نمایاں قابلِ تجدید توانائی کمپنی اڈانی گرین انرجی نے اپنے تمام توسیعی منصوبوں کو 2030 تک 50 گیگاواٹ پیداواری صلاحیت کے ہدف کے مطابق ڈھالنے کا فیصلہ کیا ہے۔ کمپنی کے ایگزیکٹو ڈائریکٹر ساگر اڈانی نے بدھ کے روز اس بات کی تصدیق کرتے ہوئے کہا کہ ہر نئی صلاحیت کا اضافہ اسی طویل مدتی ہدف کو مدنظر رکھ کر کیا جا رہا ہے۔ریزِیلینٹ فیوچرز سمٹ 2026 کے موقع پر میڈیا سے گفتگو کرتے ہوئے انہوں نے بتایا کہ کمپنی اپنی ترقی کی حکمت عملی کو مرحلہ وار مگر تیز رفتار انداز میں آگے بڑھا رہی ہے تاکہ مقررہ ہدف بروقت حاصل کیا جا سکے۔ ان کے مطابق اس وقت کمپنی کی نصب شدہ قابلِ تجدید توانائی کی صلاحیت تقریباً 20 گیگاواٹ تک پہنچ چکی ہے، جسے 2030 تک بڑھا کر 50 گیگاواٹ کرنے کا منصوبہ ہے۔
ساگر اڈانی نے اس بات پر بھی زور دیا کہ گوتم اڈانی کی قیادت میں اڈانی گروپ نے بھارت کے توانائی منتقلی (انرجی ٹرانزیشن) کے لیے 100 ارب ڈالر سے زائد سرمایہ کاری کا اعلان کیا ہے، جو عالمی سطح پر نجی شعبے کی بڑی سرمایہ کاریوں میں شمار ہوتی ہے۔ انہوں نے کہا کہ یہ سرمایہ کاری نہ صرف قابلِ تجدید توانائی بلکہ دیگر توانائی ذرائع اور بنیادی ڈھانچے کی ترقی میں بھی اہم کردار ادا کرے گی۔انہوں نے مزید بتایا کہ کمپنی شمالی گجرات کے خواڈا علاقے میں دنیا کا سب سے بڑا ایک ہی مقام پر قائم ہونے والا قابلِ تجدید توانائی پارک تیار کر رہی ہے۔ یہ میگا پروجیکٹ 30 گیگاواٹ صلاحیت کا حامل ہوگا اور 538 مربع کلومیٹر کے وسیع رقبے پر پھیلا ہوگا، جو سائز کے لحاظ سے پیرس میٹروپولیٹن ایریا سے تقریباً پانچ گنا بڑا ہوگا۔ساگر اڈانی کے مطابق کمپنی صرف قابلِ تجدید توانائی منصوبوں تک محدود نہیں بلکہ ٹرانسمیشن نیٹ ورک، تھرمل پاور پلانٹس اور ملک میں دستیاب دیگر توانائی ذرائع میں بھی سرمایہ کاری کر رہی ہے، تاکہ توانائی کے شعبے میں ایک متوازن اور مضبوط نظام قائم کیا جا سکے۔
حکومتی پالیسیوں کے حوالے سے انہوں نے کہا کہ قابلِ تجدید توانائی کے شعبے کو حکومت کی جانب سے مضبوط حمایت حاصل رہی ہے، جس کے نتیجے میں گزشتہ سال اس شعبے میں ریکارڈ 55 گیگاواٹ صلاحیت کا اضافہ ممکن ہوا۔ ان کے مطابق پالیسی میں تسلسل اور واضح سمت ہی کسی بھی معیشت کو مضبوط اور لچکدار بنانے کا بنیادی ذریعہ ہوتی ہے۔آبنائے ہرمز کی صورتحال پر بات کرتے ہوئے انہوں نے کہا کہ یہ عالمی سطح پر تشویش کا باعث ضرور ہے، تاہم بھارتی حکومت نے اس معاملے کو مؤثر طریقے سے سنبھالا ہے اور اس کا بوجھ عوام پر نہیں پڑنے دیا۔اپنے خطاب میں انہوں نے مزید کہا کہ بھارت میں پالیسی سازی کا رخ واضح، مستقل اور عمل درآمد پر مبنی رہا ہے، جس نے انفراسٹرکچر کی ترقی، قابلِ تجدید توانائی میں توسیع اور طویل مدتی سرمایہ کاری کو فروغ دینے میں اہم کردار ادا کیا ہے۔ ان کے مطابق یہی تسلسل مستقبل میں توانائی کے شعبے کو مزید مستحکم بنائے گا۔