قومی

Adani University ushers in industry-ready cohort with ‘Navdiksha 2025’: اڈانی یونیورسٹی نے “نو دِکشا 2025” کے ذریعے مستقبل کے لیے تیار طلبہ کا خیرمقدم کیا

احمد آباد:  — اڈانی یونیورسٹی نے پیر 21 جولائی 2025 کو اپنا تعلیمی آغاز پروگرام “نو دِکشا 2025” کا افتتاح کیا، جس کے تحت یونیورسٹی کے نمایاں مربوط B.Tech + MBA / M.Tech پروگرامز میں نئے طلبہ کا خیرمقدم کیا گیا۔ یہ تقریب متاثرکن کلیدی خطابات اور تزویراتی وژن سے مزین تھی، جس نے اس بات پر زور دیا کہ یونیورسٹی بھارت کے نوجوانوں کو مصنوعی ذہانت (AI)، پائیداری اور قوم کی تعمیر کے نئے صنعتی دور کے لیے تیار کرنے کے عزم پر کاربند ہے۔

حکومت کی قومی تعلیمی پالیسی (NEP) 2020 کے مطابق تیار کیے گئے یہ مربوط پروگرام اڈانی یونیورسٹی کے اس وژن کی عکاسی کرتے ہیں ،جو سائنسی فہم، کثیر شعبہ جاتی تعلیم اور حقیقی دنیا میں ٹیکنالوجی، توانائی اور انفراسٹرکچر کے میدان میں قیادت کو فروغ دیتا ہے۔

تقریب کے دوران عالمی سطح کے مفکرین جمع ہوئے، جن میں مشہور مینجمنٹ کنسلٹنٹ اور ہارورڈ یونیورسٹی کے سابق طالبعلم ڈاکٹر رام چرن اور اڈانی گروپ کے چیف ٹرانسفارمیشن آفیسر جناب سودیپتا بھٹاچاریہ شامل تھے۔ ان کی شرکت نے ادارے کے عالمی وژن اور قومی ترقی سے جڑت کو واضح کیا۔

اڈانی یونیورسٹی کے شعبہ سائنس کے ڈین  پروفیسر سنیل جھا نے افتتاحی خطاب میں “فزیکل AI” کے دور میں فزکس، کیمسٹری اور میتھمیٹکس کی بڑھتی ہوئی اہمیت پر روشنی ڈالی۔ انہوں نے بیجنگ سے NBDS کے سی ای او جنسن وونگ کی عالمی رہنمائی کا حوالہ دیتے ہوئے طلبہ پر زور دیا کہ وہ صرف کوڈنگ تک محدود نہ رہیں، بلکہ دنیا کی اصل میکانکس کو سمجھیں۔ “جب AI روبوٹکس اور آٹومیشن کے ساتھ مل رہا ہے، تو فزیکل قوانین کی سمجھ ہی کامیابی کی کنجی ہے۔”

ڈاکٹر رام چرن نے چھ دہائیوں پر محیط عالمی تجربے کی روشنی میں سادہ مگر گہرے خیالات پیش کیے: “اپنی خداداد صلاحیت کو پہچانیے، اس کے پیچھے خلوص سے چلیں، اور سیکھنے کا عمل کبھی نہ روکیں۔” انہوں نے طلبہ کو روزانہ غور و فکر کرنے، سوالات کرنے، اور یونیورسٹی کو مقصد اور خوشی کی تلاش کا میدان بنانے کا مشورہ دیا۔

ڈاکٹر روی پی سنگھ، پروووسٹ، اڈانی یونیورسٹی نے اپنے خطاب میں پورے بھارت سے آئے ہوئے طلبہ کا خیرمقدم کیا اور اس بات پر زور دیا کہ یہ مربوط پروگرام — کمپیوٹر سائنس سے لے کر انرجی انجینئرنگ تک — انہیں حقیقی دنیا میں اثر ڈالنے کے لیے تیار کرتے ہیں۔ “چاہے آپ کی دلچسپی AI ہو، پائیداری ہو یا انفراسٹرکچر، آپ صحیح وقت پر، صحیح جگہ پر ہیں،” ۔ انہوں نے طلبہ کو چیلنج کیا کہ وہ دوسروں کی تقلید کرنے کے بجائے اپنی الگ راہ خود بنائیں اور سیکھنے کو قوم کی خدمت کا ذریعہ سمجھیں۔

جناب بھٹاچاریہ نے مستقبل کا ایک زبردست نقشہ پیش کیا۔ انہوں نے AI انقلاب کو انسانی فہم کو چیلنج کرنے والی پہلی صنعتی تبدیلی قرار دیا اور طلبہ کو نڈر، متجسس اور اختراعی بننے کی تلقین کی۔ “مشینیں اب سوچ سکتی ہیں، مگر صرف انسان ہی یقین، تعاون اور مقصد کے ساتھ تخلیق کر سکتے ہیں،” ۔ انہوں نے اڈانی گروپ کی جاری 90 ارب ڈالر کی سرمایہ کاری کو ٹیکنالوجی اور انفراسٹرکچر کے شعبے میں مستقبل کے پیشہ ور افراد کے لیے ایک بڑی موقع قرار دیا۔

آخر میں ڈاکٹر امیش کمار ویاس، رجسٹرار، اڈانی یونیورسٹی نے پرجوش شکریہ ادا کرتے ہوئے کہا کہ یہ نیا بیچ جو توانائی اور قابلیت لے کر آیا ہے، وہ ادارے کے مستقبل کو روشن بنائے گا۔

بھارت ایکسپریس اردو

Abu Danish Rehman

Recent Posts

India v Afghanistan Second T20: دوسرا ٹی20، سنجو-ابھیشیک کی 88 رن کی طوفانی شراکت، بھارت نے افغانستان کو 7 وکٹ سے دی شکست

سیریز کا آخری مقابلہ 17 ستمبر کو اسی میدان پر کھیلا جائے گا۔ ٹاس ہار…

8 hours ago

Freedom from Enslavement to Technology: ٹیکنالوجی کی غلامی سے آزادی، کیا ہے بھارت کا ’ڈی- ویپنائزنگ ٹیکنالوجی‘ منصوبہ اور ڈی پی آئی ماڈل؟

یو پی آئی، ڈیٹا پروٹیکشن قانون اور سیمی کنڈکٹر مشن کے ذریعے بھارت ڈیجیٹل خودمختاری…

9 hours ago