چھتیس گڑھ کا ضلع کانکر جو ماضی میں بائیں بازو کی انتہا پسندی سے متاثر رہا ہے، آج ترقی، عوامی شراکت داری اور بھرپور حکومتی مداخلت کی بدولت تبدیلی کی علامت بن چکا ہے۔ اس ضلع کو حکومتِ ہند کے Aspirational Districts Programme کے تحت منتخب کیے گئے 112 اضلاع میں شامل کیا گیا تھا۔ سودیش سنگھ، جو حال ہی میں کانکر کے دورے پر گئے تھے، اپنے آرٹیکل میں لکھتے ہیں کہ ’’کانکر تبدیلی کی ایک زندہ لیبارٹری ہے—مرکوز حکمرانی، سماجی شمولیت اور مسلسل عمل درآمد کی ایک روشن مثال ہے۔‘‘
دھرتی آبا مہم: قبائلی علاقوں میں فلاحی اسکیموں کی بھرپور رسائی
وزارتِ قبائلی امور کی جانب سے 15 جون کو ’’دھرتی آبا جن بھاگیداری ابھیان‘‘ کا آغاز کیا گیا، جو بھگوان برسا منڈا کی 150ویں یومِ پیدائش کی یاد میں شروع کیا گیا۔ 17 جون تک یہ مہم کانکر کے دور دراز قبائلی علاقوں میں فعال ہو چکی تھی۔ سودیش سنگھ کے مطابق ’’یہ مہم ایک benefit saturation ماڈل پر مبنی ہے، جس کا مقصد یہ یقینی بنانا ہے کہ کوئی بھی قبائلی گھرانہ حکومتی فلاحی اسکیم سے محروم نہ رہے۔‘‘ تقریباً 300 افراد پر مشتمل ایک ورکشاپ میں مختلف محکموں نے اسٹالز لگا کر لوگوں کی آن اسپاٹ رجسٹریشن کی۔ مزید برآں سرکاری افسران گھروں تک جا کر لوگوں سے رابطہ کر رہے ہیں۔
فیلڈ ڈیٹا اور مقامی مشاہدات
ڈیولپمنٹ ایویلیوایشن سوسائٹی آف انڈیا کے فیلڈ انویسٹی گیٹرز، پرمیشور کشیپ اور رادھیکا نائک، 150اہلکاروں کے ہمراہ 36 مرکزی اسکیموں کے تحت محروم قبائلی خاندانوں کی شناخت کر رہے ہیں۔ ان کی رپورٹ کے مطابق پردھان منتری آواس یوجنا، کسان سمان ندھی، اجولا یوجنا، پنشن اسکیمیں اور سوچھ بھارت مشن کے تحت بھرپور رسائی حاصل ہوئی ہے، تاہم ’ہر گھر جل‘ اسکیم میں کچھ خامیاں دیکھی گئیں۔
سودیش سنگھ نے آمودا، انجنی، بانس پتھر، اور تھیگا جیسے گاؤں کا دورہ کیا جہاں زیادہ تر دیہات ODF یعنی کھلے میں رفع حاجت سے پاک قرار دیے جا چکے ہیں۔ تاہم، کمزور موبائل کنیکٹیوٹی کی شکایت عام تھی، جو DBT یعنی ڈائریکٹ بینیفٹ ٹرانسفر سے جڑی اسکیموں میں رکاوٹ بن رہی ہے۔ وہیں ایک مقامی سماجی کارکن کے مطابق ’’شیڈیولڈ کاسٹ (SC) طبقہ فلاحی اسکیموں کا بہتر استعمال کر رہا ہے، جب کہ شیڈیولڈ ٹرائبز (ST) باوجود خصوصی توجہ کے اکثر نظر انداز ہو جاتے ہیں۔‘‘
ڈپٹی کمشنر کی قیادت اور اختراعی اقدامات
دریں اثنا ڈسٹرکٹ مجسٹریٹ نیلیش کمار کشرساگر نے پرانے سرکاری عمارت کو ایک مرکزی لائبریری میں تبدیل کیا ہے جو مقامی نوجوانوں کے لیے علم کا مرکز بن چکی ہے۔ ان کی قیادت میں متعدد اسکیمیں کامیابی سے چل رہی ہیں۔ انھوں نے بتایا کہ ’’کانکر میں کئی اسکیمیں غیرایسپائریشنل اضلاع سے بہتر کارکردگی دکھا رہی ہیں۔‘‘
ابھرتا ہوا نیا مڈل کلاس طبقہ
سودیش سنگھ نے عالمی اداروں کے اعداد و شمار کا حوالہ دیتے ہوئے بتایا کہ ورلڈ بینک کے مطابق گزشتہ دہائی میں 270ملین بھارتی غربت سے باہر آئے ہیں۔ وہیںILO کے مطابق اب 64 فیصد آبادی کسی نہ کسی سوشل سیکیورٹی نیٹ میں شامل ہے، جو 2019 میں صرف 24 فیصد تھی۔ لہٰذا کانکر کی کہانی اس تبدیلی کی مظہر ہے جہاں گورننس، شمولیت اور ترقی نے ایک پسماندہ ضلع کو ترقی یافتہ ماڈل میں بدل دیا ہے۔
بھارت ایکسپریس اردو
شمال مشرقی ایران کے شہر مشہد سے یہ طیارہ کرمان شاہ کے لیے روانہ ہوا…
یمن میں حوثی باغیوں نے سعودی حمایت یافتہ فورسز کے خلاف لڑائی کی ایک ویڈیو…
آئی ایم ڈی کے مطابق منگل (15 ستمبر) کو دہلی کے کچھ علاقوں میں بونداباندی…
وزیر اعظم نریندر مودی کے 25 سالہ عوامی خدمت کے سفر کے موقع پر 17…
یورپی کمیشن کی صدر نے سعودی عرب کے خلاف حوثی حملے کی مذمت کرتے ہوئے…
سیریز کا آخری مقابلہ 17 ستمبر کو اسی میدان پر کھیلا جائے گا۔ ٹاس ہار…