سپریم کورٹ کی ہدایت پر پیر کو مرادی روڈ بٹلہ ہاؤس کے متعدد مکانات کو تازہ نوٹس بھیجے گئے ہیں۔ رہائشیوں نے بتایا کہ یہ کیس نیا ہے کیوں کہ کھسرہ نمبر 279 کے مکانات کو نوٹس جاری کیے گئے ہیں۔ تازہ نوٹس کے مطابق وہاں موجود مکانات اور دکانیں ڈی ڈی اے کی اراضی پر بنائی گئی ہیں۔ اوکھلا ٹائمز کی رپورٹ کے مطابق ایک رہائشی نے بتایا کہ اس کا خاندان 1984 سے اس مکان میں مقیم ہے اور ان کے پاس جانے کے لیے کوئی دوسری جگہ نہیں ہے۔
اس سے پہلے کھسرہ نمبر 277 میں بھی ایسا ہی نوٹس لگایا گیا تھا۔ تاہم وہ معاملہ اس سے الگ ہے، کیوں کہ وہ نوٹس اترپردیش کے محکمہ آب پاشی کی طرف سے لگایا تھا۔ وہاں کے مکینوں نے بھی اس نوٹس کے خلاف عدالت کا رخ کرنے کا فیصلہ کیا ہے۔
حال ہی میں سپریم کورٹ نے دیا ہے حکم
واضح رہے کہ سپریم کورٹ نے مئی کے پہلے ہفتے میں دہلی ڈیولپمنٹ اتھارٹی (ڈی ڈی اے) کو اوکھلا گاؤں کے کھسرہ نمبر 279 میں 4 بیگھہ سے زیادہ سرکاری زمین پر پھیلے غیر قانونی ڈھانچوں کے خلاف کارروائی کرنے کی ہدایت دی تھی۔ جسٹس ابھے ایس اوکا اور اجل بھویان کی بنچ نے اتھارٹی سے کہا ہے کہ وہ تین ماہ کے اندر تعمیل کا حلف نامہ داخل کرے۔
بنچ نے کہا ’’ہم ڈی ڈی اے کو ہدایت دیتے ہیں کہ وہ 2 بیگھہ اور 10 بسواؤں کے رقبے میں غیر مجاز تعمیرات کے سلسلے میں قانون کے مطابق انہدام کی کارروائی کرے۔ ہم یہ واضح کرتے ہیں کہ جب ہم کہتے ہیں کہ قانون کے مطابق عمل کیا جائے تو، کسی بھی ڈھانچے کو گرانے سے پہلے متعلقہ افراد کو کم از کم 15 دن کا نوٹس دیا جائے۔‘‘
تازہ ترین نوٹس میں سپریم کورٹ کے اسی حکم کا حوالہ دیا گیا ہے اور کہا گیا ہے کہ مکانوں کو پندرہ دنوں کے اندر خالی کر دیں۔ نوٹس میں مکال خالی کرنے کی آخری تاریخ 11 جون بتائی گئی ہے اور کہا گیا ہے کہ انہدامی کارروائی اسی دن سے شروع کر دی جائے گی۔ اس نوٹس کے بعد علاقے کے رہائشی شدید پریشانی میں مبتلا ہو گئے ہیں۔
بھارت ایکسپریس اردو
اتر پردیش میں گریجویٹ کی 5 اور اساتذہ کے انتخابی حلقوں کی 6 نشستوں سمیت…
خلیج بنگال میں اٹھنے والے سمندری طوفان ’ارنب‘ کے پیش نظر مرکزی حکومت نے بھی…
ٹرمپ نے 3 نومبر کو ہونے والے امریکی وسط مدتی انتخابات سے پہلے ووٹروں کو…
ملک کی اہم اور مصروف ترین عدالتی اداروں میں شامل بامبے ہائی کورٹ میں ججوں…
مائیکروسافٹ کا یہ قدم ایسے وقت میں سامنے آیا ہے جب ٹیکنالوجی کمپنیاں مصنوعی ذہانت…
آئی آئی ٹی کانپور میں 29 اکتوبر سے یکم نومبر تک سالانہ ثقافتی میلہ ’انتراگنی…