اس کیس میں تقریباً 139.97 کروڑ روپے مالیت کی جائیداد بھی ضبط کر لی ہے، جبکہ جرم سے حاصل رقم کا تخمینہ 493.24 کروڑ روپے لگایا گیا ہے۔ ای ڈی کے مطابق یہ کارروائی منی لانڈرنگ کی روک تھام کے قانون 2002 کے تحت کی گئی ہے۔ جانچ میں انکشاف ہوا ہے کہ جواد احمد صدیقی نے اپنے عہدے کا غلط استعمال کرتے ہوئے یونیورسٹی اور ٹرسٹ کے فنڈز کو خاندان کے زیرِ کنٹرول اداروں کے ذریعے ادھر اُدھر منتقل کیا۔ ای ڈی کا کہنا ہے کہ صدیقی نہ صرف مالی بے ضابطگیوں کے مرکزی کردار تھے بلکہ غیر قانونی کمائی کے اصل فائدہ اٹھانے والے بھی وہی ہیں۔ تحقیقاتی ایجنسی نے بتایا کہ جواد احمد صدیقی کو پی ایم ایل اے کی دفعہ 19 کے تحت 18 نومبر 2025 کو گرفتار کیا گیا تھا اور اس وقت وہ عدالتی حراست میں ہیں۔ ای ڈی کی جانب سے جن جائیدادوں کو ضبط کیا گیا ہے، ان میں تقریباً 54 ایکڑ زمین اور اس پر تعمیر شدہ عمارتیں شامل ہیں، جن کی مجموعی مالیت تقریباً 140 کروڑ روپے بتائی گئی ہے۔

ای ڈی کی جانچ دہلی پولیس کی جانب سے درج کی گئی ایف آئی آر نمبر 337 اور 338 (مورخہ 13 نومبر 2025) اور ایف آئی آر نمبر 0021 (مورخہ 10 جنوری 2026) کی بنیاد پر شروع کی گئی تھی۔ ان ایف آئی آرز میں مالی بدعنوانی کے ساتھ ساتھ سنگین نوعیت کے دیگر الزامات بھی شامل ہیں، جنہوں نے اس معاملے کو مزید حساس بنا دیا ہے۔ ایک سرکاری بیان کے مطابق الفلاح چیریٹیبل ٹرسٹ، الفلاح یونیورسٹی اور اس سے منسلک دیگر اداروں پر جواد احمد صدیقی کا مکمل انتظامی، مالی اور عملی کنٹرول تھا۔ منیجنگ ٹرسٹی اور چانسلر کی حیثیت سے وہ دیگر عہدیداروں کو محض نام کے لیے استعمال کرتے تھے، جبکہ اصل فیصلے خود لیتے تھے۔ ای ڈی نے الزام عائد کیا ہے کہ انہوں نے میڈیکل کالج کے انتظام میں بھی قواعد کی خلاف ورزی کی اور منظوری حاصل کرنے کے لیے غلط معلومات فراہم کیں۔

اس معاملے نے اس وقت مزید توجہ حاصل کی جب تفتیشی اداروں نے یونیورسٹی میں کام کرنے والے بعض ڈاکٹروں سے جڑے ایک مبینہ ماڈیول کا پردہ فاش کیا۔ ای ڈی کے مطابق ان میں سے ایک ڈاکٹر کا نام 10 نومبر کو لال قلعہ کے قریب ہونے والے کار دھماکے سے بھی جوڑا گیا ہے، جس کے بعد ادارے پر سیکیورٹی خدشات کے سائے گہرے ہو گئے۔ ای ڈی کی جانچ میں یہ بھی سامنے آیا ہے کہ ادارہ جاتی فنڈز کو خاندان کے زیرِ ملکیت کمپنیوں کے ذریعے منتقل کیا گیا۔ ان کمپنیوں میں آملہ انٹرپرائزز ایل ایل پی، کرکُن کنسٹرکشن اینڈ ڈیولپرز اور دیالہ کنسٹرکشن اینڈ ڈیولپرز پرائیویٹ لمیٹڈ شامل ہیں۔ ای ڈی کا کہنا ہے کہ ان اداروں کے ذریعے بڑے پیمانے پر رقم کی ہیر پھیر کی گئی۔

مزید برآں، جانچ کے دوران غیر ملکی لین دین اور بیرونِ ملک فنڈز کی منتقلی کے شواہد بھی ملے ہیں۔ ای ڈی کے مطابق جواد احمد صدیقی کی اہلیہ کے نام پر تین کروڑ روپے سے زائد اور ان کے بیٹے کے نام پر تقریباً ایک کروڑ روپے کے غیر ملکی لین دین سامنے آئے ہیں۔ ای ڈی نے اپنی رپورٹ میں یہ نتیجہ اخذ کیا ہے کہ چیریٹیبل اور تعلیمی اداروں کو ذاتی، خاندانی اور تجارتی فائدے کے لیے استعمال کیا گیا۔ اس معاملے میں مزید تفتیش جاری ہے اور ای ڈی کا کہنا ہے کہ آئندہ دنوں میں اس کیس سے جڑے دیگر پہلوؤں پر بھی قانونی کارروائی کی جا سکتی ہے۔

بھارت ایکسپریس اردو۔

Sibghatullah

Recent Posts

Netanyahu Invites PM Modi & Captain Smit: اسرائیل کے یوم آزادی پر پی ایم مودی اور کیپٹن اسمت مچھار کو خصوصی دعوت، نیتن یاہو نے فون پر کی بات

اسرائیلی وزیر اعظم نے 174 مسافروں کی جان بچانے والے بھارتی پائلٹ کی بہادری کو…

9 hours ago

PM Modi Public Service Exhibition: گجرات میں وزیر اعظم مودی کے 25 سالہ عوامی خدمت کے سفر کی نمائش، وزیر اعلیٰ بھوپیندر پٹیل نے کیا معائنہ

پنڈت دین دیال آڈیٹوریم میں منعقد ’وکست گجرات سے وکست بھارت‘ کے عنوان سے اس…

10 hours ago