ہفتہ کے روز اتر پردیش کے پرتاپ گڑھ ضلع میں نویں کلاس کی ایک طالبہ کو اس کے کمرے میں لٹکا ہوا پایا گیا۔ پولیس نے بتایا کہ مبینہ طور پر کالج انتظامیہ نے بقایا فیس کے سبب اسے ذلیل کیا تھا اور سالانہ امتحان میں شرکت سے روک دیا تھا۔ اس واقعے سے دلبرداشتہ ہو کر طالبہ نے یہ انتہائی قدم اٹھایا اور خودکشی کر لی۔
طالبہ کی ماں پونم دیوی کی طرف سے درج کرائی گئی شکایت کے مطابق کملا شرن یادو انٹر کالج کی طالبہ ریا پرجاپتی (17) کو 800 روپے کی بقایا فیس کی وجہ سے سالانہ امتحان کا داخلہ کارڈ دینے سے منع کر دیا گیا تھا۔ انھوں نے کہا کہ جب وہ ہفتے کے روز امتحان دینے کے لیے گئی تو ان کی بیٹی کو کالج کے منیجر سنتوش کمار یادو، پرنسپل راجکمار یادو، عملے کے رکن دیپک سروج، چپراسی دھنیرام اور ایک ٹیچر نے ذلیل کیا۔
پولیس نے مقدمہ درج کیا
ایڈیشنل سپرنٹنڈنٹ آف پولیس (ایسٹ) درگیش کمار سنگھ نے درج شکایت کا حوالہ دیتے ہوئے کہا کہ لڑکی کو امتحان میں بیٹھنے کی اجازت نہیں دی گئی اور اسے گھر واپس جانے کے لییے کہا گیا۔ پولیس نے بتایا کہ تذلیل سے دلبرداشتہ ریا گھر واپس آئی اور ایک کمرے میں خود کو پھانسی دے کر خودکشی کر لی۔ شکایت کنندہ نے یہ بھی الزام لگایا کہ کالج کے عملے نے اس کی بیٹی کا مستقبل تباہ کرنے کی دھمکی دی تھی، جس کی وجہ سے اس نے خودکشی کی۔ پولیس نے بتایا ہے کہ اس معاملے میں مقدمہ درج کر لیا گیا ہے اور تفتیش جاری ہے۔ ساتھ ہی طالبہ کی لاش کو پوسٹ مارٹم کے لیے بھیج دیا گیا ہے۔
بھارت ایکسپریس اردو
کچھ دن پہلے دارالعلوم دیوبند نے طلباء کے لیے ایک نیا گائیڈ لائن جاری کیا…
شیو سینا (یو بی ٹی) سربراہ ادھو ٹھاکرے نے اتوار کو کہا کہ وقف ترمیمی…
سری لیلا کو ایک مداح نے زبردستی کھینچ لیا، اتوار (6 اپریل) کو پاپرازی انسٹاگرام…
شمالی انگلینڈ میں شیفیلڈ سینٹرل کی ایم پی ابتسام محمد اور جنوب مشرقی انگلینڈ کے…
وزیر اعظم مودی نے اپنی ’پڑوسی پہلے‘ پالیسی کو دہرایا اور میانمار میں حالیہ زلزلے…
پولیس اسٹیشن صدر راج پورہ کے ڈی ایس پی رشیندر سنگھ نے کہا کہ واقعہ…