الہ آباد ہائی کورٹ نے متھرا شاہی عیدگاہ کو متنازعہ ڈھانچہ قرار دینے سے انکار کردیا ہے۔
اتر پردیش کے متھرا میں واقع شاہی عیدگاہ مسجد کی انتظامی کمیٹی نے گزشتہ ماہ الہ آباد ہائی کورٹ کے اس حکم کے خلاف سپریم کورٹ کا رخ کیا ہے جس میں آرکیالوجیکل سروے آف انڈیا اور مرکزی حکومت کو جاری مقدمے میں فریق بنانے کی اجازت دی گئی تھی۔ شاہی عیدگاہ 13.37 ایکڑ کے احاطے میں واقع ہے، جس میں کٹرا کیشو دیو مندر بھی ہے۔ ہندوؤں نے دعویٰ کیا ہے کہ مسجد ایک مندر کو گرا کر اس جگہ بنائی گئی ہے جہاں دیوتا کرشنا کی پیدائش ہوئی تھی۔
5 مارچ کو الہ آباد ہائی کورٹ نے ایک ہندو مدعی کی طرف سے آرکیالوجیکل سروے آف انڈیا اور مرکز کو فریقین کے طور پر شامل کرنے کی درخواست پر اس کی اجازت دی دی تھی۔ بار اینڈ بنچ کی خبر کے مطابق مدعی نے دعوی کیا کہ زیر بحث عمارت آرکیالوجیکل سروے آف انڈیا کے تحت ایک محفوظ یادگار ہے اور اسے مسجد کے طور پر استعمال نہیں کیا جا سکتا۔ اسی کی مخالفت میں مسجد کمیٹی نے سپریم کورٹ کا رخ کیا ہے۔
مدعی نے دلیل دی کہ عبادت گاہوں سے متعلق 1991 کا قانون اس عمارت پر لاگو نہیں ہوگا۔ 1991 کا قانون کے کسی عبادت گاہ کی جو حیثیت آزادی کے دن تھی، اس حیثیت کو بدلا نہیں جا سکتا۔ ہائی کورٹ کے حکم کے خلاف مسجد کمیٹی کے سپریم کورٹ جانے کے بعد چیف جسٹس سنجیو کھنہ اور جسٹس سنجے کمار اور کے وی وشواناتھن کی بنچ نے ہندو درخواست گزاروں کو نوٹس جاری کیا ہے۔ تاہم عدالت نے زبانی طور پر کہا کہ پہلی نظر میں کورٹ کا حکم درست معلوم ہوتا ہے۔ اس معاملے کی مزید سماعت 8 اپریل کو ہوگی۔ مسجد کمیٹی نے اپنی عرضی میں کہا ہے کہ آرکیالوجیکل سروے اور مرکز کو فریقین کے طور پر شامل کرنے کی درخواست مسلم فریق کے دفاع کی نفی کرنے کی کوشش ہے۔
بھارت ایکسپریس اردو
کم عمری کی شادی جیسے سماجی مسئلے پر بننے والے مقبول ٹی وی سیریل نے…
بی جے پی کی 4 یاترائیں 117 اسمبلی حلقوں سے گزرتے ہوئے جالندھر میں ہوں…
بہار قانون ساز کونسل انتخابات کے لیے جن سوراج نے 3 امیدواروں کے ناموں کا…
نئی دہلی کے تین مورتی حائفہ چوک پر حائفہ فتح کی 108ویں سالانہ یادگاری تقریب…
کانگریس لیڈر نے انتخابی فہرستوں کی خصوصی نظرثانی اور انتخابی کمیشن کے اندر اختلافِ رائے…
ٹی ایم سی کی رکن پارلیمنٹ نے انتخابی کمیشن کے فیصلوں میں طریقۂ کار کی…