قومی

Owaisi Targets Central Govt on SIR: ’’ایس آئی آر کے ذریعے 6.5 کروڑ نام کاٹے گئے…غریب مسلمانوں کا حقِ رائے دہی چھیننے کی تیاری…‘‘، اسدالدین اویسی کا مرکزی حکومت پر نشانہ

حیدرآباد: آل انڈیا مجلس اتحاد المسلمین (اے آئی ایم آئی ایم) کے صدر اور حیدرآباد کے رکن پارلیمان اسدالدین اویسی نے بدھ کے روز الزام عائد کیا کہ ووٹر فہرستوں کی اسپیشل انٹینسیو ریویژن (ایس آئی آر) کا استعمال ایسے بھارتی شہریوں کا ایک مستقل طبقہ تیار کرنے کے لیے کیا جا رہا ہے جنہیں انتخابی عمل سے باہر کر دیا گیا ہے۔

13 ریاستوں میں 6.5 کروڑ نام حذف ہونے کا دعویٰ

اسدالدین اویسی نے دعویٰ کیا کہ 13 ریاستوں اور مرکز کے زیر انتظام علاقوں میں ایس آئی آر کے تحت ووٹر فہرستوں سے تقریباً 6.5 کروڑ نام حذف کر دیے گئے ہیں۔ انہوں نے سوشل میڈیا پلیٹ فارم ایکس پر ایک پوسٹ میں مرکزی حکومت کو تنقید کا نشانہ بناتے ہوئے کہا کہ حکومت اب ان حذف شدہ ناموں کی جانچ کے لیے ایک کمیٹی تشکیل دینے اور مبینہ غیر قانونی تارکینِ وطن کی شناخت، حراست اور ملک بدری کے لیے مستقل نظام قائم کرنے کی تجویز پیش کر رہی ہے۔

اویسی نے اپنی پوسٹ میں لکھا، ’’مرکزی حکومت نے پہلے دستاویزی بنیادوں پر ایس آئی آر نافذ کیا، جس کے نتیجے میں 13 ریاستوں اور مرکز کے زیر انتظام علاقوں کی ووٹر فہرستوں سے تقریباً 6.5 کروڑ نام حذف کر دیے گئے۔ اب وہ انہی حذف شدہ ناموں کی جانچ کے لیے ایک کمیٹی بنانا چاہتی ہے اور غیر قانونی تارکینِ وطن کی شناخت، حراست اور ملک بدری کے لیے مستقل نظام تیار کرنا چاہتی ہے۔‘‘ انہوں نے کہا کہ ایس آئی آر کا استعمال ان بھارتیوں کا مستقل طبقہ بنانے کے لیے کیا جائے گا جنہیں ووٹر لسٹ سے باہر کر دیا گیا ہے۔

ایس آئی آر اور شہریت کا معاملہ

اویسی نے کہا کہ غریب طبقے کے پاس ووٹ کا حق ہی طاقتور طبقات کے خلاف ان کا سب سے مؤثر ہتھیار ہے۔ انہوں نے کہا، ’’اس کے بغیر حکومت ان کے ساتھ جو چاہے گی، وہ کرے گی۔ ہم پہلے ہی ایسی خبریں دیکھ رہے ہیں کہ لوگوں کو سرکاری فلاحی اسکیموں کے فوائد حاصل نہیں ہو رہے۔‘‘ رکنِ پارلیمان نے کہا کہ قانون کے مطابق ایس آئی آر کے تحت کسی شخص کا نام ووٹر فہرست سے حذف ہونے کا مطلب یہ نہیں کہ وہ بھارتی شہری نہیں ہے۔ ان کے مطابق تقریباً 27 لاکھ افراد اب بھی جانچ کے دائرے میں ہیں اور ان میں سے کئی لوگ فارم نمبر 6 کے ذریعے دوبارہ ووٹر کے طور پر رجسٹریشن کے لیے درخواست دے سکتے ہیں۔

مسلمانوں کے متاثر ہونے کا دعویٰ

اویسی نے الزام لگایا کہ الیکشن کمیشن نے اب تک یہ اعداد و شمار جاری نہیں کیے کہ کتنے افراد کو غیر ملکی قرار دے کر فہرست سے باہر کیا گیا۔ انہوں نے کہا کہ دستیاب معلومات سے ظاہر ہوتا ہے کہ ایس آئی آر کے باعث متاثر ہونے والوں میں اکثریت مسلمانوں، خواتین، غریبوں اور مہاجر مزدوروں کی ہے۔ اویسی نے مزید کہا کہ حکومت کے اپنے اعداد و شمار کے مطابق ملک کی آبادی اور شرحِ افزائش مستحکم ہو چکی ہے اور مجموعی شرحِ تولید 2.0 تک پہنچ گئی ہے۔ انہوں نے سوال اٹھایا، ’’اگر صورتحال ایسی ہے تو پھر اس کمیٹی کی ضرورت کیوں پیش آ رہی ہے؟ کیا صرف اس لیے کہ مسلمانوں کے خلاف شکوک و شبہات اور خوف کا ماحول برقرار رکھا جا سکے؟‘‘

حکومت پر کاغذی کارروائی بڑھانے کا الزام

اویسی نے مرکزی حکومت پر عوام کو مسلسل کاغذی کارروائیوں میں الجھانے کا الزام بھی عائد کیا۔ انہوں نے کہا، ’’اس حکومت کو بھارتی شہریوں کا وقت دستاویزات جمع کرانے میں ضائع کروانا بہت پسند ہے۔ کبھی کے وائی سی، کبھی ایس آئی آر اور کبھی کسی پورٹل پر دستاویزات اپ لوڈ کرنے کی شرط عائد کر دی جاتی ہے، لیکن یہی حکومت ایک عام امتحان بھی مؤثر انداز میں منعقد نہیں کر پاتی۔‘‘ انہوں نے مزید کہا کہ عام لوگوں کی جانچ حکومت کرتی ہے، لیکن حکومت کی جانچ ہم نہیں کر سکتے۔

بھارت ایکسپریس۔

Md Hammad

Recent Posts

Bharat Express Urdu Conclave: اردو کو رسم الخط میں نہ باندھو، یہ دلوں کی زبان ہے، بزمِ صحافت میں بولے شاہد صدیقی

اپنی پرانی یادیں تازہ کرتے ہوئے شاہد صدیقی نے بتایا کہ وہ اردو اخبارات کے…

37 minutes ago

11th Whiteswan Responsible Art Festival: 11واں وائٹ سوان آرٹ فیسٹیول: کتھک رقاصہ سنیہا مکھرجی نے مسحور کن پیشکش سے باندھا سماں

سنیہا مکھرجی نے کلیان ٹھات میں رام استوتی اور راگ کلاوتی میں ترانہ پیش کیا،…

2 hours ago