فائل فوٹو۔ (تصویر: پی ٹی آئی)
سنبھل میں جمعہ کے دن پولیس نے دہلی سے تعلق رکھنے والے تین لوگوں کو سنبھل کی شاہی جامع مسجد میں ہون اور پوجا سمیت دیگر ہندو رسومات ادا کرنے کی مبینہ کوشش کے الزام میں حراست میں لے لیا۔ حکام نے بتایا کہ انتظامیہ نے نماز جمعہ کی وجہ سے پہلے ہی مسجد میں سخت سیکیورٹی تعینات کر رکھی تھی۔ پولیس سپرنٹنڈنٹ کرشنا کمار بشنوئی نے حراست کی تصدیق کرتے ہوئے کہا ’’تین افراد ایک کار کے ذریعے پہنچے اور انھیں متنازعہ مقام کے قریب سے حراست میں لے لیا گیا۔ انھیں پولیس اسٹیشن بھیج دیا گیا ہے اور امن عامہ کو خراب کرنے پر ان کے خلاف کارروائی کی جائے گی۔ انھیں مستقبل میں سنبھل میں داخل نہ ہونے کی تنبیہ بھی کی جائے گی۔‘‘
گرفتار ہونے والوں نے کہیں یہ باتیں
دی نیو انڈین ایکسپریس کی خبر کے مطابق حراست میں لیے گئے افراد میں سے ایک سناتن سنگھ نے دعویٰ کیا ’’ہم وشنو ہری ہر مندر میں ہون اور یگنا کرنے آئے تھے، لیکن پولیس نے ہمیں گرفتار کر لیا۔ اگر وہاں نماز پڑھی جا سکتی ہے تو ہم پوجا کیوں نہیں کر سکتے؟‘‘ ایک اور شخص ویر سنگھ یادو نے کہا کہ ہم سنبھل مسجد میں پوجا کرنے آئے تھے لیکن پولیس نے ہمیں روک دیا۔ تیسرے شخص انل سنگھ نے کہا ہے کہ ’’جب ہمیں حراست میں لیا گیا تو ہم ہری ہر مندر میں ہون کے لیے جا رہے تھے۔‘‘
پولیس نے اس بات پر زور دیا ہے کہ فرقہ وارانہ ہم آہنگی میں خلل ڈالنے کی کسی بھی کوشش سے سختی سے نمٹا جائے گا۔ گزشتہ سال 24 نومبر کو ہوئے تشدد میں چار افراد ہلاک ہو گئے تھے جب مقامی لوگوں نے شاہی جامع مسجد کے سروے کے خلاف احتجاج کیا تھا۔ عدالت نے ایک عرضی کی سماعت کرتے ہوئے سروے کا حکم دیا تھا جس میں دعویٰ کیا گیا تھا کہ مسجد ایک منہدم ہندو مندر کے اوپر بنائی گئی ہے۔
بھارت ایکسپریس اردو
پونم نے جمعرات کو اپنے انسٹاگرام اکاؤنٹ پر ایک بیان جاری کرتے ہوئے لکھا، ’’کافی…
اتر پردیش اور بہار سمیت 17 ریاستوں اور مرکز کے زیر انتظام علاقوں میں ووٹر…
دہلی پولیس کی ڈی سی پی پی آر او نیہا یادو نے بتایا کہ این…
موبائل پر کال آتے ہی دکھائی دے گا کال کرنے والے کا نام، نئے نظام…
547 مقدمات درج، 182 کروڑ روپے سے زائد کی منشیات ضبط ہوئی ہیں اور منشیات…
راہل گاندھی کی حامی نیہا بورا نے کہا کہ ’بنگلہ دیش نے ہمیں ایک راستہ…