قومی

AI-generated Trump video used to dupe: سائبرکرائم کی انتہائی خطرناک شکل،ٹرمپ کی فرضی اے آئی ویڈیو سے کرناٹک میں200 افراد سے لوٹے 2 کروڑ سے زائد روپئے

کرناٹک کے کئی شہروں میں ایک حالیہ سائبر کرائم نے 200 سے زائد افراد کو مالی نقصان پہنچایاہے، جہاں مصنوعی ذہانت (AI) سے بنائی گئی امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ کی ایک ویڈیو کا استعمال کیا گیا۔ اس جعلی ویڈیو میں ٹرمپ کو مبینہ طور پر ٹرمپ ہوٹل رینٹلز میں سرمایہ کاری کے لیے لوگوں کو ترغیب دیتے ہوئے دکھایا گیا، جس میں بڑے منافع کا وعدہ کیا گیا تھا۔ یہ واقعات بنیادی طور پر بنگلور، تماکورو، منگلورو اور ہاویری جیسے شہروں میں رپورٹ ہوئے ہیں۔ پولیس کے مطابق، اس جعلسازی سے متاثرین نے مجموعی طور پر دو کروڑ روپے سے زیادہ کا نقصان اٹھایاہے۔ اس گھوٹالے نے AI ٹیکنالوجی کے غلط استعمال اور سائبر کرائم کے بڑھتے خطرات کو اجاگر کیا ہے۔

اس سائبر کرائم میں ملزمان نے متاثرین کو واٹس ایپ گروپس اور دیگر سوشل میڈیا پلیٹ فارمز کے ذریعے رابطہ کیا، جہاں وہ AI سے تیار کردہ ویڈیو دکھاتے تھے۔ ویڈیو میں ڈونلڈ ٹرمپ کو ایک جعلی سرمایہ کاری اسکیم کی پروموشن کرتے ہوئے دکھایا گیا، جو ٹرمپ ہوٹل رینٹلز سے منسلک تھی۔ متاثرین کو ابتدا میں 1,500 روپے کی ادائیگی کرکے اپنا اکاؤنٹ بنانے کی ہدایت کی گئی۔ اس کے بعد انہیں کمپنی پروفائلز لکھنے جیسے چھوٹے کام دیے گئے، جن کے بدلے ان کے ایپ ڈیش بورڈ پر “ارننگ” ظاہر ہوتی تھی۔ تاہم، یہ رقم کبھی حقیقت میں منتقل نہیں ہوئی، اور متاثرین سے مزید سرمایہ کاری کے لیے دباؤ ڈالا گیا۔ پولیس نے اسے ایک منظم دھوکہ دہی قرار دیا ہے جو لوگوں کی لالچ اور بھروسے کا فائدہ اٹھاتی ہے۔

اس گھوٹالے کے متاثرین میں مختلف شعبہ ہائے زندگی سے تعلق رکھنے والے افراد شامل ہیں، جن میں ایک 38 سالہ وکیل بھی شامل ہیں جنہوں نے اپنا نام ظاہر نہ کرنے کی درخواست کی۔ اس وکیل نے بتایا کہ انہوں نے 25 جنوری سے 4 اپریل 2025 کے درمیان 5,93,240 روپے جمع کرائے، لیکن کوئی منافع حاصل نہ ہوا۔ ہاویری میں کم از کم 15 افراد اس دھوکہ دہی کا شکار ہوئے، جبکہ دیگر شہروں جیسے بنگلور، تماکورو اور منگلورو سے بھی ایسی ہی شکایات سامنے آئیں۔ مجموعی طور پر، 200 سے زائد افراد نے اس اسکیم میں سرمایہ کاری کی، جس سے ان کا مالی نقصان دو کروڑ روپے سے تجاوز کر گیا۔ متاثرین کے ناموں کی مکمل فہرست پولیس نے رازداری کے تحفظ کے لیے عام نہیں کی۔

کرناٹک  پولیس نے اس گھوٹالے کی تحقیقات شروع کر دی ہیں اور سائبر کرائم سیل کو اس کی ذمہ داری سونپی گئی ہے۔ پولیس کے مطابق، یہ ایک پیچیدہ سائبر کرائم ہے کیونکہ اس میں AI ٹیکنالوجی کا استعمال کیا گیا، جو جعلی ویڈیوز کو حقیقت سے قریب تر بناتی ہے۔ ملزمان کی شناخت اور گرفتاری کے لیے پولیس واٹس ایپ گروپس، ایپ ڈیٹا، اور بینکنگ ٹرانزیکشنز کا جائزہ لے رہی ہے۔ تاہم، AI سے بنائی گئی ویڈیوز کی وجہ سے ملزمان کا پتہ لگانا مشکل ہو رہا ہے کیونکہ یہ ٹیکنالوجی جعل سازوں کو اپنی شناخت چھپانے میں مدد دیتی ہے۔ پولیس نے لوگوں سے اپیل کی ہے کہ وہ نامعلوم سرمایہ کاری اسکیموں سے ہوشیار رہیں۔

یہ واقعہ اے آئی ٹیکنالوجی کے غلط استعمال کے بڑھتے ہوئے خطرات کی نشاندہی کرتا ہے، جو نہ صرف مالی نقصانات کا باعث بن رہا ہے بلکہ لوگوں کے اعتماد کو بھی متاثر کر رہا ہے۔ ماہرین کا کہنا ہے کہ ڈیپ فیک ویڈیوز اور AI سے تیار کردہ مواد کے خلاف عوام کو آگاہی دینے کی ضرورت ہے۔ کرناٹک کے وزیر پریانک کھرگے نے 2023 میں کہا تھا کہ ڈیپ فیک سے زیادہ غلط معلومات ایک بڑا خطرہ ہیں، لیکن یہ واقعہ ظاہر کرتا ہے کہ دونوں ہی سنگین مسائل ہیں۔ عوام کو مشورہ دیا جا رہا ہے کہ وہ کسی بھی سرمایہ کاری سے پہلے اس کی تصدیق کریں اور مشکوک ویب سائٹس یا ایپس پر ذاتی معلومات شیئر کرنے سے گریز کریں۔ پولیس نے ایک ہیلپ لائن نمبر بھی جاری کیا ہے تاکہ متاثرین رپورٹ کر سکیں اور مزید نقصان سے بچ سکیں۔

بھارت ایکسپریس۔

Rahmatullah

Recent Posts

Asian Games 2026: سیمی فائنل میں پہنچی ٹیم انڈیا، موسلادھار بارش کے باعث افغانستان کے خلاف کوارٹر فائنل منسوخ

شریئس ائیر کی کپتانی میں بھارتی ٹیم اب یکم اکتوبر کو دوسرا سیمی فائنل مقابلہ…

52 minutes ago

PM Modi Congratulates Indian Teams :چیس اولمپیاڈ میں سلور اور برونز میڈل جیتنے پر پی ایم مودی نے بھارتی ٹیم کو دی مبارکباد

میزبان ازبکستان نے آخری راؤنڈ میں یوکرین کو 2.5-1.5 سے شکست دے کر گولڈ میڈل…

2 hours ago